گرفتار نہیں ہو ا ۔این ٹی ایس کے دفتر پر نیب نے نہیں ایف بی آر نے کارروائی کی ۔جو ٹیکس جائز بنتا ہے وہ دیں گے۔ سی ای او

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)این ٹی ایس سب سے زیادہ کریڈیبل ادارہ ہے ہم فیڈرل اور صوبائی سطح پر ٹیسٹ کر رہے ہیں اور کسی بھی قسم کا پریشر نہیں لیتے۔ این ٹی ایس کے دفاتر پر نیب نے چھاپا نہیں مارا بلکہ ایف بی آر کو ریکارڈ درکار تھا مگر انہوں نے حد سے تجاوز کیا اور دیگر سامانا اور کمپیوٹر بھی ساتھ لے گئے جس پر ہم نے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل ٹیسٹنگ سروس NTSکے سی ای او ریٹائرڈ ایئرکموڈور ڈاکٹر شیرزادہ خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔

ڈاکٹر شیر زادہ نے کہا کہ میری اور دیگر سٹاف کی گرفتار ی کی غلط خبر چلائی گئی ۔ این ٹی ایس کے دفتر پر نیب نے نہیں بلکہ ایف بی آر نے کارروائی کی ہے اور ایف بی آر نے حد سے تجاوز کیا ہے جس پر ہم عدالت میں گئے ہیں ۔ ہمارے ایف بی آر کے ساتھ ٹیکسوں کے حوالے سے کچھ مسائل چل رہے ہیں۔ ایف بی آر والے ہمارا ریکارڈ غیر قانونی طریقے سے لیکر گئے ہیں جس پر ہم نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے ۔ ایف بی آر نے جو ٹیکس بنایا ہے وہ ہم نہیں دیں گے بلکہ جو ٹیکس جائز بنتا ہے وہ ہم دیں گے۔ انہو ں نے کہا کہ نوجوان طلباء ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں ہم ان کے مستقبل کے لئے شفافیت کو یقینی بنا رہے ہیں ۔ پیپر لیک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کچھ مافیا میرٹ کو برداشت نہیں کر رہا ۔

ہم چیئرمین نیب کے نوٹس لینے کو خوش آمدید کہتے ہیں اگر نیب انکوائری شروع کرتا ہے تو ہم مکمل تعاون کریں گے۔ پیپر لیک کے حوالے سے ہم نے ایف آئی اے سائبر ونگ کراچی میں کمپلین کی ہے ۔ شفافیت کا ہم اتنا خیال رکھتے ہیں کہ خود نیب ‘ ایف آئی اے اور دوسرے ادارے ہم سے ٹیسٹ کرواتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 150ملین کی سکالر شپ ضرورت مند طلباء کو دیئے گئے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شیر زادہ خان نے کہا ہم ہم ادارے میں جو ملازمین رکھتے ہیں ان کا بھی ٹیسٹ لیتے ہیں ۔ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ ہم سے ٹیسٹ کروائے بلکہ ادارے خود ہم سے رابطہ کرتے ہیں۔این ٹی ایس ذرائع کے مطابق ایک اخبار نے اس لئے گرفتاری کی غلط خبر چلائی کے اخبار میں کام کرنے والے ایک سینئر کارکن کا عزیز این ٹی ایس میں ملازم تھا جسے ادارے نے ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔