گجرات میں اوورسیز پاکستانی کے مکان پر قبضہ ،تھانہ سول لائن پولیس نے جھوٹی ایف آئی آر درج کرلی ،لیفٹ رائٹ کا دباؤ ہے ،ایس ایچ او ،انصاف دلایا جائے،عابد بٹ

Founder Editor Tazeen Akhtar..
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی طرف سے پاکستان میں تارکین وطن کو تحفظ دینے کے تمام دعوؤں کے باوجود تارکین وطن کے ساتھ زور زبردستی، ہراساں کرنے اور جائیدادوں پر قبضے کرنے کا عمل جاری وساری ہے اور انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ اس میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی قبضہ گروپوں کا ساتھ دیکر ملک کیلئے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے والے اوورسیز پاکستانیوں کی حق تلفی کا باعث بن رہے ہیں۔ نیویارک امریکہ میں 40 سال تک محنت کر کے گجرات شادمان کالونی میں گھر بنانے والے عابد بٹ کو بھی ایسے ہی مسئلے کا سامنا ہے۔ 
 
عابد بٹ کے گھر پر ان کے سوتیلے بھائی صادق بٹ عرف چاند نے قبضہ کر لیا ہے۔ جولائی میں عابد بٹ وطن آئے تو انہیں پتہ چلا کہ ان کے بھائی نے گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس پر انہوں نے قبضہ چھڑا کر سول جج نبضہ یاسین کی عدالت میں ملکیتی کاغذات پیش کر کے حکم امتناعی 4 اگست کو حاصل کرلیا۔ اس کے بعد عابد بٹ بیرون شہر گئے تو صادق بٹ نے تھانہ سول لائنز گجرات پولیس کی ملی بھگت سے دوبارہ گھر پر قبضہ کرلیا۔ عابد بٹ واپس پہنچے تو 9 اگست کی رات سول لائنز پولیس مسلح سول افراد جو صادق بٹ کے غنڈے تھے کو لے کر پہنچ گئی۔ اس موقع کی ویڈیو بھی ثبوت کے طور پر موجود ہے۔ بعدازاں عابد بٹ کو معاملہ حل کرانے کا جھانسہ دیکر پولیس نے دوبارہ صادق بٹ کا قبضہ کرا دیا جو کہ عدالتی حکم امتناعی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عابد بٹ پولیس اور غنڈوں سے تنگ آکر اسلام آباد منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے میڈیا سے ملاقات کر کے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔
 
اب گجرات پولیس تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او امیر عباس اور ڈی ایس پی فون کر کے عابد بٹ کو ہراساں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف چوری اور قبضہ کرنے کے جھوٹے مقدمے درج کر لئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے تھانیدار امیر عباس نے ’’اذکار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ درج کرنے کے لئے ان پر ’’لیفٹ رائٹ‘‘ کا دباؤ ہے۔ یہ دباؤ ڈالنے والے کا نام مجیب خان بتایا گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 14 اگست کو حکم امتناعی عابد بٹ نے لے لیا تھا جس کی تاریخ 8 ستمبر مقرر ہے مگر گجرات سول لائن پولیس نے 9 اگست کو صادق بٹ کی طرف سے آنے والی درخواست پر ایف آئی آر درج کرلی جس سے پولیس کی بدنیتی، مدعا علیہ کے ساتھ ملی بھگت اور اوپر سے دباؤ ثابت ہو جاتا ہے۔
 
پولیس تھانہ سول لائن نے نہ صرف حکم امتناعی کی کھلی خلاف ورزی کی بلکہ عدالت میں زیر سماعت معاملہ کو تھانے میں طے کرنے کی کوششیں کر کے اور ناکامی پر ایف آئی آر درج کر کے اپنی مکمل جانبداری کا ثبوت دیا۔ اس بارے عابد بٹ نے قائمقام ڈی پی او گجرات، آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سول لائن گجرات پولیس کی اصلاح کی جائے۔ ان کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کی جائے۔ عابد بٹ نے وفاقی محتسب اوورسیز کمشنر حافظ احسان اللہ کھوکھر سے بھی اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیکر ان کی دادرسی کی جائے۔ علاوہ ازیں عابد بٹ نے مینجنگ ڈائریکٹر او پی ایف حبیب الرحمان گیلانی کے بارے بھی انصاف کے لئے درخواست جمع کرا دی ہے۔
 
17 Aug 2017