گورنرجی بی بیٹوں کوگرفتار کرانے تھانہ کوہسار پہنچ گئے،یہ وزیراعلیٰ کی سازش ہے،پرنس سلیم کاالزام

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد۔ ممبر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان میر سلیم خان نے کہا ہے کہ میرے اورمیرے خاندان کے درمیان فاصلے بڑھانے کیلئے گلگت سے اسلام آباد تک سازشی عناصر سرگرم ہوگئے ہیں۔ عدم اعتمادکی تحریک لانے سے متعلق خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد گلگت بلستان حکومت بوکھلا گئی ہے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے،جس جائیداد کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ جائیدادمیرے قبضے میں ہے اور اس کے اصل کاغذات میرے پاس ہیں۔ عدالت نے باقاعدہ اس کیس میں حکم امتناعی جاری کیا ہے حکم امتناعی کے ہوتے ہوئے ایف آئی آر کا اندراج توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کوئی گورنر کسی تھانے میں جاکر پولیس پر دباؤ ڈالے اور تھانے کے ایس ایچ او کو راتوں رات ٹرانسفر کیاجائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر مقامی اور نیشنل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پریس کانفرنس کے اعلان کے فوراً بعد سیکرٹری اطلاعات گلگت بلتستان نے رات گئے مجھے فون کرکے درخوست کی تھی کہ میں پریس کانفرنس کو ایک دن کیلئے ملتوی کروں تاکہ وہ میرے اور گورنر کے درمیان پیدا شدہ صورتحال کو سلجھانے کیلئے بات کریں۔ میں نے سیکرٹری اطلاعات کی درخواست پر پریس کانفرنس ملتوی کی تھی۔ لیکن آج مجھے پتہ چلا کہ گورنر گلگت بلتستان بذات خود تھانہ کوہسار گئے ہیں اور پولیس پر مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ پولیس مجھے اور میرے بھائی کو گرفتار کرے۔ گورنر کے اس اقدام کے بعد میرے پاس اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے میڈیا کا سہارا لینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

میر سلیم خان نے مزید کہاکہ اسلام آباد انتظامیہ چند حکومتی سازشی عناصر کے دباؤ پر عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہی ہے انہوں نے کہاکہ گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان انتہائی سادہ لوح انسان ہیں اور سازشی عناصر اس سادگی سے فائدہ اٹھا کر ہمارے خاندان میں دراڑیں ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ جائیداد کے تنازعے کے حوالے سے پرنس سلیم نے میڈیا کو بتایا کہ اسلام آباد میں وہ جائیداد جہاں بیٹھ کر میں آپ سے مخاطب ہوں۔ میرے قبضے میں ہے اور اس جائیداد کے اصل کاغذات میرے پاس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں سی ڈی اے کی جانب سے ایک اشتہار مختلف اخبارات میں شائع کروایا گیا تھا کہ مذکورہ جائیداد کے کاغذات ایک سی ٹی سی کاپی کے حصول کیلئے ایک فریق نے درخواست گزاری ہے اگر کسی کو اس ضمن میں اعترا ض ہو تو پندرہ یوم کے اندر اندر اپنا اعتراض داخل کروایا جا سکتا ہے جس پر میں نے سول عدالت سے رجوع کیا اور سی ڈی اے کے اس فعل کے خلاف باضابطہ حکم امتناعی جاری کیا گیا جو کہ ابھی تک قابل عمل ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود پولیس کسی کیخلاف ایف آئی آر درج کرے لیکن یہاں عدالتی حکم کو پس پشت ڈالتے ہوئے میرے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میں ضلع ہنزہ سے رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوا ہوں، میری گرفتاری یا قانونی کارروائی کرنے سے قبل سپیکر قانون ساز اسمبلی سے پیشگی اجازت قانونی تقاضا ہے۔ لیکن پولیس نے گورنر کے دباؤ پر اس قانونی تقاضے کو بھی نظر انداز کردیا۔ جس کی تمام تر ذمہ داری گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور آئی جی اسلام آباد پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیس نے میرے اور میرے بھائی کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ پرنس سلیم نے ا س موقع پر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس تمام سازش کے پیچھے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا بھرپور ہاتھ ہے۔ وہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے خبریں منظر عام پر آنے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور تقسیم کرو حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جب ٹیکس ایشو کھڑا ہوا تھا تو حکومتی بنچوں میں ،میں واحد ممبر تھا جس نے عوام کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے پارلیمانی اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ میرے ضلع کے ساتھ بھی سوتیلی ماؤں جیسا سلوک ہورہا ہے جب میں نے ان زیادتیوں اور نا انصافیوں پر آواز بلند کی تو و زیراعلیٰ میرے خلاف ہوگئے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ اس خاندانی چپقلش میں میرا نشئی بھائی بھی ملوث ہے جو تمام جائیداد پر قبضہ جمانا چاہتا ہے حالانکہ وہ نشے کی وجہ سے چار نوکریوں سے فارغ ہوچکا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مذکورہ بھائی لاہور میں چار مہینے زیر علاج رہا اور اس پر تقریباً بائیس لاکھ روپے خرچ ہوئے جو سرکاری خزانے سے ادا کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جو عوامی نمائندہ نہیں اور نہ ہی سرکاری عہدہ ہے اس پر سرکاری خزانے کے بائیس لاکھ روپے خرچ کرنا سنگین جرم ہے۔

پرنس سلیم نے کہا کہ مجھے عدالتی نظام پر بھرپور اعتماد ہے اور مجھے یقین ہے کہ حق کی فتح ہوگی۔ پرنس سلیم نے کہا کہ مذکورہ چھوٹا بھائی کبھی جعلی پولیٹیکل ایڈوائزر اور کبھی ایم ڈی نیٹکو بن کر اختیارات کا ناجائز استعمال کررہا ہے ۔ ذمہ دار اداروں کو چاہیے کہ وہ اس جعلساز کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ انہوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ تھانہ کوہسار پولیس مجھے میرے بھائی اور میرے ملازموں کو ہراساں کررہی ہے اگر پولیس کی طرف سے ہمارے خلاف کوئی غیر قانونی کارروائی ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری آئی جی پولیس اسلام آباد پر ہوگی