کیا ذات خداوندی ایک ولیہّ خاتون کی رفاقت عمران خان کو مرحمت فرما کر پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے؟ تحریر : رانا عبدالباقی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

rabaqi@sapulse.com 

مولانا مفتی محمد ارشاد القاسمی نے اپنی کتاب جنتی عورت میں حضورؐ کے اِس ارشاد کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نیک و صالح عورت کو آدھا دین کہا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسی مبارک عورت کی وجہ سے دین و دنیا دونوں کا فائدہ ہوتا ہے ۔ دنیا کا فائدہ تو یہ ہے کہ محبت و سکون سے گھریلو زندگی خوشگوار و راحت سے گزرتی ہے اور آخرت کو فائدہ یہ ہے کہ نیک و صالح عورت دین کے معاملے میں شوہر کی مدد کرتی ہے، نماز روزہ اور دیگر امور میں شوہر کو سہولت بہم پہنچاتی ہے اور نیک و صالح عورت کی وجہ سے گنااہ و فواحش کا گھر میں دخل نہیں ہوتا ہے۔ 

انتخابات 2018 سر پر ہیں اور سیاسی قیادت چولے بدل بدل کر عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہیں۔ البتہ یہ اَمر بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اسلامی تعلیمات سے روگرانی کرنے کے سبب سیاسی پارٹیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور حیران کن طریقے سے بیشتر سیاستدان عمران خان کی تحریک انصاف میں شریک ہوئے ہیں تو کیا ذات خداوندی سیاسی میدان میں نئے اُبھرتے ہوئے سیاسی رہنما عمران خان جن کی ذات سیتا وائٹ سے لیکر سابقہ بیوی کی فحش نگاری سے بھرپور کتاب کی داستانوں تک محیط ہیں کو اصلاح احوال کیلئے بشریٰ بی بی کی شکل میں ایک ولیہّ خاتون کی رفاقت مرحمت فرما کر پاکستان کو پھر سے اپنے قدموں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے؟



وقت ہی اِس کا جواب دیگاالبتہ گزشتہ روز محترمہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے سیاسی گھر کو اچھائی کی آواز بنانے کیلئے جس اسلامی خوبی سے جدت پسند خواتین کو متاثر کیا ہے جس کے باعث اِن خواتین میں ٹکٹ کی خواہشات کی جگہ آنسوؤں نے لی، اُس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ ذات خداوندی عمران خان کی زندگی میں ایک نیک و پرہیز گار خاتون کے ذریعے مملکت پاکستان میں پیغمبراسلامؐ کی تعلیمات پر مبنی جناح ؒ و اقبالؒ کی فکر کو پھر سے مہمیز دینا چاہتی ہے۔ 



اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ مملکت خدا داد پاکستان دین اسلام کی برکتوں کے سبب " پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" کے نعرے پر وجود میں آیا تھا ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی جنہیں تحریک پاکستان کے زمانے میں اہم قومی معاملات پر قائداعظم سے مشاورت کا شرف بھی حاصل رہا نے مقتدر مذہبی ذرائع کیمطابق پاکستان بننے کے بعد قائداعظم سے دریافت کیا کہ وہ مسلم انڈیا میں انتشار کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے ہندوستان چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے تھے تو پھر 1935 میں و اپس آکر تحریک پاکستان کی تنظیم نو کیونکر کی۔



قائداعظم نے اُنہیں ایک شرط پر کہ اُن کی زندگی میں اِس موضوع پر کسی سے گفتگو نہ کی جائے یہ فرمایا تھا کہ 1934 میں لندن میں اپنی رہائش گاہ پر وہ مسلم انڈیا کی بے بسی اور بیکسی پر خاصے مغموم تھے کہ اِسی دوران عالم غنودگی میں اُن پر کپکپاہٹ کی کیفیت طاری ہوئی اور پیغمبر اسلام کی جانب سے بشارت ملی کہ جناح تمہاری ضرورت ہندوستان میں ہے، جاؤ اور مسلمانوں کی قیادت کرو تمہیں کامیابی ہوگی ۔چنانچہ 1940 میں قرارداد پاکستان کی منظورہوئی اوراگست 1947 میں پاکستان وجود میں آگیا۔

مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کی نماز جنازہ کے موقع پر قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس نے مسلمانانِ ہند کی بربادی اور مایوسی کو فتح میں بدل دیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنوں اور غیروں کی سازشوں کے باوجود پاکستان 27 رمضان المبارک کی رحمتوں کے سبب آج بھی زندہ و پائندہ ہے۔سوال یہی ہے کہ کیا نئے انتخابات کے بعد یہ ولیہّ خاتون بشریٰ بی بی عمران خان کو مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دین اسلام پر گامزن کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتی ہے؟ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو۔