۔فرانس پاکستان ایمبیسی کی بے حسی ،غریب پاکستانی نوجوان کی میت پاکستان بھجوانے میں دانستہ کوتاہی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

پیرس (راجہ لیاقت سے )پاکستان ایمبیسی کی بے حسی ،غریب پاکستانی نوجوان کی میت پاکستان بھجوانے میں دانستہ کوتاہی ۔دوستوں نے چندہ جمع کر کے میت پاکستان بھیجی ۔پاکستانی صحافیوں نے باقاعدہ پاکستان ایمبیسی کو درخواست دی اور معلومات فراہم کیں مگر مینگو پارٹی پر ایک کروڑ اڑانے والی ایمبیسی نے کسی قسم کی مالی یا اخلاقی مدد فراہم نہیں کی ۔فرانس ایمبیسی کا پریس اتاشی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا ۔ واقعات کے مطابق پاکستان کے ضلع منڈی بہاؤالدین کا رہائشی نوجوان محمدنواز ولد خان بتے، پاسپورٹ نمبر

YE01585941

ساکن سپرا تحصیل پھالیہ ،ضلع منڈی بہاؤالدین اچانک فوت ہو گیا ۔جس کی لاش پیرس سے 225کلو میٹر دور ایک ہسپتال (کین ہاسپٹل )میں رکھ دی گئی ۔نیشنل پریس کلب فرانس کے چیئرمین محمد یونس خان اور دیگر صحافیوں نے پاکستان ایمبیسی کے پریس اتاشی قمر بشیر کے ذریعے سفیر پاکستان ملک معین الحق کو اطلاع دی مگر سفارت خانے نے کسی بھی قسم کی مالی مدد کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی ۔

موحوم کے دوستوں نے مل کر چندہ جمع کیا ۔ادارہ منہاج القرآن سے رابطہ کرنے پرانہوں نے بھی سروس چارجز کے نام پر 3500یورو یعنی چار لاکھ روپے مانگے اور کہاکہ میت ایک ہفتہ میں پاکستان پہنچے گی ۔ایک عرب این جی او نے صرف دو ہزار یورو لے کر اسی دن میت پاکستان بھجوادی ۔پاکستانی کمیونٹی نے پاکستان ایمبیسی کی بے حسی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ فرانس میں پاکستانی سفارتخانے کے افسران یہاں صرف عیاشی کرنے آتے ہیں ۔کسی کی موت بھی ان کے مردہ ضمیروں کو جگا نہیں سکتی ۔پاکستان ایمبیسی نے چند ہفتے قبل مینگو فیسٹیول کے نام پر اپنے جاننے والے سو افراد کو عیاشی کرائی اور اس پر پاکستانی خزانے کا تقریباً ایک کروڑ روپیہ اڑا دیا ۔

اس نمائندے نے پیرس میں پریس اتاشی قمر بشیر سے رابطہ کر کے میت کے حوالے سے سفارتخانے کے کردار کا پوچھا تو بتایا گیا کہ میت بھجوانا ہماری نہیں بلکہ پی آئی اے کی ذمہ داری ہے۔اگر مرنے والے کا کوئی رشتے دار یہاں نہ ہو اور پاکستان سے بھی کوئی میت منگوانے کا بندوبست نہ کرسکے تو ایمبیسی مدد کا سوچ سکتی ہے ۔قمر بشیر نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر اوسطً 250لوگ شناختی کارڈ ،پاسپورٹ یا دیگر مسائل کے لیے آتے ہیں ۔سب کے کام میرٹ پر ہوتے ہیں ۔دوسری طرف پاکستانی لوگوں کاکہنا ہے کہ عام پاکستانیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے ۔یہاں بھی ٹاؤٹ مافیا ہے اورباقاعدہ رشوت وصول کی جاتی ہے۔