’’ سیف سٹی ‘‘۔۔۔اسلام آباد۔۔۔کیا واقعی محفوظ ہے؟ایس پی کا اغواء اور قتل۔۔یہاں کوئی محفوظ نہیں

Founder Editor Tazeen Akhtar..
 :اندر کی بات ...اصغر علی مبارک  
 
ااسلام آباد ’سیف سٹی‘ پولیس اور سول انتظامیہ وفاقی دارالحکومت محفوظ بنانے میں ناکام ھوچکی ھے  اسلام آباد سے اغوا  ہونے والے  سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان داوڑ،کو  جو پشاور پولیس کے دیہی سرکل کے سربراہ تھے،ان  کو 26 اکتوبر کو اسلام آباد کے علاقے جی-10 سے اغوا کیا گیا پاکستان ہر شہری سوال اٹھا رھا کہ کس طرح اغوا کار   ایک اعلی پولیس افسر کو اغوا کرکے اسلام آباد سے افغانستان لے گے،کیا کسی کیمرے نے یہ واقعہ نہیں ریکارڈ کیا کیا کسی ناکے چیک پوسٹ پر افغانستان لیجاتے  ہمارے شیر جوانوں نے نہیں روکا ،کیا اغوا کاروں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی کہ مغوی  سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان کو کسی نے افغانستان لے  جاتے  نہیں روکا ہمارا یہ کہنا درست نہیں کہ ''ھم سب محفوظ ھیں''
 
  طاہر خان کی لاش افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ملی  نعش کو طورخم میں پاک افغان سرحد پر افغانستان سے  وصول کر لیا گیا ھے  لیکن نعش کے ساتھ کئ  سوال بھی پاکستانی سیکورٹی  اداروں کو مل چکے ھیں نکٹا کو فعال و متحرک کرنا لازمی ھو چکا دھشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنانا ھوگا جس طرح طاہر خان کو  اغوا  کے بعد بیدردی سے قتل کردیا گیا  انکا اغوا و افغانستان لے جا کر قتل ایک غیر معمولی واقعہ ھے  جو سیف سٹی اسلام آباد اور ملک کی اھم سیکورٹی ادا روں کیلئے بھی سوالیہ نشان ھے کہ کس طرح  اغواکار 
 سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر خان اغوا کرکے سرحد پا ر لےجاکرقتل کرنے میں کامیاب ھوے 
 
 ایسے واقعیات کی روک تھام  کیلئے وفاقی دارالحکومت میں ’سیف سٹی‘ منصوبے کا افتتاح جون,2016  میں  کیا گیا تھا ۔  ’سیف سٹی‘ منصوبے کا مقصد اسلام آباد کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا تھا ، یہ اصل پولیسنگ  ہی تھی  جس کے تحت اسلام آباد کے کونے کونے کو کیمرے سے دیکھا جاسکتاتھا ۔اسلام آباد ’سیف سٹی‘  پورے ملک میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا منصوبہ تھا ، جس پر 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے۔وفاقی دارالحکومت کو محفوظ بنانے کیلئے منصوبے کے تحت اسلام آباد بھر میں مختلف مقامات پر تقریباً 18 سو سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے جن کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کے لیے ایک خصوصی مرکز بھی بنایا  گیا تھا ۔یہ کیمرے نا صرف شہر کے اندرونی و بیرونی راستوں بلکہ شہر کے تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں نصب کیے گئے تھے ، جن کی مدد سے افراد اور گاڑیوں کی آمدورفت پر نطر رکھی جا نی تھی
 
۔دعوئ کیا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان قائم کرنے کا یہ بہتر طریقہ تھا اور اس کے ذریعے اسلام آباد کے ہر کونے پر نظر رکھی جا نی تھی ۔وفاقی دارالحکومت کو محفوظ بنانے کے لیے پہلے ہی شہر میں اہم شاہراہوں پر پولیس کی اضافی نفری کی تعیناتی کے علاوہ حکومت کے احکامات کے مطابق رینجرز اور پولیس کے اہلکار مشترکہ گشت بھی کرتے  نظر آتی ہیں۔ تاھم بعد ازاں  وفاقی دارالحکومت کا سیف سٹی منصوبہ فنڈز کی کمی کا شکار ہو گیا،  اسلام آباد پولیس سکیورٹی کے حوالہ سے جدید اقدامات کرنے  میں ناکام  نظر آئ ،
 
 وفاقی دارالحکومت میں 1100 سے زائد کیمرے نصب کئے گئے جن میں سے 500 سے زائد کیمرے خراب ہو چکے ہیں جن کی مرمت کی ذمہ داری ہواوے ٹیلی کام کی تھی ۔ ان کیمروں کی تنصیب پر 22 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی مگر بدقسمتی سے گذشتہ ادوار میں فیض آباد دھرنوں کے دوران ایک مذہبی جماعت کے کارکنوں نے ان کیمروں کی آپٹک فائبر کیبل کو کاٹ دیا  تھا جسے تاحال ٹھیک نہ کیا جا سکا جس سے 500 سے زائد کیمرے خراب ہو گئے۔ ان کیمروں کی خرابی کو دور کرکے بحال کرنے کیلئے آئی ٹی کمپنی ہواوے کا نادرا کے ساتھ معاہدہ ہے۔ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کیمروں کو آپٹک فائبر کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا اس سال 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے خیبرپختونخوا میں تعینات پولیس کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) اسلام آباد میں لاپتا ہوگئے تھے ۔اس حوالے بتایا گیا کہ ایس پی طاہر خان تھانہ رمنا کے علاقے سے لاپتا ہوئے تھے ۔واضح رہے کہ ایس پی طاہر خان پشاور رورل زون میں تعینات تھے۔
 
 ایس پی کے اہل خانہ نے طاہر خان کے اغوا کا خدشہ ظاہر کیاتھا ۔مگر پولیس نے روایتی سست راوی کا مظاہرہ کیا بعد ازاں  لاپتا ایس پی طاہر خان کی تلاش کے لیے پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئیں پولیس ذرائع کا کہناتھا کہ طاہر خان ڈیوٹی پر گھر سے روانہ ہوئے اور نامعلوم افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔وفاقی پولیس کے مطابق طاہر خان گھر سے پیدل نکلے تھے اور اب ان کا موبائل بھی مسلسل بندرها .اس حوالے سے وفاقی پولیس نے خیبرپختونخوا پولیس کو واقعہ سے آگاہ کردیا تھا ۔علاوہ ازیں سی سی پی او پشاور قاضی جمیل الرحمٰن نے اس حوالے سے کہا تھا  کہ ایس پی طاہر خان چھٹی پر تھے اور وہ ذاتی کام کے سلسلے میں اسلام آباد گئے تھے۔ا طاہر خان کا موبائل فون بند رہا  جس کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہو ا۔واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس (این ڈی سی) کے جنرل منیجر نوزیر حسن بھی لاپتا ہو گئے تھے۔بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے  چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سائنسدان کی عدم بازیابی پر خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مفصل رپورٹ طلب کی تھی۔ وزارت داخلہ پاکستان کے ذمہ دار تاحال پوزیشن واضح کرنے میں ناکام نظر آتے ھیں پولیس کی جانب سے تصدیق سے قبل ایس پی کی مبینہ تشدد زدہ لاش کے ساتھ پشتو میں لکھے گئے خط کی تصاویر بھی وائرل ہوگئیں  تاہم سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمیں اس افسوسنا ک واقعے کی اطلاع ’ذرائع‘ سے موصول ہوئی
 
۔مذکورہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھی خیبر پختونخوا پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا تھا۔تاہم ایک سینئر گورنمنٹ افسر نےمیڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو بتایا گیا ہے کہ ایس پی کی لاش طورخم سرحد کے راستے ضلع خیبر لائی جائے گی۔حکام کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر پشاور اور ایس ایس پی آپریشنز لاش وصول کرنے طور خم بارڈرگئے ۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نےمیڈیا  کو بتایا کہ ذرائع نے افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں لاش ملنے کی بابت آگاہ کردیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر تصاویر بھی وائرل ہوگئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے خیبر پختونخوا پولیس کے ساتھ اس حوالے سے معلومات کا تبادلہ نہیں کیا، نہ ہی ایس پی کے اغوا اور ان کو سرحد پار لے جائے جانے کے حوالے سے کوئی اطلاع تھی۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پولیس افسر کو کس مقام پر قتل کیا گیا اور کونسا عسکری گروہ اس کا ذمہ دار ہے اس بارے میں تحقیقات کی جائیں گی جبکہ لاش کے ساتھ ملنے والے خط میں کسی بھی تنظیم کا نام نہیں تھا اسے بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔
 
دوسری جانب ایس پی کے افسر کے بھائی احمد الدین نے میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سرکاری ذرائع سے ابھی تک تصدیق موصول نہیں ہوئی۔تاہم سوشل میڈیا میں تصاویر وائرل ہونے کے بعد تعزیت کرنے والوں کی کثیر تعداد ان کے گھر پہنچ گئی۔ تصاویر میں نعش کے ہمراہ ملنے والے خط میں پشتو زبان میں ولایت خراسان کا نام لکھا ہے اور اس میں وہی رسم الخط استعمال کیا گیا ہے جو پاک افغان علاقے میں داعش استعمال کرتی ہے۔خط میں ایس پی طاہر خان داوڑ کا نام لے کر لکھا گیا ہے کہ ’پولیس اہلکار جس نے متعدد عسکریت پسندوں کو گرفتار اور قتل کیا، اپنے انجام کو پہنچ گیا‘۔اس کے ساتھ خط میں دوسرے افراد کو بھی محتاط رہنے کی دھمکی دی گئی بصورت دیگر ان کا بھی ایسا ہی انجام ہوگا۔وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طاہر خان داوڑ کو رواں برس کے آغاز میں دیہی علاقوں کا ایس پی بنایا گیا تھا اس سے قبل وہ یونیورسٹی ٹاؤن اور فقیر آباد میں بحیثیت ڈی ایس پی اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔واضح  رہے کہ وہ 26 اکتوبر کو ہی پشاور سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انہیں اسی روز اغوا کرلیا گیا تھا، ان کے اہلِ خانہ نے اسلام آباد پولیس کو بتایا تھا کہ ان کا فون شام پونے 7 بجے سے بند جارہا تھا
 
۔قبل ازیں بھی  وادی سوات کے قریب واقع ضلع مالاکنڈ کے پہاڑی علاقے ایلم میں عسکریت پسندوں نے پیٹرولنگ پر مامور پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے بعد ایک سرچ آپریشن کیا گیا۔ سرچ آپریشن کے دوران چار پولیس اہلکار لاپتہ ہوگئے۔بعد ازاں تین پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہوئیں جنھیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا جبکہ ایک پولیس افسر زخمی حالت میں تھا۔یاد رہے کہ  گزشتہ سال 8 دسمبر کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے بونیر میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔سال 2009 میں وادی سوات میں ملا فضل اللہ کی سربراہی میں کام کرنے والی جماعت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے تیس ہزار فوجی دستے تعینات کیے گئے تھے۔اس علاقے میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد 2009 کے آخر میں فضل اللہ افغانستان کے صوبہ نورستان فرار ہوگئے، جہاں وہ اب بھی مقیم ہیں
 
۔یہ بات بھی مد نظر رہے کہ ایس پی اس سے قبل بنوں میں تعیناتی کے دوران 2 خود کش حملوں کا سامنا کرچکے تھے جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔23 نومبر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کا 43 فیصد علاقہ داعش اور دیگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا تھا  کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور جماعت الاحرار افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور افغانستان کا 43 فیصد علاقہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایاتھا  کہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث تنظیموں کے بھارتی خفیہ ادارے را کے ساتھ روابط کے ثبوت موجود ہیں جبکہ را کی سرگرمیوں کا معاملہ افغان حکام کے ساتھ اٹھایا جاچکا ہے۔
14 NOV 2018