چھٹیوں میں فیسوں کے بغیر سکول چلانا ممکن نہیں ۔اسلام آباد کے 2ہزار سکول بند ہونے والے ہیں ۔پیرا نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔پرائیویٹ سکولز

Founder Editor Tazeen Akhtar..

 اسلام آباد پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن اسلام آبادکے عہدیداروں نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ میں پرائیوٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی کی طر ف سے پیش کردہ رپورٹ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ پرائیوٹ سکولز ایسوسی ایشن کا مقصدطلباء کو بہترین تعلیم مہیا کرنا ہے ۔ریگولیٹری اتھارتی کی جانب سے جاری کردہ بیانیہ ’’لاہور ہائی کورٹ نے سکولوں کوگرمیوں کی چھٹیوں کی فیس لینے سے روک دیا‘‘ جو کہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیرا کی غیر دانشمندانہ اورتعلیم دشمن اقدامات کی وجہ سے پرائیوٹ سکولوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ہائی کورٹ نے پیرا رولز 2016کو غیر دانشمندانہ اور غیر مناسب قرار دیکر ان رولز کو منسوخ کردیا ۔

پیر کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفر نس کرتے ہوئے پرائیوٹ سکول ایسوسی ایشن اسلام آباد کے صدر زعفران الٰہی نے کہا کہ  ایسوسی ایشن ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نہیں بلکہ پیر اکی غلط رپورٹ اور اقدامات کے خلاف ہے۔ہائی کورٹ کے بیانیہ کو غلط پیش کیا گیا ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ اسلام آبادکے اند ر قریباً2000ہزار سکول بندہونے کے قریب ہے جس میں ساڑھے تین لاکھ کے قریب طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔اور 38ہزار اساتذہ کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے ۔فیصلے پر نظرثانی کے لئے عدالت جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ ترسکولز کرائے کی بلڈنگ میں ہیں مالکان کی طرف سے نہ کرایوں میں کمی اور نہ وہ چھٹیوں میں کرائے چھوڑتے ہیں۔سکول میں چھٹیوں کے دوران سویپرز ، مالی ، چوکیدار ، اکاؤنٹینٹ، ایڈمن سٹاف، ٹیچرز ، وزیٹنگ فیکلٹی سمیت دیگر تمام افراد کا روزگار وابستہ ہے ۔چھٹیوں میں فیسوں کے بغیر سکول چلانا بہت مشکل ہوتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرائیوٹ سکولز معیاری تعلیم طلباء کو فراہم کررہے ہیں۔1994ء کے اعداد شمار کے مطابق اسلام آبادمیں سرکاری سکولوں کی تعداد393جبکہ آبادی اس وقت صرف5لاکھ تھی۔ سال 2018میں سرکاری سکولوں کی تعدا د422ہوگئی جبکہ آبادی 22لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان کا کہناتھا کہ آبادی کے لحاظ سے سرکاری سکولوں کی تعداد2000 ہونی چاہئے تھی۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لئے پرائیوٹ سیکٹر اپنی تعلیمی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کررہی ہیں۔