پی ٹی وی کیس ۔قاسمی کا معاملہ نیب کو بھجوا دیں،چیف جسٹس، وکیل نے 27کروڑ واپس کرنے کی مہلت مانگ لی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد ( نمائندہ  ۔صباح نیوز) سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطا الحق قاسمی کی خلاف ضابطہ تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، سابق سیکرٹری اطلاعات محمد اعظم نے کہاکہ عطا الحق قاسمی کی تقرری کی سمری میری جانب سے نہیں بھیجی گئی،سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود عدالت میں پیش ہوئے جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ کیا عطا الحق قاسمی کی بھاری تنخواہ کے لیے کسی نے ہدایت کی تھی؟چیف جسٹس نے کہاکہ کیا عطا الحق قاسمی کو پندرہ لاکھ دینے کا جواز تھا؟

وقار مسعود نے کہاکہ تنخواہ کی سمری وزارت اطلاعات نے بھیجی، ایم ڈی پی ٹی وی 14لاکھ تنخواہ لے رہے تھے، تنخواہ کی سمری کا جائزہ متعلقہ ونگ نے لیا، چیف جسٹس نے کہاکہ ہو سکتا ہے یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیں، تقرری قانونی تھی یا غیر قانونی فیصلہ کریں گے، اس دوران عدالت نے وزیر اعظم ہاوس کی جانب سے عطاالحق قاسمی کی تنخواہ کی منظوری کی سمری کا ریکارڈ طلب کر لیا۔جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ عطاالحق قاسمی کو ایم ڈی ون سکیل کیسے دے دیا گیا سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے کہاکہ ایڈیشنل سیکرٹری نے عطاالحق کی تنخواہ کی سمری کی سفارش کی تھی سمری کو حتمی منظوری کے لیے وزیر خزانہ کو بھیجا گیاوزیر اعظم ہاؤس نے بھی وزارت اطلاعات کی سمری کو رپورٹ کیا

چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو وزارت خزانہ کو وزیر اعظم ہاوس سے ڈکٹیٹ کیا گیاوزیر اعظم کے پاس تنخواہ کی سمری کو سپورٹ کرنے کا اختیار کہاں سے آیا۔اس مقدمے میں لگتا ہے مزید تحقیقات کی ضروت ہے عدالت کے تحقیقات کرانے پر کوئی قدغن نہیں۔عدالت ایف آئی اے,نیب یا جے آئی ٹی تشکیل دیکر تحقیقات کرانے کا اختیار رکھتی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ وزارت خزانہ عطاالحق قاسمی کی تنخواہ کے تعین سے متعلق ریکارڈ فوری فراہم کرے ، سابق سیکرٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ عطاالحق قاسمی پر اٹھنے والے 27 کروڑ کے اخراجات کا وزارت خزانہ سے کوئی تعلق نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ یہ نیب کو بھجوانے کا مقدمہ ہے۔وزیر اعظم ہاؤس سے کوئی تحریری ہدایات نہیں آئی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو تجویز دی کہ مقدمہ نیب کو نہ بھیجا جائے اگر معاملہ میں ملوث افراد ادائیگی کر دیں تو یہ بہتر حل ہے، اس دوران عطاالحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد نے کہاکہ مجھے عطاالحق قاسمی سے رقم واپسی کے حوالے سے ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ حکومت کو ہدایت دیں کہ ایم ڈی اور چیئرمین کے عہدے پر ایک ماہ میں تقرری یقینی بنائے،

اس موقع پر پی ٹی وی کی ایک خاتون ملازمہ جویریہ قریشی نے کہاکہ پی ٹی وی کے آخری پانچ سال کا آڈٹ کروالیں،پی ٹی وی کے ملازم کا عدالت میں بیان دینا بڑا مشکل کام ہے ۔ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتی ہوں کہ پچھلے پانچ سال کا آڈٹ کرایا جائے ۔ظہور احمد برلاس کو ڈپوٹیشن پر لایا گیا اور ان کا پورا کیرئیر ڈپوٹیشن پر گزرا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پی ٹی وی کو چلانے کے لیے پروفیشنل بندہ ہونا چاہیے، دوسروں کی ذمہ داریاں اٹھا کر تھک گئے ہیں، کرپشن سے بڑھ کر ملک کے لیے کوئی کینسر نہیں

12 july 2018