یہ کس قسم کی عورت ہے؟

Founder Editor Tazeen Akhtar..
سردار پرویز محمود 
ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن مہم میں کہاکہ میں حیران ہوں اس عورت کے لیے کہ یہ کس قسم کی عورت ہے؟اور کیا سوچ کر وہ اپنے ملک میں اتنے
زیادہ  پناہ گزینوں کو آنے کی اجازت دے رہی ہے۔لگتا ہے اس عورت کا دماغ چل گیا ہے۔جرمنی کی چانسلر انجلا مرکل بائیں بازو کی رہنما ہیں۔جو امیگریشن کی حامی ہیں اور ہمیں بہت بھلی لگتی ہیں۔اور یورپین یونین کی سب سے اہم لیڈر بھی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے دوماہ بعد محترمہ امریکی صدر سے ملنے گئی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کا طاقت ور ترین انسان ہے۔اور جرمنی اور امریکہ کے بے شمار تجارتی معاہدے ہیں۔ امریکی صدر چاہے گالیاں دے اسے ملنا تو پڑتا ہے۔چنانچہ جائینٹ پریس کانفرنس ہوئی۔ دنیا ساری کی میڈیا یہ دیکھنا چاہ رہی تھی کہ امریکی صدر گذشتہ الیکشن مہم میں اپنی بدزبانی کو کیسے کور کریں گے؟ ٹرمپ نے دو چار ایسے صحافیوں کو سوال کرنے کو کہا کہ لگتا تھا اسے پہلے سے پتہ تھا کن کو سوال کرنے کی اجازت دینی ہے۔ جرمنی کے صحافیوں نے جرمن زبان میں سوالات پوچھے۔ ٹرمپ نے اپنی پچ پر کھیلتے ہوے کہا کہ امیگریشن استحقاق نہیں ہے۔ بلکہ ایک اضافی سہولت ہے۔امریکی صدر نے مزید سوالات کو بہت احتیاط سے کھیلا اور
پوری میڈیا کے سامنے بیٹھے ہوے کسی ایک جرنلسٹ کو دیکھ کر بائیں آنکھ ماری۔
آنکھ مارنا بین الاقوامی سیٹٹ مینز یا سفارت کار یا سیاستدان اور لیڈر کے لیے کیا معانی رکھتا ہے؟ خصوصاً جب وہ دنیا کی ایک دوسری اہم رہنما کے ساتھ کھڑا پریس
کانفرنس کررہا ہو؟ آنکھ مارنا سنجیدگی، دیانت داری اور سچائی کا جسچر ہے یا چالاکی، شاطرانہ طرز عمل کا اندیا دیتا ہے؟ اس پریس کانفرنس سے چند دن پہلے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے برٹش انٹلیجنس پر الزام لگایا تھا کہ وہ امریکی صدر کی جاسوسی کرتی رہی ہے۔ اس الزام یا افواہ کا یہ فائدہ ہوا کہ پریس کانفرنس کے دوران یہ ایشیو باقی سارے ایشیوز کو اوور شیڈو کرگیا۔ یا یوں کہیں کہ باقی سارے معاملا ت پر پردہ ڈال گیا۔ کیا ٹرمپ ایڈمنسٹرینشن نے جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر پوری دنیا کی توجہ ڈائی ورٹ کرنے کے لیے ایسا کروایا تھا؟ دنیا کے طاقت ور ترین انسان کو دیانت دار ، سچا اور انسانیت سے پیار کرنے والا ہونا چاہیے یا اسے شاطر ، مکار اور بددیانت ہونا چاہیے؟
امیگریشن ، مائیگریشن یا ہجرت انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ لوگ ایک جگہ چھوڑ کر دوسرے جگہ جاتے ہیں۔وجوہات بہت سی ہوسکتی ہیں۔ایک بات یاد رہے کہ مغرب والے معاشی بنیادوں پر کی جانے والی پناہ کی درخواست کو تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ دوسری وجوہات ڈھونڈی جاتی ہیں۔انکی چھان بین ہوتی ہے۔ اور مختلف ممالک اپنے اپنے قوانین کے مطابق اس کا تعین کرتے ہیں۔ قوانین چونکہ منتخب شدہ سیاستدان بناتے ہیں۔ جو الیکشن میں بدل بدل کر آتے ہیں۔اس لیے امیگریشن کے یہ قوانین بھی بدلتے رہتے ہیں۔


آج کل پناہ گزینوں کا زیادہ شور شام کی وجہ سے پڑا ہوا ہے۔ نیٹو نے بشرالاسد کو ہٹانے کے لیے جنگ لڑوائی، شہروں کے شہر کھنڈر بن گیے۔لاکھوں لوگ مغرب کی طرف چل پڑے۔ امریکہ میں الیکشن ہوے اور نئے لیڈر نے کہا کہ شام میں انکی اب تک کی سپانسر جنگ غلط تھی۔ اور اب وہ جنگ اسد کو ہٹانے کے لیے نہیں بلکہ داہش کے خلاف لڑی جاے گی۔ گویا امریکہ نے تسلیم کرلیا کہ شام کی تباہی میں ان کا کردار غلط تھا۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوگیے۔ شہر کھنڈر بن گیے۔ ذمہ داری کسی پر تو آنی چاہیے۔ بحثیت سٹیٹ امریکہ کو غلطی مان کر اس تباہی کا معاوضہ دینا چاہیے ۔ عراق کے ایٹمی ہتھیار نہیں مل سکے تھے۔ وہ جنگ بھی غلط تھی۔ نیٹو اور امریکہ کو اس جنگ کا بھی ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔ لیبیا میں جمہوریت کے لیے مداخلت کی گئی۔ آج تک خانہ جنگی ہے اور امن قائم نہیں ہوسکا۔ نیٹو اور امریکہ کو اس کا بھی ہرجانہ دینا چاہیے۔ یہ سارا معاوضہ اگر مغرب والے ادا کرنے لگیں تو کئی دیوالیہ ہی نہ ہوجائیں ۔انہی جنگ زدہ خطوں سے لوگ اپنا وطن چھوڑ کرمغرب کی طرف آتے ہیں۔ کیونکہ مغرب والے یہی پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ وہ نجات دہندہ ہیں اور انسانیت کو بچانے کے لیے جنگ کرتے ہیں یا کرواتے ہیں۔ تو کیا ان پناہ گزینوں کا امیگریشن کا استحقاق بنتا ہے؟ یا امیگریشن انکے لیے ایک اضافی سہولت ہے؟


لیکن کمزور کو اس کا حق ملنا بہت مشکل ہے۔ امریکی صدر سے کو ن بات کرے؟ امیگریشن کی بات انجلا مرکل بھی نہیں کرسکی۔محترمہ بی۔ایم۔ڈبلیو کی بزنس سٹریٹیجی پر بات کرتی کہ امیگریشن رائیٹس پر لیکچر دیتی؟کون ہے جو ٹرمپ سے بات کرے؟ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے ٹرمپ جتنا طاقتور انسان چاہیے۔ طاقتور کی سنی جاتی ہے۔ اور طاقتور سے بات کی جاتی ہے۔ایک ہزار سال پہلے ایسا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ وہی بات چلے گی جو طاقتور کہے گا۔ انسانی حقوق، رواداری اور فئیر پلے سب فریب اور دھوکا ہے کیا؟


دنیا بھر میں مائیگریشن ، ہجرت، یا نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ معیشیت ، سیاسی نظریات، مذہبی عقائد، جبر و استبداد سے چھٹکارا ، امتیازی سلوک سے بیزاری اور کیا کیا ہے جو انسانوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے؟ ہاں علم اور تدریس کے لیے بھی سفر کیے جاتے ہیں۔اور کچھ لوگ مہیم جو بھی ہوتے ہیں۔ جو ایک جگہ ٹک کہ رہ ہی نہیں سکتے۔ سفر اور نقل مکانی انکی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ پہلے سے موجود لوگ نئے آنے والے لوگوں کو امیگرینٹس کہتے ہیں۔ اگر یورپین خود امریکہ میں ہجرت کر کہ آے تھے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا خاندان نہ جانے کب آیا ہوگا؟ اور یورپ کے کون سے ملک سے آیا ہوگا؟ لیکن ٹرمپ سے کوئی نہیں پوچھ سکتا۔
 اللہ ہمارا حامی اور ناصر ہو۔