گیس کنکشنوں پر پابندی 6 اٹھا لی گئی ، حج اخراجات اور پی آئی اے کرایوں میں کمی کی ہدایت، وفاقی اداروں میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کے لئے پالیسی کی منظوری، وفاقی کابینہ

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد12اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ گیس کنکشنوں پر عائد پابندی 6 سال بعد اٹھا لی گئی ہے، ایل این جی اور آر ایل این جی کو سسٹم میں شامل کرنے سے گیس کی قلت پر کافی حد تک قابو پالیا گیا، وزیر اعظم محمد نواز شریف نے حج پالیسی 2017ء میں پہلی بار حج کے لئے جانیوالوں کو ترجیح دینے ، حج اخراجات اور پی آئی اے کرایوں میں کمی کویقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی اداروں میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کے لئے پالیسی کی منظوری دیدی گئی ہے،گریڈ ایک سے 15 کی باقاعدہ بھرتی میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو اضافی نمبر اور گریڈ 16 اور 17کو ایف پی ایس سی کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا، کم آمدن اور متوسط طبقے کو رعایتی ہاسنگ سکیم میں ترجیح دی جائے گی، وفاقی کابینہ نے جعلی اور زائد المعیاد ادویات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے پہلی مرتبہ بار کوڈنگ سسٹم متعارف کرانے کی منظوری بھی دی ہے ، کلبھوشن یادیو کو مروجہ قانون کے مطابق سزا دی گئی ہے ، کلبھوشن یادیو کے خلاف کارروائی پر بھارت کی دھمکی کوئی اہمیت نہیں رکھتی، ملکی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وہ بدھ کو وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ پی آئی ڈی میں وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دے رہی تھیں۔وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے بتایاکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 31 نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی بحث ہوئی اور ان کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کی طرف سے پہلی مرتبہ سبسڈائز ہاؤسنگ سکیم لائی جارہی ہے۔ وزیر ہاؤسنگ نے اس سکیم کے حوالے سے کابینہ کو بریفنگ دی۔ کابینہ نے ہاؤسنگ سکیم کی مختلف کٹیگریوں کا جائزہ لیا۔وزیر اعظم نے اس سکیم کے حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی قائم کی ہے۔

وزیر ہاؤسنگ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ممبران میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،فنانس اور ہاؤسنگ وزارتوں کے سیکرٹریز اس کے ممبر ہونگے یہ کمیٹی کم آمدن طبقے کے لئے گھروں کی فراہمی کے لئے ایس او پی کا تعین اور ہاؤسنگ سکیم کا حتمی ڈیزائن تیار کرکے دوبارہ منظوری کے لئے کابینہ میں پیش کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ اس سکیم میں ملک کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں اور کم آمدن لوگوں کو گھر فراہم کئے جائیں۔ 



کابینہ نے 2011 ء میں گیس کے کمرشل کنکشنوں اور 2009ء میں ہاؤسنگ سکیموں کو گیس کے کنکشن کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھانے کی بھی منظوری دی ہے۔یہ پابندی گیس کی قلت کے باعث عائد کی گئی تھی۔ موجودہ حکومت کی جانب سے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے بہتر حکمت عملی کے باعث آج ہمارے سسٹم میں ایل این جی اور آر ایل این جی کی وافر مقدار شامل ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پہلا ایل این جی ٹرمینل بھی مکمل آپریشنل ہے جو گیس کی قلت پر قابو پانے میں معاون ثابت ہو رہاہے۔



حج پالیسی کے حوالے سے بتایاکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے حج پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے ایک ڈائریکٹو جاری کیا جس میں وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حج کی مجموعی لاگت میں اضافہ نہ ہونے دیں اور سہولیات بھی اعلیٰ درجے کی دی جائیں کیونکہ گزشتہ 2سالوں سے حج پر جانے والے پاکستانی حجاج کرام نے حج کے بہترین انتظامات پر حکومت پاکستان اور وزارت مذہبی امور کی خدمات کو سراہا ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ سرکاری کوٹے کو بڑھایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سرکاری سکیم سے استفادہ حاصل کرسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری سکیم میں بھی ان خواہشمند افراد کو موقع دیاجائے جنہوں نے اس سے قبل حج کی سعادت حاصل نہیں کی یہی پالیسی پرائیویٹ حج سکیم پر بھی لاگو ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے پی آئی اے کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ حج کے کرایوں میں جو اضافہ کیا ہے وہ واپس لیاجائے۔ حج کے کرایوں میں کسی صورت اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ حج کے لئے جانیوالے پاکستانیوں کو بین الاقوامی معیار کی ٹرانسپورٹ کی سہولت 24گھنٹے فراہم کی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ وی آئی پی بسوں کا ماڈل بھی متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ دوران حج ایسا آٹو میٹک فیڈ بیک سسٹم متعارف کرایاجائے جو مشکلات کے فوری ازالے کو یقینی بنائے۔ 

فارماسیوٹیکل شعبے کے حوالے سے بتایاکہ وفاقی کابینہ نے جعلی اور زائد المعیاد ادویات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے پہلی مرتبہ بار کوڈنگ سسٹم متعارف کرانے کی منظوری بھی دی ہے۔ یہ بارکوڈنگ سسٹم دنیاکے مختلف ممالک میں لاگو ہے۔ پاکستان میں بارکوڈنگ سسٹم کو نافذ کرنے کے لئے ڈرگ ایکٹ میں ترامیم لائی جائیں گی۔ بارکوڈنگ کی سہولت میسر ہونے پر ہر صارف اپنے سمارٹ فون سے بار کوڈ کو سکین کرکے ادویات کی تیاری سمیت تمام معلومات دیکھ سکیں گے۔



وفاقی کابینہ نے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین بشمول اساتذہ کے حوالے سے پالیسی کی منظوری بھی دی ہے جس کے مطابق وفاقی اداروں میں گریڈ ایک سے 15تک ہونے والی باقاعدہ بھرتیوں میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ان ملازمین کو ترجیح ، عمر کی بالائی حد کے حوالے رعایت ، انٹر ویو میں تجربے کے مطابق اضافی نمبر دیئے جائیں گے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات‘نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایئر پورٹس کی آ?ٹ سروسنگ کے لئے سول ایوی ایشن نے 2015ء میں ایک پالیسی منظور کرائی تھی، بطور ریگولیٹر سول ایوی ایشن کے پاس ایئر پورٹس کی منجیمنٹ ،آپریشن اور مینٹیننس کی ذمہ داری تھی جو کہ ایک ساتھ اداکرنے میں مشکل کا باعث تھیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بین الاقوامی ایئرپورٹس کی منیجمنٹ اور مینٹیننس ہمیشہ آؤٹ سورس ہوتی ہے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ‘لاہور ‘کراچی ایئرپورٹس کی مینٹیننس اور مینجمنٹ آؤٹ سروس کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی پرائیویٹ کمپنی ایئر پورٹ بنانا چاہیے گی تو اس کا بھی خیر مقدم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ایئرپورٹس کی مینٹیننس اور منیجمنٹ آؤٹ سورس کرنے کے بعد سول ایوی ایشن اوور سائیٹ کاکردار ادا کرے گی۔



وفاقی کابینہ نے وزارت دفاع‘ صحت ‘موسیماتی تبدیلی ‘انسداد منشیات کی مختلف ممالک سے 21 مفاہمتی یادداشتیں تیار کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہاکہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر خواجہ آصف نے سینٹ میں بیان دے دیا ہے اور وزارت خارجہ نے بھی اس پر اپنا موقف ظاہر کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ کلبھوشن یادیو کے خلاف کارروائی پر بھارت کی دھمکی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ کلبھوشن کے خلاف مکمل تحقیقات کے بعد فیصلہ ہوا ہے۔ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔



طارق فضل چوہدری نے اس حوالے سے بتایا کہ پچھلے اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے سرکاری ملازمین کو کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر بغیر کسی قوائد و ضوابط کے رکھا گیا ‘ان ملازمین کی تعداد ہزاروں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گریڈ 16،17کے ملازمین ایف پی ایس سی کے ذریعے ہی آئیں گے ‘یہ ایسی پالیس ہے جس کے تحت وہ لوگ جن کا مستقبل ہوا میں ہے وہ مستقل ہوجائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کلبھوشن کے خلاف فیصلہ پاکستان میں مروجہ قوانین کے مطابق کیا گیا ہے ‘اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں برتا گیا ‘اگر یہ کام کوئی بھی غیر ملکی جاسوس کرے گاتو اس کی یہی سزا ہوگی۔