ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب مسلمان ممالک کے خلاف بد نیتی کی بنیاد پر ہے،علامہ ناصر عباس جعفری

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد( پر)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی طرف سے صحافیوں اور عمائدین کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا گیااس موقعہ پر مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امت مسلمہ کو درپیش خطرات اور پاکستان کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ قرآن نے یہود ونصاری کو دین کا دشمن قرار دیا ہے۔جو لوگ صیہونی و نصرانی گروہوں کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں وہ دین اسلام کی بنیادی تعلیمات سے عاری اور مفاد پرست ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کی بنیاد اسلام دشمنی پر ہے۔یہ اسلام دشمن قوتیں عرب کو عرب اور مسلمان کو مسلمان سے لڑانے میں پیش پیش ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قطر کے ساتھ معاشی مقاطعہ افسوسناک ہے۔اسرائیل جیسے اسلام دشمنوں سے تعلقات مضبوط کیے جا رہے ہیں جب کہ مسلمانوں کو دشمن بنایا جا رہا ہے۔آل سعودکے یہ اقدامات امت مسلمہ کے مفادات کے منافی اور یہود و نصاری کے ایجنڈے کی تکمیل ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ یہود و نصاری کی دوستی نے مسلمانوں کو ہمیشہ نقصانات سے دوچار کیا ہے۔جن مسلم ممالک نے انہیں اپنا دشمن سمجھا وہ مضبوط ہوئے اور آج انہیں اقوام عالم میں نڈر اور باوقار قوم سمجھا جا تا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں حالات کی خرابی کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔امریکہ سپر پاور کے زعم میں مبتلا ہے اور اپنی بالادستی پرکوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتا یہی وجہ ہے امریکہ ہر اس کا مخالف ہے جو اس کے تسلط کو قبول نہیں کرتا۔پاکستان اور خطے کی دیگر ریاستوں کا غیرمستحکم ہونا امریکی مفادات میں ہے۔اس لیے امریکہ مسلمان ممالک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔پاکستان میں سی پیک منصوبے کی تکمیل یہود ونصاری اور بعض خلیجی ممالک کے مفادات کے لیے ایک بدترین دھچکا ہیں یہی وجہ ہے کہ گوادر اور سی پیک کی گزرگاہوں میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر کے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا بھارت ہمارا کھلا دشمن ہے۔ملک دشمن کی شناخت میں حکمرانوں اور سیاسی قوتوں کی طرف سے مبہم بیان مناسب نہیں۔ہماری دوستی صرف اس سے ہی ہو سکتی ہے جو ہمارے ملک کا دوست ہو۔ ارض پاک اس وقت تاریخ کے اہم ترین دور سے گزر رہا ہے۔سیاست پر مفاد پرست تاجر ٹولا قابض ہے۔یہاں کرپشن اور فساد کو کبھی نہیں روکا گیا یہاں کے سیاست دان امیر سے امیر اور ملک غریب سے غریب ہوتا جا رہا ہے۔قانون کی عملداری کا خاتمہ نا انصافی کو جنم دیتا ہے جس سے معاشرے سے نظم و ضبط کا خاتمہ اور انتشار کو فروغ ملتا ہے۔اس وقت پوری قوم کی نظریں جے آئی ٹی پر لگی ہوئی ہیں۔اگر اس ٹیم نے درست انداز میں کام کیا اور حکمرانوں کا احتساب ہواتو پھر ملک میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ جے آئی ٹی کرپشن کے خاتمے کی طرف نقطہ آغاز ثابت ہو گا اور پھر بہت جلد باقی لٹیروں کا بھی حساب ہو گا۔