کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیر کے لوگ کریں گے

Founder Editor Tazeen Akhtar..

-------- پروفیسر تقدیس گیلانی------------
اقوام متحدہ نے 5 ؍جنوری1949ء کو ایک قرارداد کے ذریعے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی‘ پیدائشی اور ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی ضمانت ان الفاظ میں دی تھی کہ ’’ریاست جموں و کشمیر کے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاملہ جمہوری طرز فکر کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گا۔‘‘ یہ قرارداد 5؍جنوری1949ء کو پاس کی گئی۔ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’ہم نے اس بات کا برملا اعلان کیا ہے کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیر کے لوگ کریں گے۔ یہ عہد ہم نے نہ صرف کشمیریوں بلکہ پوری دنیا سے کیا ہے اور ہم اس عہد سے پیچھے نہ ہٹیں گے اور نہ ہٹ سکتے ہیں۔‘‘
پنڈت جواہر لعل نہرو نے اسی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے 26؍جون1952ء کو بھارتی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’اگر رائے شماری کے بعد کشمیر کے لوگوں نے کہا کہ ہم ہندوستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو ہم اس بات کے پابند ہیں کہ ان کے فیصلے کو تسلیم کریں۔ ہم اسے تسلیم کریں گے چاہے اس سے ہمیں تکلیف ہی ہو۔‘‘
اقوام متحدہ کی قرارداد اور بھارت کی مقتدر سیاسی قیادت کی یقین دھانی کے باوجود کشمیر کے عوام کا حق خودارادیت تا حال ایک سوالیہ نشان کی صورت میں اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر کا اس سال کو حق خودارادیت کے سال کے طور پر منانے کا فیصلہ بروقت‘ برمحل اور سیاسی فراست کا حامل ہے۔ اس خطے میں گزشتہ ایک ڈیڑھ دھائی کے دوران وقوع پذیر ہونے والی ناقابل یقین سیاسی‘ جغرافیائی اور سٹریٹجک تبدیلیوں نے اس خطے کو عالمی طاقتوں کا مرکز نگاہ بنا دیا ہے۔ کچھ عرصہ تک مسئلہ کشمیر یقیناًپس منظر میں چلا گیا تھا۔ 80کی دھائی کے آخر میں شروع ہونے والی انتفادہ نے اس میں نئی روح پھونکی۔

بھارتی حکومت نے گزشتہ عرصے میں مقبوضہ کشمیر اور بالخصوص وادی کے اندر اپنی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے پہلے سے ظلم و جبر کا شکار کشمیری عوام پر عرصہ حیات اور تنگ کر دیا‘ جس پر عالمی سطح پر بھی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ خصوصاََ چین اور ایران کی حکومتوں نے اپنے روایتی دوستانہ طرز عمل کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی روئیے کی شدید مذمت کی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پیش منظر میں حکومت آزادکشمیر کو رکھتے ہوئے حکومت پاکستان قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس سال کو بھرپور انداز میں منانے کا اہتمام کرے جس کے لئے چند تجاویز پیش ہیں۔

-1 دنیا کے اہم ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانے وہاں کے ممبران پارلیمنٹ‘ اخبار نویسوں‘ دانشوروں‘ وکلأ تنظیموں‘ یونیورسٹیز کے اساتذہ‘ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں‘ ڈاکٹروں کی تنظیموں کے نمائندوں‘ ذرائع ابلاغ کے اداروں اور تنظیموں کے علاوہ معاشرے کے دیگر اہم طبقات کے نمائندوں کو کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے یاداشتیں ارسال کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان سے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھی درخواست کریں۔

-2 پاکستانی وزارت خارجہ مختلف ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے سفارت خانوں کو بھی اس طرح کے میمورنڈمز بھجوانے کا اہتمام کرے جو یقیناًآزادکشمیر کی حکومت اور منتخب کشمیری نمائندوں کی طرف سے ہی ہونے چاہئیں۔

-3 مختلف ممالک میں کشمیری ڈاکٹروں‘ پروفیسروں‘ وکلأ‘ دانشوروں‘ صحافیوں‘ ادیبوں اور شاعروں پر مشتمل وفود بھیجے جائیں جو وہاں پر اپنے ہم پیشہ حضرات کو مسئلہ کشمیر اور حق خود ارادیت کے بارے میں بتا کر رائے عامہ ہموار کر سکیں۔

-4 آزادکشمیر کے علاوہ پاکستان کے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے سیمینار‘ کانفرنسز اور مذاکرے منعقد کئے جائیں۔
-5 پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں علمی‘ ادبی‘ ثقافتی اور دینی تنظیمیں اس سال کے حوالے سے تقریبات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کے اظہار کے طور پر بینرز‘ پوسٹرز اور آزادکشمیر کے جھنڈے نصب کریں۔

-6 ادیب‘ شاعر اور دانشور وہی کردار ادا کرتے ہوئے جو انہوں نے تحریک قیام پاکستان کے دوران ادا کیا تھا خود کو تحریک آزادئ کشمیر کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر فکری اور نظریاتی شعبے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ‘سابق ہردلعزیز وزیر اعظم پاکستان اور دنیائے اسلام کے عظیم لیڈر جناب ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش بھی 5 جنوری کو ہی ہے اور پاکستان و آزادکشمیر میں اس وقت پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومتیں قائم اور بھٹو صاحب کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے رواں دواں ہیں۔ اس پارٹی کی اساس اور بنیاد ہی اس کے بانی چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے مسئلہ کشمیر کے پس منظر میں رکھی تھی اور بھٹو صاحب نے اپنی زندگی اور سیاست کا مرکز و محور کشمیر اور کشمیریوں کی آزادی کو بنا رکھا تھا۔ انہوں نے اپنے دور سیاست و حکومت میں متعدد بار اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ’’کشمیر کی آزادی کے لئے ہمیں اگر ایک ہزار سال بھی جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ‘ اسلامی سربراہی کانفرنس
اور دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کشمیریوں کی بھرپور نمائندگی کی۔ بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد قیادت کا بیڑہ ان کی کمسن صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اٹھایا۔

انہوں نے بھی ملک کے محروم و محکوم طبقات کو ان کا حق دلانے کے علاوہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کے لئے دن رات ان تھک محنت و کوشش کی۔ اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران نے انہوں پارلیمنٹ کے اندر کشمیر کمیٹی قائم کی اور OIC کے رابطہ گروپ میں کشمیریوں کو نمائندگی دلانے کے لئے کشمیر ڈیسک قائم کرایا۔ تادم شہادت انہوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا۔ ان کے دور میں کئی مرتبہ پاک بھارت مذاکرات میں کشمیر ایشو کو Discuss کیا گیا مگر شومئی قسمت کہ ہماری یہ عظیم لیڈر بھی جام شہادت نوش کرتے ہوئے ہم سے جدا ہو گئیں۔ اس وقت پاکستان اور آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومتیں قائم ہیں اور جناب آصف علی زرداری اور محترمہ فریال تالپور کی قیادت میں ملک کی ترقی‘ عوام کی خوشحالی اور کشمیریوں کی آزادی کے لئے کوشاں ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی پرامن طریقے سے کامیاب ہو اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کشمیر کی آزادی کے لئے جو جدوجہد شروع کی تھی وہ کامیابی سے ہمکنار ہو۔ (آمین)