پاکستان پولینڈ کا پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں مزیدتیزی لانے اور پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے تعاون کی نئی راہیں ہموار کرنے پر بھی زور

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد ( 06 نومبر2017)ء چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعاون اور تاریخی روابط کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ باہمی تعلقات کو اقتصادی شعبوں اور تجارتی سطح پر معاونت کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے ۔ چیئرمین سینیٹ نے ان خیالات کا اظہار پولینڈ کی سینیٹ کے مارشل سٹینسلا کرزوسکی کی سربراہی میں پاکستان کے دورے پر آئے 10 رکنی پارلیمانی وفد سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔چیئرمین سینیٹ نے وفد کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ پولینڈ کے اعلیٰ سطح وفد کا دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پولینڈ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہم سمجھتا ہے اور اس دورے کے دوران صدر مملکت ، وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ سطح ملاقاتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان بھی پولینڈ کو ایک انتہائی اہم ملک سمجھتا ہے ۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں مزیدتیزی لانے اور پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے تعاون کی نئی راہیں ہموار کرنے پر بھی زور دیا ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی عالمی مسئلہ ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور 70 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے علاوہ بڑے پیمانے پر معاشی نقصان بھی اٹھایا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام پر عزم ہیں اور جلد ہی اس مسئلے پر قابو پالیں گے ،چیئرمین سینیٹ نے پولینڈ کے پارلیمانی وفد کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظالمانہ کارروائیوں کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقہ میں بھارتی افواج نے معصوم کشمیریوں کی حقوق خود ارادیت کیلئے جاری جدوجہد اور آواز کو دبانے کیلئے ایسے ظالمانہ طریقے اپنائے ہیں کہ ہزاروں لوگ بینائی سے یا تو محروم ہو گئے ہیں اور یا پھر شدید زخمی ہوئے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ ایسی ظالمانہ کارروائیوں کے باعث بھارت نے انسانی حقوق اور احترامِ آدمیت کے سلسلے میں اقوام عالم کی جانب سے منظور کیے گئے متفقہ قوانین اور قواعد کو ہوا میں اڑا دیا ہے ۔

میاں رضاربانی نے تجارتی شعبے میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم کو بڑھانے کی اشدضرورت ہے اور اس ضمن میں دونوں ملکوں کے ایوان ہائے صنعت وتجارت ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی روابطہ کو مزید فروغ دیں تاکہ 237 ملین یورو کے تجارتی حجم کو بڑھایا جاسکے ۔انہوں نے پارلیمانی دوستی گروپوں کو مزید فعال بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور پولینڈ نے ہر بین الاقوامی فورم پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کی حمائت کی ہے اور اب تک دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں 9 مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں، اور دفاعی شعبے میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے ۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقو ق کمیٹی میں پاکستان کی رکنیت کی حمائت پر پولینڈ کا شکریہ ادا کیا ۔پولینڈ کے وفد کے رہنما نے یقین دلایا کہ پولینڈ کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمائت کرتا ہے کیونکہ پولینڈ پرامن طریقے سے گفت وشنید کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سطح پر ڈائیلاگ سے باہمی تعلقات کو فروغ ملتا ہے ۔

پارلیمنٹ پہنچنے پر وفد نے یادگار جمہوریت پر حاضری دی اور جمہوریت کیلئے قربانیاں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ گلی دستور کا بھی دورہ کیا گیا جہاں وفد کو پاکستان کی پارلیمانی و آئینی تاریخ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ بعدازاں وفد نے سینیٹ کی لائبریری بھی دیکھی اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے نئے اقدامات کو سراہا ۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا ۔