ہواوی کمپنی کوامریکی حکومت کی جانب سے قانون کاروایئوں اور پابندیوں کا سامنا

Founder Editor Tazeen Akhtar..
اسلام آباد:کنزیومرز رائٹس بیورو کے چیرمین ڈاکڑ جمیل مرزا نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ہواوی(Huawie) کمپنی کوامریکہ میں قانون کاروایئوں اور پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ یہ کمپنی پاکستان کے اہم منصوبوں میں جو سندھ،پنجاب اور بلوچستان میں سیف سیٹیز پروجیکٹس سے متعلق ہیں شمولیت کےلئے کوشاں ہے۔ 
 
 ڈاکڑ جمیل مرزا نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت ہواوی کمپنی کی طرف سے ایران،سوڈان،کیوبا اور شام میں ٹریڈ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اعلیٰ سطح  پر اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع تر کررہی ہے اور اس سلسے میں امریکہ کے بیرونی اثاثہ جات کے کنٹرول کےٹریژری ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس کمپنی کو وارننگ بھی جاری کی گی ہے۔امریکی حکومت کا یہی محکمہ امریکہ کی جانب سے مختلف ملکوں اور اداروں پر پابندیوں پر عملدرآمد کی نگرانی بھی کرتا ہے۔امریکہ کے ٹریژری ڈپارٹمنٹ  کے بیرونی اثاثہ جات کے کنٹرول آفس سے ہواوی کو مزکورہ وارننگ دسمبر 2016 میں جاری کی گئی تھی۔
 
 اس صورت حال میں ہواوی کو اہم منصوبے تفویض کرتے وقت حکومت پاکستان کو احتیاط برتنی چاہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اپریل 2017 میں امریکی کانگرس کے 10 ارکان نے کامرس ڈپارٹمنٹ سے ایک خط کے زریعہ مطالبہ کیا تھا کہ ہواوی کمپنی کی نمایاں طور پر نشان دہی کی جائے اور اسکے خلاف ورزیوں کے حوالے سے مکمل تحقیقات کی جائے۔کامرس ڈپارٹمنٹ کے مطالبہ کے بعد تحقیقات اور انکوائری کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔
 
ڈاکڑ جمیل مرزا نےکہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے پابندیوں کی کہ خدشات کے تحت اس بات  کاکہاں تک جواز موجود ہے  کہ اس کمپنی کو پاکستان میں حساس نوعیت کے  پروجیکیٹ تفو یض کئے جائیں۔اگر ہواوی پر پابندیاں عائد کر دی گئیں تو ظاہر ہے کہ کپمنی اپنے انرونی سٹرکچر میں بڑے پیمانہ پر ردوبدل کرے گی جس میں ملازمین کو فارغ کیا جانا بھی شامل ہے۔جیسا کہ وہ تمام کمپنیاں کرتی ہیں جن پر عالمی سطح پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔