پاکستان ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے اور آبی تحفظ کے لئے پرتگال کے تعاون کا خواہاں

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی،اے پی پی ) نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات‘ قومی تاریخ و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ پاکستان ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے اور آبی تحفظ کے لئے پرتگال کے تعاون کا خواہاں ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو یہاں پرتگال کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے 50 ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور انہوں نے پانی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے اور اس سلسلے میں رہنما اصول وضع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے عوام کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے اور یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبپاشی کے پرانے طریقے ر ائج ہیں اور 95 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے اور بہت کم پودوں کے استعمال میں آتا ہے۔ ہمارے ملک میں خوبصورت دریا بہتے ہیں‘ ہمیں ڈیمز اور آبی ذخائر بنانے اور پانی کے تحفظ کے طریقے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پرتگال جوکہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے تشویش رکھتا ہے‘ سے اس سلسلے میں رہنمائی اور تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم معاملہ جس پر پاکستان پرتگال سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے تعاون کا خواہاں ہے وہ ثقافتی ورثے کا ہے‘ ورثہ کسی بھی قوم کی پہچان ہوتا ہے اور پاکستان میں دنیا کا حیران کن ورثہ موجود ہے جسے دریافت کرنے اور محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد ثقافتی ورثہ کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیا جن کے پاس ثقافتی ورثہ کے مقامات اور سٹرکچرز کے تحفظ کے لئے مطلوبہ مہارت کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں صوبائی وزارتیں اور سیکرٹری شامل ہیں اور یہ کمیٹی یونیسکو اور دیگر ممالک کیساتھ ملکر پاکستان کے ثقافتی مقامات کے تحفظ کیلئے کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گوادر میں پرتگیزیوں کی ایک پرانی پوسٹ دریافت کی گئی اور دونوں ممالک اس کے تحفظ کیلئے تعاون کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذائقہ دار پھل ’’پائن ایپل‘‘ کیلئے اناناس کا لفظ دونوں زبانوں میں مشترکہ ہے اس طرح ’’اورنج‘‘ جسے ’’سنگترہ‘‘ کہا جاتا ہے ایسا پھل ہے جو پرتگیزی برصغیر میں لیکر آئے جو کہ سنترہ کی مناسبت سے ہے جو پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے قریب واقع ایک جگہ کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست وہ ہوتے ہیں جو کبھی ایک دوسرے کو چھوڑتے نہیں ہیں اور پاکستان اور پرتگال کے مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں۔

پرتگال کے ناظم الامور جوآؤ پاؤ لوسبیدو کوسٹا نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان اور پرتگال معیشت، ثقافت، کھیل، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں اور پاکستانی نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو دریافت کرنے کیلئے تعاون کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین ثقافتی وفود کے تبادلوں اور پیشہ وارانہ اور تکنیکی تربیت کیلئے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ تقریب میں سفارتی شخصیات کے علاوہ مسلح افواج کے افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ قبل ازیں دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے اور کیک کاٹا گیا۔

28 June 2018