پانی کی دستیابی کیلئے ایشیائی بینک نے ایک منصوبہ حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے جس میں ناروے بھی شامل ہے۔ اب ہمیں اس کی منظوری کا انتظار ہے۔ سفیر

Founder Editor Tazeen Akhtar..

-پانی ہوگا تو بجلی بھی بنے گی اور زراعت بھی بڑھے گی، بجلی سازی کیلئے قدرتی مقامات پر چھوٹی ٹربائنوں والے پاور ہائوس بنائے جائیں
-پاکستان میں تقرری خود مانگ کر لی کیونکہ افغانستان کی وجہ سے یہ حصہ دنیا کی توجہ کا مرکز ہے،افغانستان میں استحکام کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کرینگے
-ناروے سے مزید سرمایہ کاری بھی آ سکتی ہے مگر اس کیلئے امن اوراستحکام ضروری ہے، اس سے سیاحت بھی بڑھے گی، خصوصی انٹرویو

اسلام آباد(تزئین اختر) ناروے کی سفیر
نے کہا ہے کہ پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے قدرتی مقامات پر چھوٹی ٹربائنوں کے پاور ہائوس لگانا ہوں گے۔H.E Cecilie Landsverk
بڑا مسئلہ پانی کا ہے جو بجلی سازی ہی نہیں زراعت اور دیگر مقاصد کیلئے بھی درکار ہے۔ اس کا ایک منصوبہ ایشیائی بینک نے بنا کر دے رکھا ہے جس کی منظوری کا انتظار ہے۔ ناروے بھی اس میں شریک ہے۔ ناروے سے مزید سرمایہ کاری آ سکتی ہے مگر اس میں سکیورٹی کی صورتحال نے رکاوٹ ڈال رکھی ہے۔ وہ گزشتہ روز خصوصی نشست میں اظہار خیال کر رہی تھیں۔ سفیر نے کہا کہ وہ بائی چوائس پاکستان آئی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں تقرری کا حکم ملنے پر آپ کے کیا جذبات تھے؟ اس پر سفیر نے کہا کہ انہیں حکم نہیں ملا، انہوں نے خود پاکستان میں تقرری مانگ کر لی کیونکہ یہاں افغانستان بحران کی وجہ سے یہ خطہ دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان میں توانائی بحران کی بات چلی تو انہوں نے بتایا کہ ناروے پہاڑوں کا ملک ہے، وہاں بہت سی آبشاریں ہیں ہم نے ان پر چھوٹی ٹربائنیں لگا کر بجلی بنائی، پاکستان بھی یہ تجربہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کا اصل مسئلہ ہے، پانی کی دستیابی کیلئے ایشیائی بینک نے ایک منصوبہ حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے جس میں ناروے بھی شامل ہے۔ اب ہمیں اس کی منظوری کا انتظار ہے۔ اس کی تفصیلات کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال اس کے اعدادوشمار میسر نہیں تاہم یہ منصوبہ مستقبل میں پانی کی ضروریات پوری کر دے گا۔ پاکستان اور ناروے میں تجارت کے متعلق سفیر نے بتایا کہ ناروے پاکستان سے 11 کروڑ ڈالر کی اشیاء خرید رہا ہے جبکہ پاکستان ناروے سے 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی درآمدات کر رہا ہے، اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ ہمارے سرمایہ کار اس کیلئے تیار ہیں اور وہ پاکستان میں بہت بڑا پوٹیشنل بھی دیکھتے ہیں مگر سکیورٹی کے مسائل آڑے آ رہے ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے امن اور استحکام بہت ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا اس وقت تین کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں جن میں ٹیلی نار سب سے اہم ہے۔ کچھ عرصہ قبل ناروے کے چند افراد پر جاسوسی کے الزام سے متعلق رپورٹس پر انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایک انہونی کو ہونی بنا دیا گیا، ایسا کچھ نہیں تھا۔ میڈیا میں غلط فہمی کے باعث یہ بات اچھل گئی۔ پاکستان ناروے کے درمیان ہر بات کھلی ہے، دونوں سکیورٹی سمیت تمام معاملات پر مل جل کر کام کر رہے ہیں۔ کشمیر سے متعلق سوال پر سفیر نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت دونوں کو مل کر حل کرنا ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ دونوں بات چیت کرتے رہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت پر ہم خوش ہیں۔ افغانستان کے متعلق بات ہوئی تو سفیر نے کہا کہ یہاں ہمارے 500 فوجی ہیں جو مشترکہ فیصلے کے مطابق آئندہ سال واپس چلے جائیں گے۔ افغانستان کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ افغان خود کو اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے معاملات خود حل کر سکیں۔ اس مقصد کیلئے عالمی برادری کو ان کی مدد کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں ناروے کی جو ذمہ داری ہوگی وہ پوری کرے گا۔

سفیر نے کہا کہ پاکستان میں سیاحوں کیلئے بہت کچھ ہے۔ یہاں ثقافتوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ اگر امن اور استحکام ہو تو سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔ ناروے میں مقیم پاکستانی ہماری ترقی میں قابل قدر کردار ادا
کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ناروے میں سب سے بڑی تارکین وطن کمیونٹی پاکستان کے لوگوں پر مشتمل ہے جن کی اکثریت گجرات اور کھاریاں کے علاقوں سے ہے۔
May 31-2012