چین مسئلہ کشمیر پر بالواسطہ ، اقوام متحدہ بر اہ راست فریق،سیکرٹری جنرل سب جانتے ہیں ،مسعود خان

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد( تزئین اختر)صدر آزاد کشمیر سردارمسعود خان نے کہا ہے کہ چین بر اہ راست نہیں بلواسطہ مسئلہ کشمیر کا فریق ہے۔ اسلامی فوجی اتحاد دہشتگردی کیخلاف ہے ۔جس کاکشمیر اور فلسطین میں کارروائی کرنے کا سوال بعید ازقیاس ہے۔تاہم اس میں تمام مسلمان ممالک شامل ہونے چاہئیں، تقسیم سے نقصان کا اندیشہ ہے۔مسئلہ کشمیر پاکستان، بھارت کا دو طرفہ مسئلہ نہیں بلکہ کشمیری اس کے بنیادی فریق اور اقوام متحدہ بھی اس کا فریق ہے۔ نئے سیکرٹری جنرل مسٹر اینتونیو مسئلہ کشمیر کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سردار ابراہیم خان اور سردار عبدلقیوم خان سمیت کشمیر کے تمام صدور اور وزراء اعظم نے اپنے اپنے ا دوار میں بھرپور کردار ادا کیا مگر بحثیت صدر آزاد کشمیر مجھ سے زیادہ توقعات وابستہ رکھی گئیں کیونکہ میرا ایک سفارتی پس منظر ہے۔ ہم نے ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے کام کیا ہے۔ اورکوششیں جاری ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا ،صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہندوستان کے منفی پروپیگنڈہ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مسخ کردیا جس کے باعث عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل میں مشکلات درپیش ہیں۔ میں نے امریکہ اور یورپ کے دورہ کیے اور مسئلہ کشمیر کیلئے تمام اہم پلیٹ فارم پر بات کی یورپی کمیونٹی سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی گئی جس کی جانب سے کافی پذیرائی ملی ہے۔

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ میں یہ ہر گز نہیں کہہ سکتا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے میں اپنے مشن میں کامیاب ہوچکا ہوں بلکہ اس پر مزیدابھی بہت کام کرنا باقی ہے جس کیلئے ہم مسلسل مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1948 ء میں جب سے بھارت مسئلہ کشمیر کو یو این او میں لیکر گیا اس وقت سے مسئلہ کشمیر کے تین بنیادی فریق پاکستان بھارت اور کشمیری عوام ہیں ۔جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ اقوام متحدہ بھی مسئلہ کا اہم فریق ہے جس کو ملا کر کل چار فریق بنتے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر سے جب سوال کیا گیا کہ چین بھی کشمیرکا فریق نہیں ؟ اس سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ چین بر اہ راست کشمیر کافریق نہیں بلکہ بلواسطہ کشمیر کا فریق ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ سرحد ی معاہدہ ،دریائے سندھ کا منبع،سی پیک کا خالقہے اور اب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے اس کی ہمیت اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر سے جو بھی وفد چین جاتا اور آتا ہے حتی کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے سرکاری افسران بھی جو چین جاتے ہیں ان کیلئے چین نے الگ شناختی دستاویز رکھی ہے اور چین نے کھبی میں مقبوضہ کشمیر کے طلباء ہوں یا دیگر افراد ان کو بھارتی پاسپورٹ پر ویزا جاری نہیں کیا نہ ان کو بھارتی شہری تسلیم کیا ہے جس سے چین کی کشمیر پر واضح پالیسی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈس ریور کے حوالے سے بھی چین کا مسئلہ کشمیر پر ایک رول ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل مسٹر اینتونیو نے زلزلے اور سیلاب میں پاکستان کی مدد کی۔ وہ مسئلہ کشمیر کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں۔

صدر سے جب سوال کیا گیا کہ چین پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے اس کو ہم کس زاویے سے دیکھ سکتے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں صدر مسعود خان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اور بھارت کے درمیان سیاسی بنیادوں پر اختلاف موجود ہیں مگر معاشی طور پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ وسیع سرمایہ کاری میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ بھاری حجم کے معاہدوں کو ہم بھارت کی آبادی کے تناسب سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ بھارت کے ہزاروں تاجر اور سرمایہ کار چین میں آتے جاتے ہیں اور کام کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور چین کے تعلقات پر چین اور بھارت کے تعلقات کا اثر نہیں پڑے گا پھر بھی ہمیں اس بات پر نظر رکھنا پڑے گی کہ چین اور بھارت کے ساتھ تعلقات کیسے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری میں بھارت کی شمولیت کے حوالے سے بھارت کی نیت پر شک و شہبات ہیں ۔یہ خود بھارت کے مفاد میں ہے کہ وہ پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے مگر بھارت کے ماضی کے ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بھارت پاکستان کے ساتھ کھبی بھی مخلص نہیں رہا اور نہ بھارت کو پاکستان کی معاشی ترقی ہضم ہورہی ہے کیونکہ جب پاکستان کے ساتھ چین نے اقتصادی راہداری منصوبے کا آغاز کیا تو بھارت اسے برداشت نہیں کرسکا۔ بھارت نے امریکہ سمیت دیگر ممالک اور چین میں شور شرابا شروع کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ نہیں ہونا چائیے اور اس حوا لے سے بھارت نے کئی ممالک کے سفیروں کو بلا کر بھی اپنی بے چینی کا اظہار کیا کیونکہ بھارت نہیں چاہتا پاکستان معاشی طور پر خوشحال ہو اور ترقی کی راہ پر گامزن۔ اسی طر ح ابھی حال ہی میں یو این او انسانی حقوق کمیشن نے جب آزاد کشمیر کا دورہ کیا تو بھارت کو اس سے بھی سخت تکلیف ہوئی اور اس نے عالمی سطح پر پروپیگنڈہ اور چیخنا چلانا شروع کردیا کہ ایسا نہیں ہونا چائیے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے بھارت کی نیت میں کتنا فطور ہے دوسری جانب اگر دکھا جائے تو بھارت نے انسانی حقوق کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ نہیں کرنے دیا کیونکہ بھارت کو اندازہ تھا ہے کہ وہ مقبوضہ وادی میں کس طرح انسانی حقوق کی پامالیاں اورمظالم کررہاہے۔

صدر آزاد کشمیر سے سوال کیا گیا کہ آپ آزاد کشمیر میں گڈ گورننس میں بہتری لانے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اور آپ نے مقاصد حاصل کیے ہیں تو اس سوال کے جواب میں سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کیلئے عملی اقدامات کیے جن میں آزاد کشمیر کی اعلی عدلیہ میں چیف جسٹس اور دیگر ججز صاحبات کی میرٹ پر تقرری شامل ہیں جبکہ آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی میں میرٹ اور شفاقیت کی بنیاد پر وائس چانسلر کا تقرر عمل میں لایا گیا ۔ا سی طرح وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور ان کی انتظامیہ میرٹ کی بحالی کیلئے ہر ممکن عملی اقدامت کررہی ہے۔ آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تقرریوں اور بھرتیوں کیلئے این ٹی ایس کا نظام متعارف کردیا گیا ہے تاکہ صاف ، شفاف اورمیرٹ کی بنیاد پر اساتذہ کا تقرر کیا جا سکے جبکہ تمام اداروں میں صرف میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر بھرتیاں کی جارہی ہیں۔ہم نے آزاد کشمیر ریڈ کریسنٹ جس کا وجود بالکل ختم ہوچکا تھا میں میرٹ کی بنیاد پر چیئرمین تعینات کیا اور سیکرٹری جنرل لگاکر ریڈ کریسنٹ کو آزاد کشمیر میں فعال کیا جس کی وجہ سے یہ ادارہ آج کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

صدر آزاد کشمیر سے سوال پوچھا گیا کہ آزاد کشمیر میں ایک طرف حکومتی اقدامات اور دوسری جانب اپوزیشن کا ردعمل ، احتجاجی مظاہروں ، ہڑتالوں سے آپ کے اقدامات پر کس حد تک اثر پڑتاہے اس سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مہذب سیاست کا کلچر ہے جس کے باعث میں بحثیت صدر آزاد کشمیر میں جہاں بھی گیا عوام نے منصب کے اعتبار سے عزت و احترام دیا۔ عوام سے جو بھی بات کی گئی عوام نے پذیرئی دی۔

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ او آئی سی میں ایک رابطہ گروپ بنا ہے جس میں آزربئجان ،سعودی عرب اوردیگر ممالک اکھٹے ہیں مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اجاگر کرنے کیلئے اس گروپ کے ساتھ گفتگو شنید جاری رہے۔اسلامی فوجی اتحادکے متعلق سوال پر صدر آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ دہشتگردی کے خلاف ہے۔اس میں جو ممالک شامل نہیں ہیں ان کے متعلق ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں وہ بھی شامل ہو جائیں گے اور ایسا ہونا چاہیے کیونکہ کسی بھی قسم کی تقسیم اس اتحاد کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ان سے پوچھا گیا کہ بعض لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ اتحاد کشمیر اور فلسطین پر بھی کارروائی کرے گا۔ اس پر مسعود خان نے کہا کہ یہ بات بعید از قیاس ہے۔

22 april 2017