یوکرائن ایمبیسی اور اکادمی ادبیات کے تحت ارشادا للہ خان کی انگریزی نظموں کے تراجم پر مشتمل کتاب کی رونمائی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد۔ پاکستان میں یوکرائن کے درمیان تعلقات کو عوامی سطح پر لانے کے لیے دونوں ممالک کی تہذیبی اورادبی روایتی تعلقات ایک حقیقی روحانی بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ا ن خیالات کا اظہارپاکستان میں یوکرائن کے سفیر عزت مآب وولدیمائرلاکومو نے یوکرائن ایمبیسی اسلام آباد اور اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ارشادا للہ خان کی انگریزی منتخب نظموں کے یوکرائنی زبان میں تراجم پر مشتمل کتاب کی تقریب رونمائی میں کیا ۔ وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چےئرمین ،ا کادمی ادبیات پاکستان ،واصل ایواشکو، مترجم کتاب اورارشاد اللہ خان نے اظہار خیال کیا۔ تقریب کے دوسرے سیشن میں انگریزی زبان کا مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت ڈاکٹر احسان اکبر نے کی۔ مشاعرہ میں شعراء نے انگریزی میں کلام سنایا۔نظامت کو کو ڈی نے کی۔

 

پاکستان میں یوکرائن کے ایمبیسیڈر عزت مآب وولدیمائرلاکومو نے کہا کہ یہ کتاب یوکرائن اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے سالہ تقریبات کے موقع پر شائع ہوئی جس سال جب ہم اپنے ملک میں دونوں ممالک درمیان سفارتی تعلقات کی 25 ویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈپلومیسی، سیاست اور تجارت لوگوں کو متحد کرتے ہیں۔ حقیقی شاعری لوگوں کے دلوں کو جوڑتی ہے اور حقیقی شاعری کا اثر گو یا دلوں کومحبت کی لہروں سے ملاتی ہے اور یہ محبت زمان و مکاں سے ماورا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط، سیاسی، سفارتی و اقتصادی تعلقات موجود ہیں ۔ ان تعلقات کو عوامی سطح پر لانے کے لیے دونوں ممالک کی تہذیبی اورادبی روایتی تعلقات کے لیے ایک حقیقی روحانی بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ 

 

ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چےئرمین ،ا کادمی ادبیات پاکستان نے خطبہ استقبالیہ اور تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکادمی ادبیا ت پاکستان ، پاکستانی لٹریچرکے فروغ کے لیے بھر پور کوشش کررہی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی لٹریچر کو روشناس کرایا جا سکے۔ اکادمی کی کوشش ہے کہ وہ بین الاقوامی ادبی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرے اور ادب ، زبان کی ترقی اور ادبی سرگرمیو ں کو فروغ دیں۔ ان تمام کارروائیو ں کا بنیاد ی مقصد پاکستان کا سوفٹ امیج اور روشن پہلو دنیا کے سامنے لانا ہے ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ ساؤتھ ایشیا، سینٹرل ایشیا، افریقہ ، یورپ اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کے ساتھ ادبی روابط قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ، حال ہی میں دارالترجمہ کا قیام عمل میں لائی ہے۔ اس کے تحت تراجم کا کام کیا جارہا ہے جس میں کلاسیکل ادب ، غیر ملکی اد ب کو پاکستانی زبانوں میں ترجمہ اور پاکستانی زبانوں کا دیگر غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ شامل ہے۔ دارالترجمہ کے تحت اب تک 9کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا گزشتہ 17سالوں سے پاکستان اور یوکرائن کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یوکرائنی زبان میں ترجمے کی کتاب کی تقریب دونوں ممالک کے درمیان ادبی تعاون بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ مشترکہ ادبی تقریب یقیناپاکستان اور یوکرائن کے درمیان ادبی روابط میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ خوش آئندبات ہے کہ سفارتخانہ اور سفارت کار بھی ادب اور ادبی سرگرمیوں کا رجحان رکھتے ہیں اور سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور پاکستان اور یوکرائن میں ادبی تعلقات بڑھانے میں حصہ لے رہے ہیں۔ 

 

واصل ایواشکو، مترجم کتاب نے کہا کہ اس کتاب کا ترجمہ کرکے مجھے خوشی ہوئی ہے اور اس کتاب کو یوکرائن میں بہت پذیرائی ملی ہے۔

 

ارشاد اللہ خان ، مصنف کتاب نے کہا کہ پاکستان میں علامہ اقبال ، احمد فراز، کشور ناہید، فیض احمد فیض اور دیگر اہم شعراء نے بے مثل شاعری کی ہے۔ پاکستان میں انگریزی شاعروں نے بھی بہت عمدہ انگریزی شاعری کی ہے اور صحیح معنوں میں انسانی جذبات کا خوبصورت اظہار کیا ہے۔ شاعری قوم اور لوگوں کے ساتھ شےئر کی جاتی ہے اور یہی شاعری ہی ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ڈاکٹر احسان اکبر، ماہ نور فیروز، وقاص نعیم، طاہرہ عندلیب، الیاس بابر اعوان، سائرہ اقبال، منیر فیاض، کو کو ڈی، سید فیصل سلیم، سعید احمد، اختر عثمان، نے انگریزی میں کلام سنایا۔