یوم پاکستان کے دن ریسکیو1122 کے دس سال مکمل

Founder Editor Tazeen Akhtar..

تحریر وتحقیق :مس دیبا شہناز اختر
سربراہ کمیونٹی سیفٹی اینڈ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ
ریسکیو 1122پنجاب 
deeba_uroog@yahoo.com

پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122راولپنڈی کے قیام کا تاریخی اقدام 14اگست 2007کو کیا گیا آج ایمرجنسی سروس کی شاندار کارگردگی کے دس سال مکمل ہو گئے ۔ریسکیورز یوم آزادی اور ایمرجنسی سروس کی سالگرہ کا دن جوش و خروش سے منا رہے ہیں ۔ دس سال قبل راولپنڈی میں ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم موجود نہیں تھا عوام الناس حادثے یا سانحے میں اپنے بنیا دی حق "ایمرجنسی سروسز کی فراہمی "کے بارے میں بے خبر تھے ۔گورنمنٹ کا کوئی ایسا ادارہ جو جائے حادثے سے ایمرجنسی سروسز فراہم کرتے ہوئے ہسپتال پہنچائے موجود نہ تھا سول ڈیفنس اور میونسپل فائر سروس میں تربیت یافتہ عملے کا فقدان ہونے کی وجہ سے معیاری ایمرجنسی سروسز کی فراہمی خواب و خیال ہی بن چکا تھا بلکہ شرح اموات میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث تھا۔

ایسے نامساعد حالات میں جہاں کسی زخمی کو ایمبولنیس ایک کال پر میسر ہواور تربیت یافتہ عملے سمیت باقاعدہ ایمرجنسی سروس کی ضرورت کو فاؤنڈدر ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر سے محسوس کیا اور ایمرجنسی ریفامز کو بالا آخر حتمی شکل دینا کر پنجاب ایمرجنسی سروس کا قیام اور اسکے معیار کو یقینی بنانا ایک کھٹن سفر ہے جو ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارہ امتیاز) ڈپٹی ڈائریکٹر ہیومین ریسویس ڈاکٹر فواد شہزاد مرزا اور ڈاکٹر عبد الرحمن ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر راولپنڈی اور تقریباً 200ریسکیورز کے ساتھ مل کرطے کیا اور اسکے بعد ایمرجنسی سروس کی تھرڈ پارٹی جائرہ بھی لیا گیا ۔ جسمیں ایمرجنسی سروس کو ایمرجنسی رسپانس ، کوالٹی ایمرجنسی کےئر اور پروفشنلزم کی وجہ سے بہترین قراردیا گیا یہ وہ کامیابی تھی جسکے بعد ریسکیو 1122سروس کا دائرہ کار پنجاب کے 12اضلاع میں پھیلایا گیا

اُن بارہ اضلاع میں سے سروس سب پہلے راولپنڈی اور فیصل آباد میں شروع کی گی ۔ راولپنڈی میں ایمرجنسی سروس کا آزمائشی بنیادوں پر آغاز 14اگست 2007کو کیا گیا تاکہ تمام کیمونیکشن اور ایمرجنسی آلات کو باقاعدہ افتتاح سے پہلے چیک کر لیا جائے اور اسطرح 31اگست 2007کو باقاعدہ ایمرجنسی سروس کا افتتاح کیا گیا ایمرجنسی سروس راولپنڈی کا بانی ٹیم میں ڈاکٹر تنویر اختر سابقہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ،مس دیبا شہناز سربراہ کیمونٹی سیفٹی و انفامیشن ،ڈاکٹر عبدالرحمن (موجودہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ) علی حسین ایمرجنسی آفیسر آپریشنز ، محمد حنیف ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسر ، زین الحق ریسکیو ٹیکنیشن ، رضوان عباس سٹیشن کوآڈینیٹر اور بیسک 6کے ریسکیو رزشامل ہیں ۔

بانی ریسکیوٹیم راولپنڈی نے اہلیان راولپنڈی کو بروقت ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کمیونٹی سیفٹی کی آگاہی و تربیت اور گاہے بگاہے ریسکیو رز کی استعدکار میں اضافے سے ایسی مثال قائم کی جسکی وجہ سے ریسکیورز نے ہر حادثے میں مثالی کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو نیشنل یوتھ ایواڈر ،4تمغہ شجاعت، دو بیسٹ ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن ایوراڈ ،ایک بیسٹ فائر ریسکیور ایورڈ اور ایک نیشنل بیسٹ تصاویر ایوارڈ راولپنڈی کے نام کئے اور اسکے ساتھ راولپنڈی کی ٹیم نیشنل ریسکیو چیلنج میں دوسرے نمبر پر رہی ۔ 

ان دس سالوں کے دوران راولپنڈی ایمرجنسی سروس نے ایک لاکھ پچیس ہزار چھے سو تینتس حادثات پر بروقت رسپانس کرتے ہوئے ایک لاکھ باسٹھ ہزار چھے سو چار متاثرین کو ریسکیو کیا گیا ۔ ان حادثات میں 64889روڈ ٹریفک حادثات 134بلڈنگ مہندم ہونے کے واقعات 65338میڈیکل ایمرجنسی کے واقعات 6808آگ کے حادثات 198ڈوبنے کے حادثات 118بلاسٹ ؍دھماکے اور 8503متفرق حادثات شامل ہیں ۔

ان تمام حادثات میں گگھٹر پلازہ ،فائر اور عمارت مہندم ہونا کی تاریخ کا وہ المناک سانحہ ہے جہاں 13فائر فائیٹرز نے جام شہادت نوش کیا جسمیں سب سے آگے ریسکیو1122کا عملہ تھا ان عظیم ہیروز جن میں موسی زبیر لودھی ، کاشف آنار عباسی ، شفقت حسین اور محمد ادریس شامل ہیں ۔ان گمنام سپاہیوں نے فرض کی سبکدوشی کے دوران جانوں کے نذرانے پیش کر کے پاکستان میں فائر فائیٹنگ کی تاریخ کو جدت بخشی اور اپنی پیشہ وارانہ خدمات کے ذریعے عوام الناس کو یہ پیغام دیا کہ فائرفائیٹنگ ایک اہم شعبہ ہے جسکے لئے باعدہ علم و تریبت ضروری ہوتی ہے ۔ 

مزید براں ان دس سالوں کے دوران ایمرجنسی سروس نے پچاس مختلف بڑے حادثات پر بروقت اور پیشہ وارانہ رسپانس سے قیمتی جانوں کو بچایا ان حادثات میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید ، گگھڑ پلازہ فائر اور بلڈنگ مہندم ہونے کا واقعہ ، نیشنل گرلز ہاسٹل میں آگ ،مدرسہ تعلیم القرآن میں دہشتگردی اور آرے بازار قاسم مارکیٹ پریڈلین کے بم بلاسٹ شامل ہیں ۔ 

حکومت پنجاب کے تعاون سے ان دس سالوں کے دوران ریسکیو 1122راولپنڈی کی پیشہ وارانہ اور تکینکی استعداد کار میں واضع اضافہ ہوا ہے جسمیں سیلاب سے نمٹنے اور مریضوں کی ہسپتال سے ہسپتال منتقلی کی ذمہ داریاں ریسکیو 1122کو سوپنے کا فیصلہ بھی حکومت پنجاب کے بہترین اقدام ثابت ہوئے ۔انتظامیہ اور ریسکیورز نے اپنی دن رات کی محنت سے ایمرجنسی مینجمنٹ کی تمام تر ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل پہنجایا اور ہر پراجیکٹ کا کامیاب بنایا ۔ 

اللہ تعالیٰ سب ریسکیو رز کو ہمت دے کہ وہ اسی طرح انسانی خدمت کرتے ہیں ۔ آمین 

14 Aug 2017