ڈیورنڈلائن بارڈربن چکی ۔اس حوالے سے کوئی تنازعہ ہے نہ دباؤ ۔وفاقی وزیرسرحدی وریاستی امور

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(تزئین اختر/نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیرسرحدی وریاستی امورلیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈعبدالقادربلوچ نے کہاہے کہ ڈیورنڈلائن بطوربین الاقوامی بارڈرقائم ہوچکی ہے ۔یہ صرف کے پی کے میں نہیں بلکہ تقریباً ڈیڑھ ہزارکلومیٹربلوچستان کے ساتھ بھی ہے اوروہاں بھی بطوربارڈرنافذہے ۔افغانستان کے حوالے سے پاکستان پرکسی طرف سے کوئی دباؤنہیں اورپاکستان تمام مثبت اقدامات اٹھارہاہے۔دونوں ملکوں میں موجودہ کشیدگی کے اثرات افغان مہاجرین کیلئے ہونے والے اقدامات پرنہیں پڑنے دیں گے ۔وہ گزشتہ روزورلڈفوڈپروگرام کے دفترمیں ایڈیٹرتزئین اخترکے ساتھ گفتگوکررہے تھے ۔



ان سے پوچھاگیاکہ فاٹاکوکے پی کے میں ضم کرنے کی اطلاعات پرافغان حکومت نے ردعمل ظاہرکیاہے کہ ان سے بات کی جانی چاہیے تھی کیونکہ فاٹاڈیورنڈلائن سے منسلک ہے اوریہ لائن بین الاقوامی بارڈرنہیں ہے ؟اس پروفاقی وزیرنے کہاکہ ڈیورنڈلائن ہی بارڈرہے اوراس حوالے سے کوئی تنازعہ نہیں ۔کے پی کے کے علاوہ بلوچستان میں بھی یہ موجودہے اورانٹرنیشنل بارڈرشمارہوتی ہے ۔ان سے پوچھاگیاکہ افغان سفیرنے بارڈربند ہونے پرکہاکہ ہم اپنے شہریوں کولے جانے کیلئے چارٹرطیارہ منگوالیں گے ۔اس بات سے ان کی کیامرادہے ؟

وفاقی وزیرنے کہاکہ ایساانہوں نے اس لیے کہاہوگاکیونکہ بارڈربندہونے کی وجہ سے اورکوئی ذریعہ نہیں رہ جاتاالبتہ یہ بیان صرف بیان ہی ہے جس کامقصدتوجہ حاصل کرناہوسکتاہے ۔



عبدالقادربلوچ نے کہاکہ دنیادونوں طرف کے اقدامات دیکھ رہی ہے اوریہ تاثرغلط ہے کہ پاکستان پرہی دباؤڈالاجارہاہے ۔ہم پرکوئی دباؤنہیں ہے ۔وفاقی وزیرنے کہاکہ افغان مہاجرین کوعزت احترام سے واپس بھیجاجائے گااورتب تک ان کوصحت اورتعلیم سمیت تمام سہولتیں پاکستانی شہریوں کے برابرحاصل ہیں ۔دونوں ملکوں میں موجودہ کشیدگی کے باعث افغان مہاجرین متاثرنہیں ہوں گے ۔ہم اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں ۔