پاکستانیوں کے ویزے نامنظورکرنیکا تناسب 50فیصدکم ہوگیا،بیلجیم کے سفیر پیٹرکلیزکاخصوصی انٹرویو

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(ڈی این اے )پاکستان میں بیلجیم کے سفیرپیٹرکلیزنے کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ ہمارے تعلقات مضبوط بنیادوں پراستوارہیں اوران تعلقات میں روز بروز بہتری آتی جارہی ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اس خطے کااہم ملک ہے ،اس لئے بیلجیم کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان کیساتھ ہمارے تعلقات مستحکم ہوں۔

ڈپلومیٹک نیوزایجنسی (ڈی این اے ) کودیئے گئے خصوصی انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ بیلجیم دنیا کے ان چندممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے پاکستان کوسب سے پہلے تسلیم کیا،1948میں بیلجیم نے کراچی میں اپناسفارتخانہ کھولا،1954میں دونوں ملکوں نے ویزاکے حصول کوآسان بنانے کیلئے ایک معاہدہ کیا جوابھی تک چل رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بیلجیم کی کمپنیوں کواندازہ ہوگیاتھا کہ اس نوزائیدہ ملک میں ان کیلئے بے شمار مواقع ہیں،اسلئے انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرناشروع کی ،بہت کم لوگوں کوعلم ہوگا کہ 1980میں بیلجیم نے گوادرمیں پہلی بندرگاہ قائم کی ،اس طرح 2005کے زلزلے کے موقع پرہمارے ملک نے پاکستان کی بڑھ چڑھ کرمدد کی،جب پاکستان کوسیلاب کاسامناکرناپڑاا س وقت بھی ہم نے پاکستان کی بھرپورمددکی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بیلجیم بزنس فورم کاتذکرہ بھی ضروری ہے کیونکہ اس فورم نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط کومضبوط بنانے میں اہم کرداراداکیا ہے ،2012میں جب میں پاکستان آیاتومیراپہلاٹاسک یہی تھا کہ کسی طرح سے لوگوں کے درمیان تعلقات اوررابطوں کوبحال کیا جائے، اس سلسلہ میں پاکستان ،بیلجیم بزنس فورم نے اہم کرداراداکیا ہے ۔

پیٹرکلیزنے مزیدکہا کہ یورپی منڈیوں تک پاکستان مصنوعات کی رسائی یقینی بنانے کیلئے جی ایس پی پلس کادرجہ دلوانے کیلئے بیلجیم نے بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دیاتھا،انہوں نے کہاکہ یہ سیاسی فیصلہ تھااورہم سمجھتے تھے کہ پاکستان کوجی ایس پی پلس کادرجہ ملنے سے یہاں کے لوگوں کوبڑافائدہ ہوگااسلئے ہم نے پاکستان کی حمایت کی،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں،یہاں بے پناہ وسائل ہیں،لوگ محنتی ہیں اوران میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ خودبناسکتے ہیں۔ ویزہ سسٹم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیلجیم بھی شینگن ویزہ سسٹم کاحصہ ہے جس کے تحت اب یورپی ممالک کاویزہ حاصل کرنابہت مشکل ہے ،تاہم بیلجیم کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ویزہ کے حقیقی امیدواروں کوویزے کے حصول میں کوئی رکاوٹ یامشکل پیش نہ آئے۔

خاص طورپرطلباء کے لئے ویزے کے حصول کوآسان بنایاگیا ہے ،اگردرخواست کے تمام لوازمات پورے ہوں توکوئی وجہ نہیں کہ کوئی پاکستان ویزہ حاصل نہ کرسکے ،انہوں نے کہا کہ میرے آنے سے پہلے پاکستانیوں کے ویزوں کی نامنظوری کاتناسب60فیصد تھا جو اب 30فیصدرہ گیا ہے ۔

دفاعی میدان میں دونوں ملکوں کے تعلقات کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میدان میں ہماری متعددکمپنیاں پاکستان میں کام کررہی ہیں،آئیڈیاز2014میں ہماری کمپنیوں نے پاکستان کادورہ کیاتھا اورنمائش میں بھی حصہ لیاتھا،انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پوری ایمانداری سے مصروف ہے ،لہٰذا ان حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان کی ہرطرح سے مدد کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماراملک پاکستان کوایک خاص قسم کی آرمڈوہیکل دینے میں دلچسپی رکھتاہے جو دہشت گردی کی روک تھام میں معاون ثابت ہوسکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ انتہائی محنتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کواپنے جوہردکھانے کے مواقع نہیں ملتے ،پاکستان میں وسائل لاتعدادہیں جن کواگر صحیح طریقے سے استعمال میں لایاجائے تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑاہوسکتاہے ۔