کیلبری فونٹ کی سہولت 2005 ء میں موجود تھی استغاثہ کے گواہ رابرٹ ولیم ریڈلے کا بیان قلمبند

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور شریف فیملی کے خلاف اسلام اباد کی احتساب عدالت میں دائر نیب ریفرنسز کی سات گھنٹوں پر مشتمل طویل سماعت آج جمعہ کی دوپہر دو بجے تک ملتوی ہو گئی ہے۔ استغاثہ کے گواہ رابرٹ ولیم ریڈلے نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ ونڈو ویسٹا بی ٹا کے ساتھ کیلبری فونٹ کی سہولت موجود تھی ۔انہوں نے وکیل صفائی کی جرح کے دوران بتایا کہ ونڈو ویسٹا کے تین ایڈیشن جاری ہوئے۔ پہلا ایڈیشن 31 جنوری 2007 ء کو جاری ہوا۔ ونڈو ویسٹا بی ٹا کا پہلا ایڈیشن 2005 ء میں آئی ٹی ماہرین کیلئے جاری کیا گیا تھا۔ اس موقع پر وکیل صفائی خواجہ محمد حارث نے جرح میں استفسار کیا کہ ونڈو ویسٹا بی ٹا کے کیلبری فونٹ ہزاروں لوگ استعمال کر رہے تھے جس پر استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ محدود پیمانے پر آئی ٹی کے ماہرین کو لائسنس کے ساتھ فراہم کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ وہ نوٹس دیکھ کر سوالوں کے جواب دے رہے ہیں اور انہوں نے یہ نوٹس جرح کیلئے تیار کئے۔

گزشتہ روز اس حوالے سے میٹنگ بھی ہوئی اور بحث بھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ1976 ء سے فرانزک ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ ہیں اور30 جون 2017 ء کو کیوئسٹ سولیسٹر نے دو ڈکلیریشنز کا موازنہ کرنے کیلئے ان کی خدمات حاصل کیں۔ رابرٹ ریڈلے نے کہا کہ نیلسن اور نیسکول کے دونوں ڈیکلیریشنز پر تاریخوں کی تبدیلی کا موازنہ بھی کیا۔ وکیل صفائی خواجہ محمد حارث ، استغاثہ کے پہلے غیر ملکی گواہ پر کل اپنی جرح جاری رکھیں گے۔ شریف فیملی کے خلاف دائر ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔دوپہر میں سماعت کے دوبارہ آغاز پر لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر ابن عباس کا بیان قلمبند کیا گیا۔

انہوں نے استغاثہ کے دونوں گواہوں کی شناخت کرائی۔ استغاثہ کے دوسرے غیر ملکی گواہ اختر ریاض راجہ ہیں۔ شریف فیملی کے دو نمائندے سعد ہاشمی اور بیرسٹر محمد امجد ملک بھی لندن ہائی کمیشن میں موجود تھے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی اور امجد مجید اولکھ ، ڈائریکٹر انویسٹی گیشن لاہور نے استغاثہ کی نمائندگی کی۔ وکیل صفائی خواجہ محمد حارث نے نیب پراسیکیوٹر کی لندن ہائی کمیشن میں موجودگی پر اعتراض اٹھایا۔ سردار مظفر عباسی نے جواب میں احتساب عدالت کے13 فروری کے فیصلے کا حوالہ دیا جس کے بعد انہیں بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔ سماعت کے آغاز پر سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور شریف فیملی کے خلاف ضمنی ریفرنسز پر احتساب عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

صبح عدالتی کارروائی میں وکیل صفائی خواجہ حارث کی معاون وکیل عائشہ حامد پیش ہوئیں۔ ضمنی ریفرنسز پر دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب نے دستاویزات اوپن ذرائع سے حاصل کیں۔انہوں نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ضمنی ریفرنس کا مقصد یہ ہے کہ پہلا ریفرنس کمزور تھا۔

عائشہ حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ چھ ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ سنایا جائے ۔مقرر کردہ وقت ختم ہونے کو ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ ضمنی ریفرنسز کی تیاری کے لیے وقت د یا جائے۔ عائشہ حامد نے اپنے دلائل میں کہا کہ احتساب عدالت سپریم کورٹ سے چھ ماہ کا وقت بڑھانے سے متعلق استدعا کرے۔ نیب پراسیکیوٹرنے ضمنی ریفرنسز پر اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے مقرر کردہ وقت میں کیس ختم ہو جائے گا۔ عدالت نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز کو دوپہر دوبارہ سماعت کے لیے حاضری سے استثناٰ دے دیا جبکہ کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ استغاثہ کے گواہ اور جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے احتساب عدالت میں ریکارڈ پیش کیا۔