پاکستان کی نئی حکومت کا ایجنڈا ہمارا ایجنڈا ہے ،جرمن سفیر وزیر بحری امور نے جرمن سفیر کو پاکستانی شہریت کی پیشکش کردی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(تزئین اختر)جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی حالت پر ہم کو بھی تشویش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں معاشی استحکام آئے اور نئے پاکستان میں عوام کو تعلیم ،صحت ،روزگار ،ماحول اور دیگر شعبوں میں سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے ۔اس مقصد کے لئے ہم ہر وقت ہر جگہ تعاون کے لئے تیار ہیں ۔

وہ 3اکتوبر جرمن یونیٹی ڈے کے موقع پر سفارتخانے میں دیے ہوئے عشائیہ کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی اور وزیر بحری امور علی زیدی مہمان خصوصی تھے ۔سفیر نے اردو میں خطاب کا آغاز کرکے سب کو حیران کردیا اور شرکاء نے اس بات کا خیر مقدم کیا۔

جرمن سفیر نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ عوام کی حالت بہتر بنانا نئی حکومت کا ایجنڈہ بھی ہے اور ہم یہاں نئی حکومت کو مبارکباد دینے کے علاوہ یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا ایجنڈہ ہمارا ایجنڈہ ہے ۔ان کی ترجیحات ہماری ترجیحات ہیں اور ان کے خدشات ہمارے خدشات ہیں۔لہذا ہم اور ہمارے یورپین پارٹنرترقی میں مدد دینے کے لئے موجود ہیں اور پہلے بھی اس پر کام ہورہاہے۔پاکستان کو سرمایہ کاری کا فریم ورک بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔

اس موقع پر سفیر نے پولینڈ کے سفیر اور یورپی یونین کے سفیر کو بھی اپنے ساتھ اسٹیج پر بلالیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی میں درست کہاکہ ملٹی لیٹرل ازم ختم ہورہا ہے جسے واپس لانے کی ضرورت ہے ۔جرمنی میں 30لاکھ مسلمان بستے ہیں ۔ہمیں عدم برداشت کو ختم کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج جرمنی میں ایک بڑی مسجد کا افتتاح ہوا ہے (غالباً وہ اس مسجد کا حوالہ دے رہے تھے جس کا افتتاح ترک صدر طیب اردگان نے کولون میں اسی روز کیا تھا)۔

جرمن سفیر نے کہا کہ پاکستان کے دو ستون ہیں ۔نمبر ایک مہمان نوازی،نمبردو یہاں کے نظارے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ نئی حکومت تعلیم،صحت ،بے روزگاری پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔باہمی تعاون میں کچھ شعبے ایسے ہیں جن میں دو طرفہ تعاون قابل اطمینان نہیں جبکہ تعاون میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ہم تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے پاکستان کی مدد کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ سال اسی موقع پر کہا تھا کہ لفتھا نسا ایئرلائن پاکستان واپس آئے گی ۔اس میں ابھی کامیابی نہیں ہوئی لیکن کام جاری رکھوں گا کیونکہ اب پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

عشائیے کی خاص بات ٹیکسلا سے آئے ہوئے اسپیشل طلباء وطالبات کا وفد تھا جنہوں نے قومی ترانہ سنا کر داد وصول کی۔اس موقع پر سفیر نے آئی ٹی ایکسپرٹ سعید کا تعارف کرایا جو ویل چیئر پر شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔

وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے جرمن سفیر کو اردو بولنے اور پاکستان کے لئے درددل رکھنے پر پاکستانی شہریت کی پیشکش کردی اور کہا کہ اگر سفیر صاحب قبول کریں تو ہمارے وزیر داخلہ بھی یہی موجود ہیں جو شہریت کی منظوری دیتے ہیں ۔انہوں نے سفیر کو کراچی آنے کی دعوت دی اور کہا کہ جرمنی پورٹس اور شپنگ میں بڑا مقام رکھتا ہے اور ہم اس شعبے میں تعاو ن بڑھانا چاہتے ہیں۔

وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی نے یونیٹی ڈے پر سفیر اور جرمن حکومت کو مبارکباد پیش کی اور دونوں ملکوں میں پہلے سے موجود خوشگوار تعلقات اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کا اعادہ کیا۔انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے میں پاکستان کی خدمات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کے لئے کردار ادا کیا۔پاکستان نے انسانیت کیلئے بہت کچھ کیا۔انہوں نے کہا کہ جن معاملات کی وجہ سے انتہا پسندی اور بدامنی پھیلتی ہے ان کو حل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ہمیں مزید ذمہ دار رہنے کی ضرورت ہے۔قومی سلامتی کے لئے جو ممکن ہوا کریں گے۔

یونیٹی ڈے کی تقریب میں اعلیٰ سول وملٹری حکام ،سفارتکاروں ،بزنس مین کمیونٹی اور صحافیوں نے شرکت کی۔ عشائیے کے انعقاد میں میٹرو کیش اینڈ کیری ،دیوان موٹرز،بی ایم ڈبلیو نے تعاون کیا ۔

03 OCT 2018