چیف جسٹس ثاقب نثار کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

Founder Editor Tazeen Akhtar..
 
اسلام آباد...( تحقیقاتی رپورٹ ؛اصغرعلی مبارک سے ) سپریم کورٹ آف پاکستان کے  چیف جسٹس  مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں مس کنڈکٹ کے الزام میں ریفرنس دائرکردیا گیا ہے‘چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار جنوری 2019 میں عہدے سے سبکدوش ہوں گے تاہم وہ مزید ایک سال اور ایک ماہ ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی عہدے پر فائز رہیں گے سپریم جوڈیشل کونسل میں مس کنڈکٹ کے الزام میں ریفرنس کوہاٹ خیبر پختونخوا  کوہاٹ کے حاضر سروس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج احمد سلطان ترین کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے حالیہ عدالتی اقدامات اور طرز عمل ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کے منصب اور آئین کے آرٹیکل 209 میں دیے گئے کوڈ آف کنڈکٹ کے تقاضوں کے برعکس ہے۔چیف جسٹس اپنے طرز عمل اور عدالتی اقدامات کے ذریعے مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اس لئے آئین کے آرٹیکل 209 ذیلی آرٹیکل 5کے تحت ان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی ہونی چاہیے۔ریفرنس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں عدالتی فعالیت کا تمام پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس دورکی عدالتی فعالیت سے قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوئی بلکہ دیگر آئینی اداروں میں بے جا مداخلت اور چیف جسٹس کی ذاتی سیاست کی وجہ سے بطور ادارہ عدلیہ کا نقصان ہوا،اس ضمن میں مصنفہ آمنہ سیدکی کتاب چوہدری کی سیاست اور انصاف کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
ریفرنس کہا گیا ہے کہ عدالتی فعالیت کے فائدے اور نقصان کا دارومدار اس کے پیچھے کارفرما ایجنڈے پر ہوتا ہے،افتخار چوہدری کی عدالتی فعالیت کو اس لئے عوام کی حمایت حاصل ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہوا، موجودہ صورتحال میں دیگر آئینی اداروں کے معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے اور اختیار سے تجاوزکیا جارہا ہے جس سے ایک سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ریفرنس میں وزیراعظم سے چیف جسٹس کے ملاقات اورکچھ سیاستدانوں کیخلاف توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے اور ان کے قائدین کی توہین آمیز بیانات کو نظر اندازکرنے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے جبکہ چیف جسٹس کی تقاریر اور صحافیوں کو انٹرویو پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیا اس سے عدلیہ کی نیک نامی ہورہی ہے اورکیا چیف جسٹس کے عہدے کے شایان شان ہے؟کیا بطور چیئرمین قومی عدالتی پالیسی سازکمیٹی چیف جسٹس نے سستے اور فوری انصاف کی فراہمی اورفوجداری نظام انصاف کو بہترکرنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں؟کیا چیف جسٹس کے پاس کوئی اخلاقی جواز ہے کہ وہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو کارکردگی دکھانے پر مجبورکریں گے۔ریفرنس میں چیف جسٹس کی طرف سے مقدمات کی سماعت کے دوران ریمارکس دینے اور پھر ان ریمارکس کی وضاحتیں دینے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے اورکہا گہا ہے کہ اس طرح عمل کی وجہ سے عدلیہ میں دراڑ پیدا ہوگئی ہے۔ملک کے اندر سیاست میں تناﺅکی وجہ عدالتی فعالیت ہے جبکہ اس تناﺅ میں پہلے سے کوئی متعین ایجنڈے کے بغیر وزیراعظم سے ملاقات ،راﺅ انوار کے خط کو اوپن کرنے اور انہیں ریلیف دینے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے اورکہا گیا ہے کہ ایک مبینہ قاتل کے ساتھ یہ سلوک کیا جج کے شایان شان ہے؟ریفرنس میں ملک بھر سے اسپیشل عدالتوں اور ٹربیونل کے ججوں کو اپنے سامنے بٹھانے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ اس کی انکوائری کی جائے.... مارچ کے آخری ویک میں  چیف جسٹس ثاقب نثار اور وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ملاقات پر بھی بہت سوالات اٹھاۓ گے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے درمیانی ملاقات کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا کہ اس ملاقات کی درخواست وزیراعظم کی جانب سے کی گئی تھی۔چیف جسٹس کے چیمبر میں دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں چیف جسٹس نے وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی کہ عدلیہ اپنی آئینی ذمہ داریاں آزادانہ، شفاف طور پر، بغیر خوف اور غیر جانبداری اور قانون کے مطابق ادا کرتی رہے گی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں عدلیہ اور حکومت کے مابین تناؤ کی سی کیفیت ہے۔یہ پہلا موقع نہیں تھا جب پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم نے عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے پہلے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 2011 میں سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری ملاقات کی تھی۔ جس کے بعد جسٹس خلیل الرحمان رمدے کو عدالت میں بطور ایڈ ہاک جج ملازمت میں توسیع کی گئی تھی۔اس سے پہلے سنہ 2007 میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اُس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی تھی۔اس ملاقات میں شوکت عزیز نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دیا تھا اور اُن سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔اس سال یوم قرارداد پاکستان پرچیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملک میں 'جوڈیشل مارشل لا' لگائے جانے کی باتوں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے آئین میں اس قسم کے نظام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ لاہور میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں ثاقب نثار نے بڑے واشگاف انداز میں کہا کہ جب تک وہ چیف جسٹس کے عہدے پر موجود ہیں ملک میں آمرانہ نظام نہیں لایا جا سکتا۔ پاکستان میں آئندہ چند  ماہ میں موجودہ حکومت کی پانچ سال کی آئنی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد وفاق اور صوبوں کی سطح پر نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جانا ہے۔لاہور چرچ میں یوم پاکستان کی مناسبت سے ہونے والی اس تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کسی جوڈیشل مارشل لا کی اجازت نہیں دیتا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ انھوں نے آئینِ پاکستان کی پاسداری کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے اور وہ کسی صورت میں اس حلف سے رو گردانی نہیں کریں گے۔ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کا عزم کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کسی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انھوں اس امید کا اظہار کیا کہ ملک میں آیندہ انتخابات ہر سطح پر غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں کرائے جائیں گے اور مستقل کی منتخب حکومت آئین کی روح کے مطابق قائم ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک جج کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایک عام شہری اور کسی حکمران کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔.پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے سابق  چیئرمین میاں رضا ربانی نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے انھی اختیارات کو استعمال کرنا چاہیے جو آئین نے اُنھیں تفویض  کیے ہیں۔رضا ربانی نے اپنے بیان میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خود تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ میں اس معاملے پر جو قانونی سازی کے لیے کارروائی ہوئی تھی اس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔چیئرمین سینٹ کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کا اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ملک کے مفاد میں ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ملکی اداروں میں تصادم ہو گا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کے اجلاس میں عدلیہ کے رویے پر بات کرتے ہووے  کہا کہ اعلی عدلیہ کے ججز کی طرف سے اپنے فیصلوں میں آئین کا حوالہ دینے کی بجائے اشعار لکھنا تشویشناک امر ہے۔فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اعلی عدلیہ کے جج صاحبان اپنی تکریم کروانے کے لیے اپنے فیصلوں کا نہیں بلکہ توہین عدالت کے قوانین کا سہارا لیتے ہیں۔چیف جسٹس کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوےفرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ  اگر معزز جج صاحبان کا یہی رویہ رہا تو اُنھیں اندیشہ ہے کہ عام انتخابات کا محور ملک کی اقتصادی اور امن وامان کی صورت حال کے بجائے اعلی عدلیہ پر ریفرنڈم ثابت نہ ہو۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ اُنھیں اس بات پر بھی تشویش ہوتی ہے جب ملک کا چیف جسٹس قسم اُٹھا کر کہتا ہے کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔
 .۔سپریم کورٹ آف پاکستان  کے چیف جسٹس  مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ آف پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس   سپریم کورٹ آف پاکستان / منصف اعظم ھیں ۔31دسمبر 2016ء سے تا حال جسٹس ثاقب نثار اس عہدے پر موجود ہیں۔ وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کردہ معلومات  کے مطابق صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس ثاقب نثار کے نام کی بطور  چیف جسٹس کے عہدے کے لیے منظوری دی تھی  جس کا اطلاق 31 دسمبر 2016 سے ہوا۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کیا جس کے بعد انھوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔وہ سنہ 1982 میں ہائی کورٹ کے وکیل بنے جس کے بعد انھیں سنہ 1994 میں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کا لائسنس مل گیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار، وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سیکریٹری قانون بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں سنہ 1998 میں میاں نوازشریف کے دور میں ہی لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیاگیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری دور میں اس وقت کی حکومت انھیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنا چاہتی تھی تاہم اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رات کو عدالت لگا کر حکم جاری کیا کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے۔اس حکم کے بعد جسٹس میاں ثاقب نثار کو فروری سنہ 2010 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا جب کہ اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کی مدت ملازمت کو توسیع کردی گئی۔جسٹس میاں ثاقب نثار دو سال سے زائد عرصے تک پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز  رہیں گے۔جسٹس میاں ثاقب نثار اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے سنہ 2007 میں لگائی گئی ایمر جنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔میاں ثاقب نثار کی چیف جسٹس کے عہدے پر تعیناتی کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے  چیف جسٹس  مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار 18 جنوری 1954ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے جامعہ پنجاب سے قانون کے ڈگری حاصل کی۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے 1980 میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور 1982 میں وہ ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ بن گئے جبکہ 1994 میں انہیں سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔1998 میں جسٹس ثاقب نثار کو ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر ترقی دے دی گئی جبکہ 2010 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔عدالت عظمیٰ پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدالت ہے اور عدالتی نظام کا اہم ترین سربراہی حصہ ہے۔ عدالت عظمیٰ پاکستان قانونی اور آئینی معاملات میں فیصلہ کرنے والا حتمی ثالث بھی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا مستقل دفتر پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں واقع ہے، جبکہ اس عدالت کی کئی ذیلی شاخیں اہم شہروں میں کام کر رہی ہیں جہاں مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔ عدالت عظمیٰ پاکستان کو کئی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جن کی تشریح آئین پاکستان میں کی گئی ہے۔ ملک میں کئی فوجی حکومتوں اور غیر آئینی تعطیل حکومت کے دور میں بھی عدالت عظمیٰ پاکستان نے حکومتوں کی نگرانی کی ہے۔پاکستان میں سب سے زیادہ عرصہ تک منصف اعظم محمد حلیم رہے اور سب سے کم عرصہ محمد شہاب الدین رہے، محمد شہاب الدین حلف برداری کے بعد نویں دن وفات پا گئے تھے۔ افتخار محمد چوہدری واحد منصف اعظم تھے جنہوں نے اپنی مدت مسلسل پوری نہیں کی، بلکہ تین حصوں میں مکمل کی۔عدالت عظمیٰ پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدالت ہے اور عدالتی نظام کا اہم ترین سربراہی حصہ ہے۔ عدالت عظمیٰ پاکستان قانونی اور آئینی معاملات میں فیصلہ کرنے والا حتمی ثالث بھی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا مستقل دفتر پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں واقع ہے، جبکہ اس عدالت کی کئی ذیلی شاخیں اہم شہروں میں کام کر رہی ہیں جہاں مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔ عدالت عظمیٰ پاکستان کو کئی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جن کی تشریح آئین پاکستان میں کی گئی ہے۔ ملک میں کئی فوجی حکومتوں اور غیر آئینی تعطیل حکومت کے دور میں بھی عدالت عظمیٰ پاکستان نے حکومتوں کی نگرانی کی ہے۔پاکستان کے آئین کے حصہ 7، باب دوم میں آرٹیکل 176 تا 191 میں عدالت عظمیٰ پاکستان کے اختیارات، ترتیب، قوانین اور فرائض کی نشان دہی کی گئی ہے۔  آئین پاکستان میں جا بجا دوسرے ابواب اور حصوں میں قانونی، آئینی اور ملکی معاملات میں عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں عدالت عظمیٰ کا یہ کردار عیاں ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے دوسرے حصوں پر نہ صرف آئینی و قانونی نظر رکھے بلکہ ان حکومتی شاخوں میں اختیارات و فرائض کی درست نشان دہی اور تقسیم بھی عمل میں لائے.اس سال مارچ کے پہلے ویک میں .چیف جسٹس آف پاکستان کے  سرکاری ہسپتالوں کے دوروں کو ہر سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا جسٹس میاں ثاقب نثار نے سروسز ہسپتال لاہور اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کادورہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔دونوں ہسپتالوں کے اعلیٰ حکام نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ جسٹس اعجاز الحسن اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس یاور علی بھی چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔ چیف جسٹس نے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی اور دیگر شعبوں کا دورہ کیا۔ اس دوران ایک خاتون نے چیف جسٹس سے فریاد کی اور کہا کہ ان کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اس خاتون کے اخراجات پورے کیے جائیں جبکہ چیف جسٹس نے پی آئی سی کے دورہ کے موقع پر ہسپتال کے گیٹ پر وہیل چیئر موجود نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاہور میں تقریب سے  خطاب میں کہا کہ قانون پر عملدر آمد کا وعدہ پورا نہ کیا تو میرا گریبان اور آپ کا ہاتھ ہوگا۔ ہم نے فیصلہ کرلیا اس ملک میں آئین اور قانونی کی حکمرانی رہے گی چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ کے بغیر نا مکمل ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ میرے بینچ کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک آزاد ادارہ ہے۔ عدلیہ آزاد ہے اور اس پر سب کو فخر ہونا چاہیئے۔ ’ججز اور وکلا اپنی ڈیوٹی دیانت داری سے کریں۔ ہم اس قوم کے مقروض ہیں، انصاف کرنا احسان میں شامل نہیں۔ کسی جج کو کوئی اختیار نہیں اپنی مرضی اور منشا کا فیصلہ کرے۔ ہم نے مظلوم کی داد رسی کرنی ہے مرضی کے فیصلے نہیں کرنے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نے جو ججز اور وکیل عوام کی داد رسی نہیں کرسکتے وہ یہ کام چھوڑ دیں، ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کیلئے بیوی بچوں کو خیرباد کہہ دیا ۔ ‘۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ سب سے ایک سال کا تحفہ مانگ رہا ہوں۔ اس ایک سال کے تحفے سے ہمارا مستقبل سنور جائے گا۔ ’ایک سال دیانت داری سے کام کریں پھر آپ مزہ بھی دیکھیں۔ ایک سال دیانت داری سے کام کرنے پر آپ کو اس کا چسکہ لگ جائے گا‘۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ منافقت نہیں کرنی سب سے پہلے حضرت عمرؓ کی طرح خود پر عمل کرنا ہے۔ جس دن حضرت عمرؓ جیسی قیادت مل گئی توملک کی تقدیر بدل جائے گی،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ڈاکٹر عاصم کے وکیل کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکیل پیش نہ ہوئے توڈاکٹرعاصم کانام ای سی ایل میں ڈال دینگے، میڈیاپرڈاکٹرعاصم چنگےبھلےنظرآتےہیں، عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو ہاتھ میں لاٹھی پکڑ لیتے ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اندھابانٹےریوڑیاں،اپنےپاس ہی آئیں، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاوٴنٹس سے پیسہ واپس لانے کیلئے کمیٹی بنادی سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاوٴنٹس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بیرون ملک اکاوٴنٹس اور املاک بنا رکھی ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک بتائیں کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود اکاوٴنٹس سے پیسہ کیسے واپس پاکستان آسکتا ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا سارا پیسہ بیرون ملک چلا گیا، ممکن نہیں کہ ساری رقم کالے دھن کی ہو، کچھ ایسے بھی ہوں گے جو قانونی طریقے سے رقم لے گئے ہوں، تاہم اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو غیر قانونی طریقے سے رقم لے کر گئے ہیں، کہاجاتا ہے یہ پیسہ واپس آجائے تو ہمارے سارے قرضے اتر جائیں۔گورنر  سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ بیرون ملک اکاوٴنٹس کے حوالے سے معاہدے ہو رہے ہیں اور سوئٹزرلینڈ سے بھی دو طرفہ معاہدہ ہو گیا ہے، پیسہ واپس لانے کے لیے ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔جسٹس اعجازالاحسن نے حکم دیا کہ جرمنی و سوئٹرز لینڈ سے ہزاروں لوگوں کے اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات لیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے حق میں  راتوں رات کراچی شہر قائد میں بینرز لگ گئے ہیں، جن پر شکریہ چیف جسٹس درج تھے ۔ کراچی کی سڑکوں پرسیاسی قائدین کی طرح  چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے حق میں بینرز آویزاں کبھی چہ مگویاں ں اس وقت شروع ہوئیں جب یہ بینرز سندھ ڈاکٹرز فورم کی طرف سے لگائے گئے '' بینرز پر لکھاتھا '' کہ ردالفساد یونیورسل کا تعاون حاصل ہے''جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے میڈیا میں ہمیشہ زیر بحث رھتے ھیں اس حوا لے  سے کالم نگار حسن نثار کی ویب سائٹ پر ایک تحریر میں بیان ہوا کہ  جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے نے پاکستان کے نظام عدل کو نئی زندگی دیے دی ہے ،چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار 1997ء میں لاہور ہائیکورٹ کے وکیل تھے، وہ ہائیکورٹ بار کے جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ نواز شریف حکومت کے اس دور کے وزیر قانون خالد انور اور ان کی بیگم میاں ثاقب نثار کا بہت احترام کرتے تھے۔ اس وقت وفاقی سیکرٹری قانون کا عہدہ خالی تھا۔ خالد انور اور ان کی بیگم کی درخواست پر میاں ثاقب نثار نے یہ عہدہ قبول کرلیا۔ میاں ثاقب نثار قانون اور قاعدے کے پابند ہیں۔ سیکرٹری قانون بنتے ہی نواز شریف کا ان سے ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ پہلا اختلاف مشتاق طاہر خیلی پر ہوا۔ میاں نواز شریف نے سیکرٹری قانون سے کہا کہ مشتاق طاہر خیلی کو پی آئی اے کا ایم ڈی لگا دیں، مگر میاں ثاقب نثار نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ میرٹ پر پورا نہیں اترتے، جس پر میاں نواز شریف ناراض ہوگئے۔ 1997ء میں ہی دوسرا اختلاف کسٹم ٹربیونل کے ایک ممبر کے تبادلے پر ہوا، جنہیں اس وقت کے ہائیکورٹ کے جج اور ٹربیونل کے سربراہ مجیب اللہ صدیقی نے کرپشن کی شکایات پر پشاور سے کراچی ٹرانسفر کیا تھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ لڑائی کے باعث حکومت کو سیاسی جماعتوں اور فاٹا کے ارکان اسمبلی کی ضرورت تھی اور فاٹا کے ارکان نے حکومت کی حمایت کیلئے اس ممبر کسٹم کی واپسی کی شرط رکھ دی، جس پروزیراعظم نواز شریف نے سیکرٹری قانون سے تبادلہ واپس لینے کیلئے کہا، مگر اس پر بھی انہوں نے انکار کر دیا۔ اختلافات کا تیسرا واقعہ اس وقت کے اٹارنی جنرل چودھری فاروق (مرحوم) کے باعث ہوا۔ آئی بی کی 17 درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھیِں، چودھری منظور اس وقت ڈی جی آئی بی تھے۔ وہ سیکرٹری قانون میاں ثاقب نثار کے پاس آئے اور بتایا کہ ہم نے اٹارنی جنرل سے عدالت میں پیش ہونے کیلئے درخواست کی مگر وہ 35 لاکھ روپے فی کیس مانگ رہے ہیں۔ ہم نے چیف جسٹس سے درخواستیں اکٹھی کرا لی ہیں۔ ہم نے جسٹس (ر) صمدانی کو پانچ لاکھ روپے میں پیش ہونے کیلئے رضا مند کرلیا ہے۔ آپ جسٹس (ر) صمدانی کو وکیل کرنے کی منظوری دے دیں، جس کی میاں ثاقب نثار نے منظوری دے دی۔ اس پر اٹارنی جنرل چودھری فاروق نے وزیراعظم کے خوب کان بھرے، اس پر وزیراعظم نے اٹارنی جنرل سمیت تمام شکایات کنندگان کو بلا لیا، جو ڈیڑھ سو افراد کے قریب تھے۔ وزیراعظم نے سیکرٹری قانون میاں ثاقب نثار کو بھی بلا لیا اور سب کی شکایات سنیں اور میاں ثاقب نثار سے اس کا جواب طلب کیا، جس پر میاں ثاقب نثار سیکرٹری قانون کے عہدے سے الگ ہوگئے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار جنوری 2019 میں عہدے سے سبکدوش ہوں گے تاہم وہ مزید ایک سال اور ایک ماہ ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی عہدے پر فائز رہیں گے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے 30 دسمبر 2016 کو عہدے کاحلف اٹھایا تھا تاہم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار18 جنوری 2019ء اور جسٹس شیخ عظمت سعید28 اگست 2019 جبکہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید خان کھوسہ21 دسمبر 2019 کو ریٹائرڈ  ہوں گے۔عدالت عظمیٰ کے موجودہ ججز میں سے 2 فاضل جج 2018ء اور3 جج 2019ء میں ریٹائرڈ ہو جائیں گے جب کہ جسٹس دوست محمد خان 20 مارچ 2018ء اور جسٹس اعجاز افضل خان 8 مئی 2018 کو عہدوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت اس وقت16 جج موجود ہیں۔ سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر17 فاضل جج ہوتے ہیں۔ جسٹس امیرہانی مسلم کی30 مارچ2017 کو عہدے سے سبکدوشی کے بعد ایک نشست خالی ہے جس کو پرکرنے کیلیے ابھی تک کوئی نامزدگی نہیں کی جا سکی۔خیال رہے کہ جسٹس انور ظہیر جمالی کے بعد پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ کے عہدے چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے جسٹس میاں ثاقب نثار نے حلف اٹھا یا۔جسٹس میاں ثاقب نثار پاکستان سے  25ویں چیف جسٹس کی حثیت سے صدر ممنون حسین نے اسلام آباد میں ایک تقریب میں ان سے حلف لیا۔ اس تقریب میں وزیراعظم نواز شریف، کابینہ کے ارکان، سپریم کورٹ کے ججوں اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی تھی وہ سنہ 1982 میں ہائی کورٹ کے وکیل بنے جس کے بعد انھیں سنہ 1994 میں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کا لائسنس مل گیا۔جسٹس میاں ثاقب نثار، وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سیکریٹری قانون بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں سنہ 1998 میں میاں نوازشریف کے دور میں ہی لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیاگیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری دور میں اس وقت کی حکومت انھیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنا چاہتی تھی تاہم اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رات کو عدالت لگا کر حکم جاری کیا کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے۔اس حکم کے بعد جسٹس میاں ثاقب نثار کو فروری سنہ 2010 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا جب کہ اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کی مدت ملازمت کو توسیع کردی گئی۔جسٹس میاں ثاقب نثار دو سال سے زائد عرصے تک پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائض رہیں گے۔جسٹس میاں ثاقب نثار اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے سنہ 2007 میں لگائی گئی ایمر جنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔میاں ثاقب نثار کی چیف جسٹس کے عہدے پر تعیناتی کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔،،،،،،،31 مارچ 2018 کی شام چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اپنی اہلیہ کے ہمراہ ساحل سمندر پر آن  پہنچے دن بھر کی مصروفیات اور ڈھیروں کیسوں کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان  ثاقب نثار نے ساحل سمندر کو بھی اپنا قیتمی وقت دیا ۔ شام سورج ڈھلنے کے بعد چیف جسٹس نثار ثاقب ساحل سمندر پہنچے تو اہلیہ کے ہمراہ اونٹ کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ساحل سمندر جانے کیلئے چیف جسٹس نے اپنے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے پروٹوکول کی نفری نہیں لی بلکہ صرف ایک پولیس اہلکار کے پروٹوکول کے ہمراہ پیدل چل کر پانی تک پہنچے۔