پاکستان آذربائیجان کے درمیان ڈائریکٹ پروازوں اور تجارت بڑھانے کی ضرورت

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد (تزئین اختر / نمائندہ خصوصی)پاکستان اور آذربائیجان کے دانشوروں ٗ سفارتی ماہرین نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں میں تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان جغرافیائی اور فاصلاتی دوری کے باوجود انتہائی قریبی ٗ بااعتماد ٗ گرم جوش دوستانہ تعلقات ہیں ٗ علاقائی اور عالمی چیلنجز اور مسائل پر دونوں یکساں موقف رکھتے ہیں مگر دونوں کے درمیان تجارت دونوں کے پوٹینشل کی نسبت بہت کم ہے ۔

دونوں ملکوں میں سیاحت اور براہ راست پروازوں کے ذریعے پی ٹوپی یعنی عوامی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے ۔دونوں ملکوں کے چیمبرز آف کامرس کے درمیان زیادہ سے زیادہ رابطے ہونے چاہئے ۔دہشت گردی اور منشیات کی ٹریفکنگ مشترکہ مسئلہ ہے ۔دونوں ملکوں کو ان مشترکہ خطرات کا مقابلے کرنے کیلئے مشترکہ طریقہ کار طے کرنا چاہئے ۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے گزشتہ روز اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ٗ آذربائیجان سنٹر فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے زیراہتمام ایک سیمینار میں کیا جس کا عنوان تھا خطے کے موجودہ جیو پولیٹیکل رحجانات اور پاکستان آذربائیجان مضبوط تعلقات کے امکانات ۔مقررین میں سفیر علی علی زادہ ٗ ایس اے ایم آذربائیجان کے فارن پالیسی تجزیاتی شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر کاوید ولییو ٗ آذربائیجان سنٹر فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے ریسرچ فیلو فواد چراغوو ٗ ایس اے ایم کے ریسرچ فیلو ماہر ہمبا توو ٗ قائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پالیٹیکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نذیر حسین ٗ سرگودھا یونیورسٹی کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فضل الرحمان ٗ آئی پی آر آئی کے قائممقام صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محبوب قادر اور ایمبیسڈر ریٹائرڈ فوزیہ نسرین مشیر کامسیٹس سیکرٹریٹ شامل تھے ۔

سیمینار میں روس ٗ قازقستان ٗ تاجکستان ٗ کرغزستان ٗ ازبکستان ٗ بیلاروس کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔

سفیر علی علی زادہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ملکوں میں موجود پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایک دوسرے کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات ہونی چاہئے اس لئے ریسرچ بہت ضروری ہے دونوں ملکوں میں تجارت میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔پاکستانیوں کیلئے ویزہ آسان بنایا گیا ہے اور مستقبل قریب میں براہ راست پروازیں شروع کرنے پر بھی کام ہورہا ہے ۔انہوں نے پاکستانی طلباء کیلئے وظائف اور اپنے ملک میں جاری توانائی کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔آذربائیجان سے آئے ہوئے دانشوروں نے آرمینیا کی جارحیت کے معاملے پر آذربائیجان کا ساتھ دینے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ آذربائیجان نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے ۔

22 nov 2018