چندے سے ڈیم نہیں بنے گا۔میجر جنرل فضل راز ق جنرل صفدر بٹ اور جنرل زاہد علی اکبر نے واپڈا میں کرپشن کو فروغ دیکر ادارے کو برباد کر دیا۔ امتیاز علی قزلباش

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد (تزئین اختر نمائندہ خصوصی) واپڈا کے بانی انجینئر، سابق چیئرمین واپڈا، امتیاز علی قزلباش نے کہا ہے کہ واپڈا عالمی پیمانے کا ایک عظیم ادارہ تھا جس کی تباہی کا آغاز میجر جنرل فضل رازق کے چیئرمین بننے پر ہوا اور بعد میں لیفٹیننٹ جنرل صفدر بٹ اور لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے بھی واپڈا میں کرپشن کو فروغ دیکر اس قومی ادارے کو برباد کر دیا۔

امتیاز علی قزلباش نے کہا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ چندے سے ڈیم نہیں بنے گا مگر ڈیم فنڈ کی مہم نے پانی کی فوری ضرورت کا شعور اجاگر کیا ہے اور قوم کو متحد کیا ہے۔ یاد رہے کہ امتیاز علی قزلباش کی سپریم کورٹ میں جائزہ رپورٹ کی روشنی میں دیامیرباشا اور مہمند ڈیمز پر ہنگامی طور پر کام شروع کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز رہوڈز سکالر ارشاد اللہ خان کی طرف سے منعقدہ ماہانہ آکسبرج لیکچر میں گفتگو کر رہے تھے۔ لیکچر میں سابق وزیر پٹرولیم عثمان امین الدین نے صدارت کی۔ شرکاء میں واپڈا، ایف بی آر، واٹر سیکٹر، دیگر سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔ لیکچر کا موضوع یہ تھا کہ پاکستان کی ترقی کے لئے ڈیمز ضروری ہیں جن کی مدد سے پاکستان پانی سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔

امتیاز علی قزلباش نے کہا کہ ہمارے پاس ضائع کرنے کے لئے اب کوئی وقت نہیں رہ گیا۔ ڈیم صرف ایوب دور میں بنے۔ اس کے بعد وقت ضائع کیا گیا۔ کالا باغ ڈیم لابی نے ملک میں اور آپشز پر بھی کام نہیں ہونے دیا اور یہ لابی اتنی منہ زور رہی کہ ان کا دعویٰ تھا کہ بنے گا تو سب سے پہلے کالاباغ ڈیم بنے گا ورنہ دوسرا کوئی ڈیم نہیں بننے دیں گے۔ امتیاز علی قزلباش نے کہا کہ باشا ڈیم کی لاگت 8 ارب ڈالر تھی جو اب تاخیر کی وجہ سے بڑھ کر 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے تھرمل پاور پلانٹس کے حوالے سے کہا کہ بجلی کہ یہ مہنگے منصوبے سیاستدانوں کی ترجیح رہے کیونکہ اس میں کک بیکس فوراً مل جاتے ہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی کرپٹ واقع ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ڈیم 5 سال میں نہیں بن سکتا اس لئے سیاسی حکومتیں ڈیم سے گریز کرتی رہیں کیونکہ ڈیم بنانے کی صورت میں انہیں کک بیکس حاصل نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کالا باغ ڈیم بنانے پر تب راضی ہوئے جب انہیں بتایا گیا کہ اگر آپ نے یہ ڈیم بنالیا تو آپ تاحیات صدر پاکستان رہ سکتے ہیں۔

یہاں اس بات پر ارشاد اللہ خان نے ان سے اختلاف کیا اور کہا کہ جنرل مشرف نے وقت ضائع کیا۔ کالاباغ ڈیم پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جس کا خمیازہ اب ہم بھگت رہے ہیں۔

امتیاز علی قزلباش نے کہا کہ واپڈا عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ادارہ تھا جس کا بجٹ بعض اوقات پاکستان کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہوتا تھا۔ غلام اسحاق خان، غلام فاروق، اے جی این قاضی ایماندار چیئرمین تھے جبکہ میجر جنرل فضل رازق (بھائی جنرل فضل حق) کی تعیناتی کے ساتھ ہی یہاں کرپشن کا دور دورہ ہوگیا۔ ہمیں ملٹری کے لوگوں نے بتایا کہ اب واپڈا کا اللہ حافظ ہے کیونکہ فضل رازق کرپٹ آدمی ہے۔ امتیاز علی قزلباش نے کہا کہ ان کے بعد جنرل صفدر بٹ اور جنرل زاہد علی اکبر نے بھی واپڈا میں کرپشن کو فروغ دیا۔

امتیاز علی قزلباش نے یہ تسلیم کیا کہ چندے سے ڈیم نہیں بن سکتا مگر یہ بھی کہا کہ چندہ مہم قوم میں شعور اجاگر کرنے کا ذریعہ ہے اور اس سے قومی یکجہتی بھی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے منصوبوں پر کام شروع کرتے ہوئے ہمیں بھی لالچ دئیے جاتے تھے۔ ہم سے براہ راست پوچھ لیا جاتا تھا کہ آپ اپنا سوئس اکاؤنٹ نمبر بتائیں۔ ہم 3 فیصد آپ کا حصہ وہاں منتقل کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک چلانے کے لئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے۔