چاہ بہار بندرگاہ گوادر کے مقابلے کے لئے نہیں بلکہ ساتھ نبھانے کے لئے ہے۔وزیر خارجہ جواد ظریف

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)ایرا ن کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ گوادر کے مقابلے کے لئے نہیں بلکہ گوادر کا ساتھ نبھانے کے لئے ہے ۔پاکستان یہ اطمینان رکھے کہ ایران کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے اور ہم بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان کی بھی یہی پالیسی ہوگی۔وہ گزشتہ روز انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز اسلام آباد میں پاک ایران سفارتی تعلقات کے70سال کے موضوع پر منعقدہ سیمینا رمیں کلیدی خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر سابق مشیر خارجہ اور موجودہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز،صدر آئی ایس ایس آئی ایمبیسیڈر خالد محمود اور ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست بھی موجود تھے۔

سرتاج عزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے تعلقات صرف70سال پر محیط نہیں بلکہ صدیوں پر مبنی ہیں جبکہ متحدہ ہندوستان میں فارسی زبان بولی جاتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلقات میں اونچ نیچ اور اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں مگر مجموعی طور پر دونوں ملکوں میں قریبی تعلقات قائم رہے اور آئندہ بھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ ان میں اضافہ ہوگا۔

جواد ظریف نے کہا کہ سلامتی کے لئے دوسروں پر انحصار کرنے کی پالیسی غلط ثابت ہوچکی ہے ۔سلامتی خرید ی نہیں جاسکتی ۔اس کا بندوبست خود ہی کرنا پڑتا ہے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو تیار کیا جائے اور ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے جائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ دور جنگوں کا نہیں بلکہ مل جل کر آگے بڑھنے کا ہے۔نہ ہم سعودی عرب کو ختم کرسکتے ہیں اور سعودی عرب بھی ہمیں برقرار رہنے دے۔یمن کا حل آسانی سے نکل سکتا ہے ۔شام کا کوئی فوجی حل نہیں۔یہ سیاسی حل ہوگا۔عراق یا شام میں تعمیر نوکے لئے ایران اور سعودی عرب مل کر کام کریں تو بھی اس مواقع موجود رہیں گے کہ مزید ملک وہاں کام کرسکیں۔اس لئے سب کو مل کر آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی سوچ اپنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم سے گلہ کیا جاتا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھارہے ہیں اس پر ہم بھی گلہ کرسکتے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کو ہم پر ترجیح دیتا ہے۔جواد ظریف نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں ۔پاکستان یہ اطمینان رکھے کہ ہم ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے اس کو نقصان پہنچے