’’ظالمو ۔۔۔۔ناریاں آرہی ہیں ‘‘ پاکستان ناری تحریک نے ’’زبر جنسی‘‘ کیخلاف مہم شروع کردی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(تزئین اختر)پاکستان ناری تحریک نے خواتین سے جنسی زیادتی روکنے کے لئے ’’زبرجنسی سے انکار‘‘کے نعرے کے ساتھ نئی اورانوکھی مہم شروع کردی ہے جس کاآغازمعروف ٹی وی پروڈیوسرشعیب منصورکی تیارکردہ دستاویزی فلم ’’ہم ایسے کیوں ہیں‘‘؟کی نمائش کے ساتھ کیاہے۔’’زبرجنسی‘‘کانیالفظ انگریزی لفظ"ریپ"کی شدت اورسنگینی درست طورپراجاگرکرنے اورمردوں کے اندراس کاشعورپیداکرنے کیلئے ایجادکیاگیاہے۔


دستاویزی فلم میں معروف اینکرپرسنزعاصمہ شیرازی،فریحہ پرویز،مہربخاری،حامدمیر،افتخاراحمداورفہدحسین نے اپنے تاثرات دیئے جبکہ خواتین کے حقوق پرکام کرنے والی دیگرنمایاں خواتین کے انٹرویوبھی شامل ہیں۔اس سلسلے میں گزشتہ روزایک بڑی تقریب علامہ اقبال یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقدہوئی جس میں خواتین،طالبات کی بڑی تعدادکے ساتھ ساتھ طلبااورمردوں کی بھی خاصی تعدادموجودتھی۔پاکستان ناری تحریک کی اس تقریب میں مختاراں مائی خصوصی توجہ کامرکزتھیں۔

اس تقریب میں صرف ایک مردنے خطاب کیاجوڈاکٹرکامران احمدتھے جویواین ایچ سی آرمیں سٹاف ویلفیئرافسرہیں۔انہوں نے زبرجنسی کے مخالف مردوں کی نمائندگی کی۔



باقی تمام مقررین خواتین ہی تھیں جن میں لوک ورثہ کی ایگزیکٹوڈائریکٹرڈاکٹرفوزیہ سعید،ملیحہ حسین،معروف اینکرپرسن عاصمہ شیرازی ،سینیٹرروبینہ خالداوردیگرخواتین نے خطاب کیا۔آس فاؤنڈیشن کی عظمیٰ اوشو بھی اس موقع پرموجودتھیں اورانہوں نے پروگرام کے انعقادمیں اہم کرداراداکیا۔

خواتین رہنماؤں کاکہناتھاکہ پاکستان میں زبرجنسی کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے اس لئے اس تحریک کاآغازناگزیرہوگیا۔اس حوالے سے پروگرام میں سامعین کے طورپرشریک بعض مردحضرات کواختلاف تھا۔مگرخواتین رہنماؤں نے اپنے خطاب میں اعدادوشماربھی پیش کئے اوردعویٰ کیاکہ بہت سے کیس رپورٹ نہیں ہوتے جن کی تعدادتشویشناک ہے۔انہوں نے کہاکہ رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعدادبھی کم نہیں۔انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق ہردوگھنٹے میں ایک زبرجنسی ہوتی ہے ۔’’وومین اگینسٹ ریپ‘‘کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداداس سے دس گنازائدہے۔



شعیب منصورکی دستاویزی فلم میں ان واقعات کی طرف معاشرے کے روئیے پرسوال اٹھائے گئے ہیں ۔خواتین رہنماؤں نے کہاکہ معاشرے کوچاہیے کہ زبرجنسی کرنے والے مردکااحتساب کرے نہ کہ اس کی شکارعورت کے پیچھے پڑجائے۔مقررین نے ٹی وی چینلزسے اپیل کی کہ یہ فلم اپنے چینلوں پرضرورچلائیں۔

عاصمہ شیرازی نے کہاکہ اس مقصدکے حصول کی خاطرہم بلامعاوضہ کام کررہے ہیں اورآئندہ بھی ہرطرح تعاون کے لئے تیارہیں۔

مختاراں مائی نے اپنے خطاب میں کہاکہ عورت کوزبرجنسی کے بعدخاموشی اختیارنہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کے خلاف آوازاٹھانی چاہیے۔



پاکستان ناری تحریک100تنظیموں کامشترکہ پلیٹ فارم ہے۔جس کومہرگڑھ کی رہنمائی حاصل ہے۔تقریب کے آخرمیں ملیحہ حسین نے تعاون کرنے پراوپن یونیورسٹی کاشکریہ اداکیا۔اس موقع پرموجودمردحضرات نے زبرجنسی کے خلاف شعوراجاگرکرنے میں اپنے تعاون کے لئے فارم بھی پرکئے اوریہ عہدکیاکہ وہ اپنے اپنے حلقے میں اس حوالے سے کام کریں گے۔

اردوکیساتھ بغض کامظاہرہ

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان ناری تحریک کی ایک رکن نے سٹیج پریہ کہاکہ" ریپ" کامتبادل اردومیں کوئی مناسب لفظ نہیں ملاجس کی وجہ سے ہم نے "زبرجنسی "کالفظ اختیارکیا ۔اسی حوالے سے یہ بھی کہاگیاکہ اردوزبان میں بہت سے الفاظ نہیں ملتے ۔اس طرح اپنی قومی زبان کادامن تنگ ظاہرکیاگیا جوکہ بالکل غلط ہے کیونکہ "ریپ"کاانگریزی لفظ کس طرح ایک جامع لفظ قراردیاجاسکتاہے؟اس کے متبادل جولفظ اختیارکیاگیاوہ بھی تواردوکے دوالفاظ کوملاکرہی بنایاگیاہے۔علاوہ ازیں اردومیں "جبری زیادتی"کی اصطلاح بھی موجودہے۔یہاں اردوپرتنقیدکرنے والی خواتین سے یہ سوال بھی بنتاہے کہ انہوں نے اپنی تحریک کانام "ناری تحریک"رکھاہے۔جبکہ ناری ہندی زبان کالفظ ہے اوراردومیں عورت یاخاتون کے الفاظ موجودہیں جونہیں لیے گئے ۔اس لیے بادی النظرمیں اردوکے ساتھ بغض کامظاہرہ کیاگیا۔

چندے پرگزارا


اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان ناری تحریک کی رہنماملیحہ حسین نے کہاکہ اس تحریک کیلئے ہم کسی سے کوئی فنڈنگ نہیں لیں گے اورچندہ کرکے ہم نے یہ تحریک شروع کی ہے۔انہوں نے بتایاکہ یہاں بھی ہم نے چندہ بکس رکھاہواہے۔جوخواتین وحضرات چندہ دیناچاہیں وہ اس میں چندہ ڈال سکتے ہیں۔اس حوالے سے پروگرام کے شرکاء میں سے بعض کویہ کہتے سناگیاکہ اب فنڈنگ لیناآسان نہیں رہااس لیے چندے پرہی گزارہ کرناپڑے گا۔


عاصمہ شیرازی کی کم سن بیٹے سمیت شرکت

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)معروف اینکرپرسن عاصمہ شیرازی نے پاکستان ناری تحریک کی تقریب میں اپنے کم سن بیٹے سمیت شرکت کی ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہماری تحریک کی کامیابی کیلئے مردوں کاتعاون بہت ضروری ہے۔میں اپنے بیٹے کواسی لیے یہاں ساتھ لے کرآئی ہوں تاکہ ابھی سے اس کی تربیت شروع ہوجائے اورجب وہ جوان ہوتواس کوخواتین کے مقام کابخوبی شعور حاصل ہو۔شرکاء نے اس پرتالیاں بجاکران کاخیرمقدم کیا۔