یوکرین کے ساتھ دفاع کے علاوہ دیگرشعبوں میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجودہیں ،میجرجنرل راطہرعباس

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان اوریوکرین کے سفیروں نے باہمی تعلقات بڑھانے اوردوطرفہ تعاون کے مزیدامکانات پرکام جاری رکھنے کا عزم ظاہرکیاہے۔یوکرین میں پاکستان کے سفیرمیجرجنرل ریٹائرڈاطہرعباس نے ایڈیٹرتزئین اخترکے سوال پرکہاہے کہ دفاعی شعبے کے علاوہ بھی تجارت اورعوامی تعلقات کوفروغ دیناچاہتے ہیں مگراس میں فاصلہ اورزبان رکاوٹ ہے ۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روزقائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹکس اینڈانٹرنیشنل ریلیشنزاوریوکرین ایمبیسی کے اشتراک سے منعقدہ ویب سیمینارمیں بات کرتے ہوئے کیا۔سیمینارکااہتمام دونوں ملکوں کے تعلقات کی سلورجوبلی یعنی 25سال مکمل ہونے پرکیاگیا۔یوکرین کے دارلحکومت کیوسے تارس شیوچینکویونیورسٹی کے سٹوڈنٹس آن لائن تھے اوران کے ساتھ اطہرعباس موجودتھے ۔پاکستان کی طرف سکول کے ہیڈایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹرنذیرحسین اورسفیرولادی میرلیکوموو اپنی ٹیم کے ساتھ شریک گفتگوتھے ۔

اطہرعباس نے ٹینکوں کی خریداری سمیت دفاعی شعبے میں دوطرفہ تعاون پرروشنی ڈالی جبکہ یوکرین کے سفیرنے کہاکہ باہمی تجارت 140ملین ڈالرسے تجاوزکرچکی ہے اوراس میں مزیدامکانات موجودہیں ۔ڈاکٹرنذیرحسین نے استقبالی کلمات میں پاک یوکرین تعلقات پرروشنی ڈالی ۔

سوال جواب کے موقع پرایڈیٹرتزئین اخترنے اطہرعباس سے سوال کیاکہ موجودہ تجارت اورتعاون میں بڑاحصہ دفاعی شعبے کاہے ۔سول شعبوں میں تعاون کے فروغ کے کیاامکانات ہیں ؟حکومتوں اورافواج کے درمیان تومثالی تعلقات ہیں عوام کی سطح پراورتاجرصنعتکارکی سطح پرتعلقات کوبھی فروغ دیاجائے گا؟اس پراطہرعباس نے کہاکہ یوکرین میں پاکستان کے پھل اورٹیکسٹائل مصنوعات آرہی ہیں ۔دفاع کے علاوہ باقی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجودہیں جن میں عوامی تعلقات بھی شامل ہیں مگراس میں دورکاوٹیں آرہی ہیں نمبر1فاصلہ نمبر2زبان ۔دونوں سفیروں نے اس جانب پیش رفت کرنے کاعزم ظاہرکیا۔