ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان سیلیکٹ کرے کہ وہ چین کے ساتھ ہے یا امریکہ کے۔سی پیک کے حوالے سے ڈیٹ ٹریپ کا پروپیگنڈابے بنیاد۔حکومت پاکستان کوئی قرضہ نہیں لے رہی قائم مقام سفیر لی جیان

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد-  پاکستان میں چین کے قائم مقام سفیر لی جیان نے کہاہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئیگی۔ سی پیک کا مقصد پاکستان کو اس کے پیروں پر کھڑا کرنا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا ملک،چین کی طر ح ابھر تی ہوئی معیشت بن سکتی ہے۔پاکستانی عوام میں بہترین صلاحیتیں موجود ہے۔چین پاکستان میں فیکٹریاں بنانے میں مدد کرے گا۔جس سے پاکستان کا تجارتی خسارہ ختم ہو گا۔ اگر پاکستان ایٹم بم بنا سکتا ہے تو پاکستان کیا کچھ نہیں کرسکتا۔پاکستان کو فیکٹریاں بنانی ہوں گی اور زیادہ سے زیادہ ایکسپورٹ کرنے کی اشیاء بنانی ہوں گی۔

جمعہ کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد دورہ کے موقع پر پاکستان میں چینی سفیر لی جیان نے کہا کہ سی پیک اہم چار شعبوں میں کام کر رہا ہے۔انرجی سیکٹر میں سی پیک پاکستان کو انرجی کے بحران سے نکلنے میں مدد دے رہا ہے۔پانچ سال قبل اسلام آباد میں سات گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی جوکہ اب زیروپر آگئی ہے۔ونڈ فارم، سولر پاور پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں۔سی پیک کا تیسرا پراجیکٹ گوادر پورٹ ہے چینی کمپنی گوادر فری زون کی تعمیر میں بھی مدد کررہی ہے۔ جس کے تحت پانچ ماہ میں گوادر میں بزنس سینٹر تعمیر کیا گیا۔ گوادر میں ڈی سیلینشن پلانٹ لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں بین الاقوامی آئیرپورٹ پر  بھیکام کر رہے ہیں۔چینی حکومت گوادر کے ہسپتال کو اپ گریڈ کر رہی ہے۔سی پیک کے چوتھے شعبے میں صنعتی سیکٹر شامل ہے۔صنعتی زون سے بے روزگاری کے مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔نو صنعتی پارکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔نئی حکومت آنے کے بعد صنعتی زونز کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

پائپ لائن میں چودہ پراجیکٹس شامل ہیں۔سی پیک کے 43 ارلی ہارویسٹ پروجیکٹس ہیں۔ چین کے پاکستان میں قائم مقام سفیر نے مزید کہاکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر بنانے میں چین اپنی کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان مشترکہ دشمن دہشت گرد ہیں۔پاکستان دونوں ممالک کواختلافات ختم کرکے ٹیبل ٹاک کرنا چاہئے۔اگر حکومتیں لڑیں گی تو دہشت گرد فائدہ اٹھائیں گی۔پاکستان اور بھارت کواپنی معیشتوں پر توجہ دینا چاہئے۔ دونوں ممالک اسلحہ کی دوڑ چھوڑ عوام کی مفاد میں کام کریں۔انہوں نے کہا کہ گوادر میں اس وقت تیس سے زائد پاکستانی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔پاکستانی سرمایہ کاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ گوادر فری زون میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں۔پاکستان سے جو سرمایہ کار ڈھاکہ اور دبئی چلے گئے تھے۔اب وقت آ گیا ہے کہ وہ پاکستان میں آکر کام کریں۔ چینی سفیر کا کہناتھا کہ سی پیک کے مختلف پراجیکٹس پر اس وقت 70 ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ صرف ایم فائیو منصوبے پر 24 ہزار مقامی ورکرز کام کر رہے ہیں۔

سی پیک کی حوالے سے اگر پاکستان اور چین کے درمیان کوئی مسائل یا اختلافات آتے ہیں۔ تو ان اختلافات کو دوستانہ انداز میں بات چیت کے زریعے حل کر لیتے ہیں۔ لی جیان نے کہا کہ ہاکستان میں اس وقت نگراں حکومت ہے۔ہمیں پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کا انتظار ہے۔بات چیت کے ذریعے کام آگے بڑھائیں گے۔ جی سی سی دوبارہ شروع کیا جائے گا۔  سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر کام جاری ہے۔  چین کے امریکہ کے ساتھ ورکنگ تعلقات ہیں۔ان کے ساتھ کوئی جنگ نہیں چاہتے۔آج کے دور میں ممالک کے درمیان مزاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان سیلیکٹ کرے کہ وہ چین کے ساتھ ہے یا امریکہ کے ساتھ۔سی پیک کے حوالے سے ڈیٹ ٹریپ کا پروپیگنڈابے بنیاد ہے۔سی پیک میں حکومت پاکستان کوئی قرضہ نہیں لے رہی

چینی سفیر لی جیان نے کہا کہ مغربی روٹ سی پیک کا سب سے چھوٹا روٹ ہے۔مغربی روٹ، مشرقی روٹ سے پہلے مکمل ہو گا۔روٹ کو مکمل کرنے میں پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔سی پیک کا مقصد پاکستان کو اس کے پیروں پر کھڑا کرنا ہے چین کے ساتھ اس وقت پاکستان کی ایکسپورٹ زیادہ نہیں ہیں۔ہم پاکستان کو توانائی اور انفراسٹرکچر مکمل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔چینی سفیر نے کہا کہ نیشنل پریس کلب انتظامیہ کا مشکور ہوں جنہوں نے موقع فراہم کیا۔ دلی خواہش پہلے سے تھی کہ پریس کلب آؤں۔ صدر نیشنل پریس کلب طارق محمود چوہدری،سیکرٹر ی این پی سی شکیل انجم، فنانس سیکرٹری نوشین یوسف، سمیت گورننگ باڈی کے ممبران نے چینی سفیر کا پرتباک استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چائنا کے درمیان برادرانہ تعلقات سے تجارتی شعبوں کو مزید تقویت ملے گی۔ 

29 June 2018