پاکستان میں سب کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے مگر خواتین زیادہ متاثرہیں۔فرحت بابر۔ مردوں کو تبدیلی کا نمائندہ بننا ہوگا۔ رابعہ جویری

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آ باد ۔۔۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ پاکستان میں انصاف کا نظام ٹوٹا پھوٹا ہے جہاں انصاف کا حصول انتہائی مشکل ہو چکا ہے یہاں سب کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے مگر خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ جیسا کہ لاپتہ افراد کو لے لیا جائے تو بالواسطہ ان کی خواتین پر بھی یہ ایک ظلم ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اس حد تک بڑھ چکا ہے اور اس کی اتنی شکلیں سامنے آ چکی ہیں کہ اب ان کا مشاہدہ کرنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ایک قومی رجسٹر رکھا جائے جس میں تمام واقعات اور ان کی نوعیت درج کی جائے۔ وہ گزشتہ روز خواتین پر تشدد کے خلاف 16دنوں کی تحریک کے آغاز پر منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔

یہ تحریک وائٹ ربن ، یو این وومین، نیشنل کمیشن برائے سٹیٹس آف وومین اور وزارت انسانی حقوق نے مشترکہ طور پر شروع کی ہے۔ اس موقع پر وائٹ ربن کے چیف ایگزیکٹو عمر آفتاب ، نیشنل کمیشن کی چیئرپرسن خاور ممتاز، یو این وومین کی مس سنگیتا رانا تھاپا اور وفاقی سیکرٹری رابعہ جویری نے بھی خطاب کیا۔ عورتوں کے خلاف تشدد ایک عالمی رجحان ہے جو کہ تین میں سے ایک عورت کو متاثر کرتا ہے اور پاکستان بھی اس میں شامل ہے۔ پوری دنیا 25 نومبرکو عورتوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کاعالمی دن مناتی ہے،یہ " صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف 16 دنوں کی تحریک" کا آغاز بھی ہے جو کہ 10 دسمبر(انسانی حقوق کا دن)تک چلتا ہے۔ وائٹ ربن پاکستان نے اقوامی متحدہ ادارہ برائے خواتین ، قومی ادارہ برائے وقار نسواں اور وزارت انسانی حقوق کے تعاون میں تمام صوبوں اور علاقوں کے مردوں کو شریک کیا۔ لوکل پریس کلب کے باہر اکھٹے ہو کر مردوں اور لڑکوں نے ترقی کی راہ میں کسی بھی عورت اولڑکی کو پیچھے نہ چھوڑنے کا عہد کیا۔مرد اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ وہ عورتوں کے وقار اورتحفظ اور تشدد کی روک تھام کوترجیح دیں۔یہ کرنے میں وہ اپنے ضلعوں کو سب عورتوں اور لڑکیوں کے لیے تشدد سے پاک علاقے بنائیں گے۔

فرحت اللہ بابر نے اپنے خطاب میں تشدد کی مختلف اقسام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عقیدے سے متعلق تشدد کا معاملہ سب سے زیادہ سنگین ہے جیسا کہ جب کسی پر توہین رسالتؐ کا الزام لگ جائے تو اس کو اپنی صفائی کیلئے وکیل ہی نہیں ملتا۔ انہوں نے غیرت کے نام پر قتل ، اجتماعی زیادتی اور تیزاب گردی کی بھی مذمت کی۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ شمالی اور وسطی پنجاب میں خواتین کے خلاف چولہے کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔جنوبی پنجاب میں کیڑے مار ادویات اور سندھ میں گولی مار دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ اور معاشرہ بھی عورت کے خلاف ہے۔ انہوں نے تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی سیکرٹری رابعہ جویری آغا نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا " پاکستان کی انسانی حقوق اور ان کو نافذ کرنے کے لیے بہت مضبوط قانون سازی ہے۔بہت سی کوششوں کے باوجود ہمارے ہاں صدیوں سے رائج پدرانہ نظام خواتین کو مساوی سطح پر لانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔عورتوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک صرف اقتصادی کاموں تک محدود نہیں بلکہ یہ معاشی اور ثقافتی حلقوں میں بھی ہے ۔ہم صرف عورتوں پر یہ ذمہ داری نہیں چھوڑ سکتے کہ وہ یہ لڑائی اکیلے لڑیں۔ مردوں کو تبدیلی کا نمائندہ بننا ہوگا۔ایک روشن خیال مرد انسانی حقوق اور عورتوں اور کمزرو لوگوں کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ "

قومی ادارہ برائے وقار نسواں کی چیرپرسن خاور ممتاز نے کہا " عورتوں کے خلاف تشدد پاکستان کے ہر نصب اور علاقے کی عورتوں کو متاثر کرتا ہے۔ہمیں اس سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔یہ اس وقت ممکن ہے جب مرد اور عورت دونوں عورتوں اور لڑکیوں کی برابری اور وقار کے لیے عہد کریں۔"

وائٹ ربن پاکستان کے چیف ایکزیکٹو عمر آفتاب کا کہنا تھاکہ" وائٹ ربن کا ایک منفرد مقصد ہے۔ ہم عورتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے خلاف مردوں کو شریک کرتے ہیں۔اس سال ہم نے اس مقصد کو دیہی علاقوں تک پہنچانے لے لیے مقامی لوگوں کو شامل کیا ہے۔اس وقت کئی ضلعوں مین ہزاروں مرد اس مسئلے پر بات کر رہے ہیں۔پاکستان میں عورتوں کے حق میں قوانین بنے ہیں مگر اس کے باوجود عورتوں کے درجے میں کوئی خاص فرق دیکھائی نہیں دے رہا۔ان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ہمیں ایک باہمی تحریک کرنا ہوگی جس کے تحت عورتوں کو حقوق اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہاس وقت ملک بھر میں 70سے زائد اضلاع میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کی مہم کے سلسلے میں تقاریب منعقد کی جارہی ہیں۔ اس سال وائٹ ربن وزارت انسانی حقوق ، ادارہ برائے وقارِ نسواں ، اور اقوامِ متحدہ اداراہ برائے خواتین کے تعاون سے پنجاب کے9 کمشنرز سمیت 70سے زائد کالجز جبکہ سندھ ، خیبر پختونخواہ ، اور بلوچستان میں ڈسٹرکٹ کمیشنز برائے خواتین کے ساتھ بیک وقت کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ 300سے زائدکاروباری اداروں کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ ادارہ برائے خواتین کی ڈپٹی سیکرٹری مس سنگیتا رانا تھاپانے کہا کہ " عورتوں اور لڑکیوں کو پیچھے نہ چھوڑنے کا عہد ہر مرد کی ذمہ داری ہے۔ ہم اس مہم کے ذریعے اس عہد کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آج کی تقریب کے سارے حصہ داروں کی محنت کی بنا پر ہم اس مقصدمیں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ہم عورتوں کو معاشی، مالی اور معاشرتی طور پر مردوں کے برابر کرنا چاہتے ہیں۔یہ آگاہی کی مہم ایک بہت اچھا ذریعہ ہے ۔ "