چین نے جیش محمداور لشکر طیبہ کو دہشت گرد قرار دے کر خفگی کا اظہار کر دیا

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اظہر سید

پاکستان کے عظیم حلیف چین نے برکس کانفرنس میں جیش محمداور لشکر طیبہ کو دہشت گرد قرار دے کر پاکستانی فوجی اشرافیہ سے اپنی خفگی کا اظہار کر دیا ہے چینی کبھی بھی براہ راست اپنی ناراضگی ظاہر نہیں کرتے بلکہ اشاروں اور کنایوں سے اپنا نکتہ نظر واضح کر دیتے ہیں اس مرتبہ چینیوں نے برکس کانفرنس میں پاکستانی اشرافیہ کے امریکہ کے کمزور ہو جانے اور اپنے عقلمند ہونے کے اس غبارے میں نوکیلی پن چبھوئی ہے جو سی پیک کی وجہ سے امریکیوں کو آنکھیں دکھانے لگا تھا چینیوں کے پیغام کو پاکستانی اشرافیہ سنجیدگی سے لیتی ہے یا پھر اپنی ہمیشہ کی روش پر قائم رہتی ہے اس کا اندازہ آئندہ دنوں میں ہو جائے گا اور اگر چین کے پیغام کو سنجید گی سے نہ لیا گیا تو پاکستان کی مشکلات میں اضافہ یا دوسرے لفظوں میں پاکستانی اشرافیہ کو مستقبل قریب میں ٹف ٹائم کیلئے تیار رہنا ہو گا اور ہماری رائے میں پاکتانی اشرافیہ کی زنبیل میں اب صرف لے دے کر ایک چین ہی باقی بچا ہے جو اس کو پیش آئندہ مشکلات سے بچا سکتا ہے ۔
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نا اہلی سے قبل جب پاکستانی میڈیا میں کل 411 اینکرز میں سے 34 اینکرز کے زریعے ایک طوفان اٹھایا گیا تو چینی سی پیک کی وجہ سے مضطرب تھے اور ہوتے بھی کیوں نہ ان کے صرف 60 ارب ڈالر سی پیک پر داو پر نہیں لگے ہوئے تھے بلکہ چینیوں کے اس منصوبے سے ان کا سنہری مستقبل بھی مشروط تھا ،چینیوں کی طرف سے اشاروں کنایوں میں پاکستان میں پیدا ہونے والی سایسی بے یقینی پر عدم اطمینان ظاہر کیا جا رہا تھا اور میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پاکستان کے ہنگامی دورہ پر آنے والے ایک اعلی سطحی چینی وفد کو چیف صاحب جنرل باجوہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سی پیک کو کچھ نہیں ہو گا اور پاک فوج اس منصوبے کی پشت پناہ ہے اور اس کے بعد چینی سفارت خانہ میں ہونے والی ایک سفارتی تقریب میں پاکستان کی تمام فوجی قیادت نے شرکت کر کے چینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا لیکن برکس کانفرنس جس میں برازیل ،جنوبی افرایقی بھارت ،روس اور چین شامل ہیں کے جاری کردہ اعلامیہ میں افغانستان اور خطہ میں دہشت گردی پر تشویس کا اظہار ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس کی مذمت بھی کی گئی ہے ۔معاملہ یوں بھی خراب ہے کہ اس کانفرنس کا انعقاد بھی چین میں ہوا تھا اور پریشانی کا باعث یوں بھی ہے کہ اقوام متحدہ میں حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دینے کا معاملہ چینی ویٹو کی وجہ سے تاحال طے نہیں پا سکا اور اب برکس کانفرنس میں نئے حلیفوں روس اور چین نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو دہشت گرد قرار دے کر صرف بھارت کو خوشی سے چھلانگیں لگانے کا موقع فراہم نہیں کیا پاکستان کی فوجی اشرافیہ کی پریشانی کا بھی کافی بندوبست کر دیا ہے ۔
 برکس کی گزشتہ سال ہونے والی کانفرنس سے چند روز پہلے اوڑی حملہ ہوا تھا اور اس کا بہانہ بنا کر بھارت نے پوری دنیا میں ایک طوفان برپا کر دیا تھا اور پاکستانی لشکر طیبہ اور جیش محمد پر حملہ کا الزام عائد کرتے ہوئے برکس کانفرنس کے اعلامیہ میں ان دونوں جماعتوں کو دہشت گرد قرار دلانے کی کوشش کی تھی لیکن چین نے بھارت کی یہ کوشش ناکام بنا دی تھی لیکن اس مرتبہ ایسا کیا ہوا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف پالیسی اور پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کے الزام کے بعد چین نے بھی نہ صرف حقانی نیٹ ورک کو برکس کانفرنس کے اعلامیہ میں شامل کرنے کی اجازت دی بلکہ بھارت کی طرف سے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو دہشت گرد قرار دینے کی بھی اجازت دے دی ،یہ معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں چینیوں کی نا راضگی دور کرنا ہو گی اور اس کیلئے تمام درکار اقدامات بھی کرنا ہونگے آپ اکیلئے پراکسز کا کھیل نہیں کھیل سکتے بھارت اور امریکہ اور ان کے حواری ممالک کا مقابلہ کرنے کیلئے آپ کو چین اور روس کی ضرورت ہے ورنہ آپ سچ مچ عالمی تنہائی کا شکار ہو جائیں گے ۔
 سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف جس تیز رفتاری سے سی پیک کی تکمیل میں مصروف تھے وہ چینیوں کیلئے بہت اطمینان کا باعث تھا اور ہمیں اس بات کی خبر ہے کہ پاکستان کو سیاسی افراتفری سے بچانے کیلئے چینوں نے سابق وزیر اعظم کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی نا اہلی کے خلاف کوئی احتاجی تحریک نہ چلائیں اور سی پیک کے خلاف امریکی اور بھارتی سازش کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور سابق وزیر اعظم نے صرف جی ٹی روڈ کی ریلی کے بعد اپنی سیاسی طاقت ظاہر کر کے خاموشی اختیار کر لی اور چینیوں کے مشورے پر عمل کیا ۔برکس کانفرنس پاکستانی اشرافیہ کیلئے ایک پیغام ہے کہ وہ خوش نہیں اس پیغام کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور چینیوں کے اضطراب کو دور کرنے کیلئے تمام درکار اقدامات کرنا ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں اور چینی اب دنیا کی حقیقی عالمی طاقت بن چکے ہیں اور جارحانہ اقدامات کر رہے ہیں ۔شمالی کوریا کے ہایڈروجن بم کے تجربہ کے بعد سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں چین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں جنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تجربہ کے بعد سامنے آنے والی امریکی دھمکیوں کو ہوا میں آڑا دیا ،ہماری ناقص رائے میں چینی پاکستان میں پچھلے چند ماہ کے دوران پیش آنے والے واقعات سے ناخوش ہیں اور انہوں نے برکس کانفرنس کے اعلامیہ کے زریعے اس نا خوشی کا اظہار بھی کر دیا ہے اس معاملہ کو انا کا یا جمہوریت مستحکم نہ ہو جائے کا مسلہ بنا کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ ٌپاکستان کی سلامتی کا معاملہ ہے ۔