TAZEEN AKHTAR

۔جب70 فیصد امیدوار ہی نااہل ہوجائیں گے تو الیکشن کیسے ہونگے؟معاہدہ سے مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ مزید سنگین ہو گیا ۔

اسلام آباد (تزئین اختر ) ڈاکٹر طاہر القادری اور حکومت کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس سے مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ مزید سنگین ہو گیا ہے ۔ بظاہر دونوں فریقوں نے مل کر مسئلہ سلجھا لیا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کو خراج تحسین بھی پیش کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ جیسے حکومتی ٹیم نے بھی بڑا کام کر دیا ہے مگر اصل صورتحال یہ ہے کہ حکومت ہار گئی ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا ہے اس طرح اس معاہدے کے واحد فاتح ڈاکٹر طاہر القادری ہیں جنہوں نے حکومتی لوگوں سے اپنا مقصد بھی حاصل کر لیا اور لانگ مارچ دھرنے کو ملکی تاریخ کا پہلا بڑا اور منظم پر امن لانگ مارچ و دھرنا تسلیم بھی کرا لیا ۔

حکومت بے شک چلی جائے، جمہوریت رہے گی، حقیقی جمہوریت ، سپریم کورٹ کے فیصلے نے صورتحال بدل کر رکھ دی، ڈاکٹر طاہرالقادری کے اسمبلیاں توڑنے کے مطالبے اور دھرنے کا زور ٹوٹ گیا

ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دیئے بیٹھا ہے اور اگر یہ دھرنا رات تک ختم نہ ہوا تو آج اسے دو راتیں اور دو دن ہو جائیں گے تعداد جتنی بھی ہو مارچ انہوں نے کر لیا اور دھرنا انہوں نے دے دیا ۔ بات انہوں نے کر لی اور کیفیت انہوں نے بنا دی اس لحاظ سے تعداد سے قطع نظر وہ مارچ کی حد تک تو کامیاب رہے اور ان کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت حکومت و اپوزیشن کے رہنماؤں کے بیانات اقدامات اور تنقید کے وہ نشتر ہیں جو وہ کئی دنوں سے ڈاکٹر قادری پر چلا رہے ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس مارچ نے ان کو کتنا ٹینشن دیا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ کہ کیا وہ اپنے مطالبات بھی منوا سکیں گ

مارچ ابھی راستے میں ہوگا تو بیچ بچاؤ شروع کرایا جاچکا ہوگا۔ بات اب 4 نکات کی ہے۔ وہ کیا ہیں؟ ان میں کتنے مانے جاتے ہیں اور کتنے قادری صاحب واپس لے لیتے ہیں

تحریک منہاج القرآن کے رہنماڈاکٹرطاہرالقادری کی زیرقیادت لانگ مارچ آج صبح9بجے لاہورسے شروع ہورہاہے۔ڈاکٹرصاحب نے اس مارچ کے لئے23دسمبرکومینارپاکستان لاہورمیں ایک بڑے جلسہ عام سے اپنی تحریک کاآغازکیااوریہ مانناپڑے گاکہ صرف تین ہفتے کی مختصرمدت میں انہوں نے پورے ملک میں یہ نعرہ متعارف کرادیاکہ ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘۔

کیوبا کے نوجوانوں پر مشتمل میوزک گروپ کی پہلی بار پاکستان آمد۔ لاہور اور اسلام آباد میں متعدد مقامات پر فن کا مظاہرہ۔

کہتے ہیں موسیقی دلوں کو چُھو لیتی ہے اور یہ روح کی غذا ہے۔ دوسری بات ہے کہ اس کی کوئی سرحد نہیں۔ گویا یہ انسانیت کی ایک مشترکہ قدر اور میراث ہے۔ آج جبکہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے یہ بات اور بھی کھل کر سامنے آئی ہے۔ اب موسیقی عالمی سفارتکاری میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور بعض اوقات تو بڑے پیچیدہ معاملات بھی حل کرانے کی وجہ بن جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے لوگ یہ بات زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جہاں دونوں کے گلوکار دونوں ملکوں میں سنے جاتے ہیں۔ البتہ دونوں ملکوں میں زبان ایک ہے تاہم زبان ایک نہ ہو تو بھی موسیقی اپنا اثر رکھتی ہے اور اس کا مظاہرہ کیوبا سے آئے ہوئے جاز گروپ

Ministry of Climate Change is about to contact Prime Minister for taking likewise departments under one system that would be either the ministry or National Disaster Management Authority (NDMA).

Islamabad; Dec 19 (Tazeen Akhtar): Ministry of Climate Change is about to contact Prime Minister for taking likewise departments under one system that would be either the ministry or National Disaster Management Authority (NDMA). These departments are Civil Defense in the Ministry of Interior, MET office, Earthquake Rehabilitation Authority ERRE and Disaster Relief Cell.

یورپ میں یہودی اور مسلمان مل کر کام کر رہے ہیں ۔ وہاں ہزاروں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں مگر صرف اپنی تحقیق کی وجہ سے ہمارا طرز عمل انہیں متاثر نہیں متنفر کرتا ہے، باشی قریشی۔ اسرائیل والے ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں، تزئین اختر، بیداری فکر فورم

اسلام آباد ( نمائندہ ) ڈنمارک کوپن ہیگن سے آئے ہوئے پاکستانی دانشور باشی قریشی نے کہا ہے کہ یورپ میں ہزاروں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود ہمیں اسلام اور پاکستان کا صحیح تشخص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسلام قبول کرنے والے اپنی تحقیق کر کے مسلمان ہو رہے ہیں جبکہ جو مسلمان ہیں ان کا طرز عمل غیر مسلموں کو متاثر کرنے والا نہیں بلکہ متنفر کرنے والا ہے ۔ اس لیے یورپ میں مسلمانوں کوا پنا برتاؤ اور رویئے درست کرنا ہوں گے بصورت دیگر مغربی ممالک میں پایا جانے والا ’اسلاموفوبیا‘ ختم کیا جا سکے گا نہ پاکستان کا معتدل اور نرم تصور اجاگر ہو سکے گا۔ باشی قریشی راولپنڈی کے رہائ

Pages

Subscribe to RSS - TAZEEN AKHTAR