چیئرمین این ایچ اے۔آئی جی موٹر وے۔۔۔۔ اورمعمولی پٹرولنگ آفیسر---- تلخیاں---راجہ لیاقت

Founder Editor Tazeen Akhtar..

موٹر وے پولیس کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے کہ وہ نہ صرف انتہائی شائستہ ہیں بلکہ وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے ان کے رتبے دیکھ کر نہیں بلکہ جرائم پرچالان کرتے ہیں لیکن اس کی پاداش میں ان پٹرولنگ آفیسرز کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے اس حوالے سے ایک روزنامے میں خبر چھپی ہے جس کے مطابق نیشنل ہائی وے کے ہی چیئرمین اشرف تارڑ ،GW971 گاڑی پر تیز رفتاری کرتے پائے گئے ،جب انہیں پٹرولنگ آفیسر نے رکنے کا اشارہ کیا تو وہ رک کر چالان کرانے کے بجائے گالیاں اور دھمکیاں دیتے ’’فرار ‘‘ہو گئے۔ اسے چوری پر سینہ زوری اور ایک آفیسر کی توہین پر توکوئی جرمانہ نہیں ہوا لیکن اوور سپیڈنگ اور نہ رکنے پر صرف 1250روپے جرمانہ کیا گیا،یہ ان کو ناگوار گزرا اور اس پرانہوں نے آئی جی کو شکایت کر دی ۔




آئی جی موٹر وے شوکت حیات نے کمال پھرتی کامظاہرہ کرتے ہوئے ضیاء اللہ نامی اس معمولی پٹرولنگ آفیسر کی اس غیر معمولی’’ گستاخی ‘‘ پر 14ویں سے 7ویں گریڈ میں تنزلی کر دی ، اس کا تبادلہ لاہور کر دیا اور بالآخرجب وہ بیماری کی وجہ سے رخصت پر گیا تو اسے نوکری سے بھی فارغ کردیا ۔ ضیاء اللہ اورباقی تین افسران جس میں ایک خاتون بھی شامل ہے ، اپنے فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے ادارے کے چیئرمین کے ’’غضب ‘‘کا شکار ہو گئے۔ضیا ء اللہ نے یہ معاملہ نہ صرف میڈیا میں اٹھایا بلکہ اسے عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ضیا ء اللہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اسے اس سے قبل فرض شناسی کی وجہ سے وزیراعظم کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی بھی مل چکاہے لیکن یہ ’’ایوارڈ ‘‘جو اسے اپنے محکمے کے چیئرمین کی جانب سے ملا ہے وہ اسے ساری زندگی یاد رہے گا۔ 




کتنے لوگ ہیں جو ضیا ء اللہ کی طرح ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے ہی محکمے کی جانب سے ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ انہیں ایسے تجربات دے جا تا ہے کہ وہ ایمانداری سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔کالی بھیڑیں تو ہر محکمے میں موجود ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جو ہر جائز و ناجائز طریقوں سے آگے آتے ہیں ،کرپشن کرتے ہیں اور ہروہ شخص جواپنے فرائض کی ادائیگی میں ایماندارہے اس کا جینا بھی دوبھر کر دیتے ہیں۔اس سے قبل موٹر وے پولیس نے ہی وزیراعظم کا بھی چالان کیاتھا جس پر چالان کرنے والے افسر کو شاباشی ملی تھی ،کہ ملک میں کوئی تو ادارہ ایسا ہے جو جرم کرنے والے کی حیثیت پرنہیں بلکہ جرم پر نظر رکھتا ہے۔ایک اور واقعے میں آرمی کے حاضر سروس آفیسرکا چالان کیا گیا جو اس کی طبیعت پر ناگوار گزرا اور وہ اپنے غنڈوں کو لے کرچالان کرنے والے آفیسر کی پٹائی کرنے پہنچ گیا تھا اور یہ منظر میڈیا پرساری دنیا نے دیکھاتھا۔




کیا کہا جا سکتا ہے ،اندھیر نگری اور چوپٹ راج یا پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔بدقسمتی سے ہر وہ ضرب المثل جو کسی لٹے پٹے ،پسماندہ اور بدحال ملک کے لیے مناسب ہے ، ہمارے ملک پر بہت فٹ آتی ہے۔وی آئی پی کلچر وہ بیماری ہے جو ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے ۔یہ وہ مرض ہے جس کا شکار ہر طبقہ ہو رہا ہے ۔تھوڑی سی طاقت ملنے پراپنے سے کم حیثیت لوگوں کا استحصال وہ نفسیاتی بیماری ہے جو ہم سب میں موجو د ہے۔مجرم کو جرم کرنے سے شرم نہیں آتی لیکن جرمانے سے اس کی شان میں فرق آ جاتا ہے۔راولپنڈی اور اسلام آبادمیں دیوار بن کر بیٹھے ہوئے وہ نام نہاد عشاق ریاست کے اندر ریاست قائم کرکے بیٹھے ہیں جنہوں نے دو شہروں کو مفلوج کررکھا ہے یہ قابل تشویش ہے لیکن یہ ہمیں اس لیے ذرا واضح نظر آ رہا ہے کہ یہ معاملہ اسلام آبادکی سڑکوں پر ہے لیکن وہ ریاستیں جوہمارے اداروں کے اندر ’’بادشاہوں ‘‘کے زیر اثر چل رہی ہیں ،انہوں نے تو پورا ملکی نظام ایک عرصے سے مفلوج کر رکھا ہے ۔ان اداروں میں بیٹھے ’’بادشاہ سلامت ‘‘ اپنے ہی اداروں کے قوانین سے نہ صرف بالا ترہیں بلکہ ان قوانین پر عمل کرنے والوں کو اس کی سزائیں بھی دیتے ہیں۔




نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے اتھارٹی پاکستان کا وہ ادارہ ہے جس کی شہرت باقی اداروں کی نسبت بہت اچھی ہے ۔اگر اس ادارے میں یہ صورتحال پیدا ہو چکی ہے تو یہ سوچ رکھنے والوں کے لیے سوچنے کامقام ہے۔پٹرولنگ آفیسر ضیاء اللہ نے اپنے حق کے لیے عدالت میں جانے کا جو فیصلہ کیاہے وہ بہت خوش آئند ہے لیکن چیئرمین این ایچ اے اشرف تارڑ اور آئی جی موٹر وے شوکت حیات جیسے لوگوں کو جب تک عبرت کانشان نہیں بنایا جائے گا ،تو وی آئی پی کلچر ختم نہیں ہوگا ، این ایچ اے کو پی آئی اے بنتے دیرنہیں لگے گی اور اس ملک میں ضیاء اللہ پیدا ہونا بند ہو جائیں گے۔