وہ تو کانچ کی گڑیا تھی -ہاتھوں سے یوں چھوٹ گئی- گرتے ہی وہ ٹوٹ گئی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

فرزانہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے میں نے اور تم نے آخری سیلفی بنائی ۔ میں نے تم سے شکوہ کیا کہ تم نے کتاب کا نام "ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے" کیوں رکھا بندہ  مشورہ ہی کرلیتا ہے۔ پھر جب میں کتا ب نہ ملنے پر میٹھا سا ناراض ہوئی تو کہنے لگی  یہ کتاب محبوب ظفر کو دے کر آتی ہوں پھر آپ کو کتاب دوں گی اور تم نے اپنے میاں کو جو آخری میسیج کیا کہ میرے پاس ایک ہی کتاب ہے رُخسانہ کو دے دوں  ؟لیکن تم واپس ہی نہ آئی۔ میں تمھیں دیکھتی ہی رہ گئی اور تم نے شاید سوچ کر ہی نام رکھا تھا ہجرت تم سے ایسی لپٹی کہ اس نے تمھیں مجھ تک پہنچنے ہی نہیں دیا ۔ 

فرزانہ تم تو کتاب دینے چلی گئی اور میں دوستوں کے ساتھ تقریب کے ختم ہوتے ہی تصویریں بنانے لگی ۔ سٹیج سے کچھ لوگوں گروپ فوٹو کے لیے اشارہ کیا لیکن اتنا زیادہ ہجوم دیکھ کر میری ہمت ہی نہ ہوئی اور ہم کافی ساری سہیلیاں وہیں کھڑی تصویریں بنواتیں رہیں ، اچانک سے سٹیج کی طرف افراتفری اور شور شرابے کی آوازیں بلند ہوگئیں میں نے جب مُڑ کر دیکھا تو ہر بندہ سٹیج کے اوپر والے نیچے جھکے کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ میری جیسے ہی سٹیج پر کھڑے وی آئی پی  حضرات پر نظر پڑی تو انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ کون گرا ہےوہ لوگ پچھلے دروازوں سے نو دو گیارہ ہوگئے۔ اس سے پہلے کہ میں سٹیج کی طرف بھاگتی مجھے محبوب ظفر نظر آئے پوچھا تو پتہ چلا کہ کوئی خاتون گری ہیں ۔

تھوڑی دیر میں میرے بچوں نے آکر تصدیق کردی ماما وہ فرزانہ آنٹی ہیں ، میرے تو پائوں سے جیسے زمیں ہی نکل گئی میں کانپتی ٹانگوں سے تمھارے پیچھے بھاگی۔ بچارے کچھ کیمرہ مین لڑکوں نےتمہیں کس مشکل سے اُس موت کی کھائی سے باہ نکالا۔ میں نے جب جھک کر دیکھا میں دنگ رہ گئی 12 فٹ کی بلندی سے تم گریٰ اور ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی۔ میں وہیں تمھارے خون کو دیکھ کر خون کے آنسو بہاتی تم تک پہنچی۔ لیکن اُن جوانوں نے تمہیں باہر سیڑہیوں کے پاس لا چھوڑا میں نے تمھارے کپڑے درست کئے مجھے لگا تم نے کس بیچارگی سے میری طرف دیکھا ہو کہ تم تو ایک لمحہ بھی اپنا دوپٹہ سر سے سرکنے نہیں دیتی تھیں۔ آج تمہارے جسم میں اتنی طاقت نہیں کہ تم خود کو سنبھال سکو۔ تمھارے چہرے کو چھوا تو مجھے لگا جیسے کلی مرجھائے جارہی ہو۔  

میں نے چیخ کر کہا کہ خدا کے لیے عورت کی تزلیل مت کرو اسے کرسی پر بٹھاکر کرسی کو اُٹھائو اور باہر تک لے جائو۔اسماعیل بھائی پاگلوں کی طرح تمہارے دونوں بچوں کی انگلیاں تھامے تمھارے پیچھے بھاگ رہے تھے۔

ہائے صد افسوس  باہر تو کوئی سرکاری ایمبولینس  بھی نہیں کھڑی تھی کوئی گاڑی نہیں ملی۔ اللہ بھلا کرے موٹر وے پولیس کے ایک اہلکار اور لیڈی اہلکار کا جنہوں نے انسانیت کے ناطے اپنی گاڑی پیش کردی ۔

فرزانہ میری دوست کوئی بڑے ادیب ، دانشور اور صاحب اقتدار بھلا ہمارے ساتھ کیوں بھاگتے میری جان چھوٹے ادیبوں کو یہ لوگ گھاس کہاں ڈالتے ہیں ۔ لیکن میں تھیں ناں۔ اسماعیل بھائی تھے ناں تمھارے دو ننھے فرشتے تھے ناں۔

الشفا ھاسپیٹل پہنچے تو تمہیں ایمرجنسی میں اسی وقت وینٹیلیٹر پر ڈال دیا گیا ۔ ہمارے پاس دُعائوں کے اور بچا ہی کیا تھا۔ مجھے تمہاری معصوم سی پیاری پیاری باتیں یاد آنے لگیں تم نے تو کل میرے گھر کھانے پر آنا تھا تم نے کتاب دینے گھر آنے کا کہا تھا پھر تم کیسے وعدہ فراموش  ہو سکتی ہو۔ فرزانہ بہت سے ہمدرد دوست ایسے بھی تھے جو تمھارے لیے دُعائوں کی استدعا کررھے تھے تم اکیلی نہیں تھی ہم چند  لیکن سو پر بھاری تمہارے ساتھ کھڑے تھے۔ اسی اثناء میں رُخسانہ نازی بھی پہنچی اور وہ اور میں گلے لگ کے بہت روئٰیں ۔ جب اُس نے بتایا کہ میں نے انعام الحق جاوید صاحب کہا کہ آپ کو کچھ کر نا چاہیے آپ کو جانا چاہیے  تو محترم فرمانے لگے کہ تم چلی جائو ناں  تم بھی تو امیر باپ کی بیٹی ہو۔ اور جب رُخسانہ نازی نے پوچھا کہ آپ نے اس قاتل کھائی کو بند کیوں نہیں کروایا  تو محترم نے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں تو پہلے بھی پانچ حادثے ہوچکے ہیں ۔ لیکن ہم کیا کریں کوئی بند ہی نہیں کرواتا۔

ہائے ہائے کیسی بےحسی ہے اقتدار کے نشے نے تو ہمارے عہدیداروں کی آنکھوں پر بلکل ہی پٹی باندھ دی ہے۔

اتنے میں دیکھا کہ تمہیں انتہائی نگہداشت  کے کمرے میں منتقل کیا ہے تو میں اور نازی تم تک بھاگ کر پہنچیں ۔ دوست تم یقینا اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتی تھیں تمہاری آنکھیں نیم وا تھیں میں نے تمھاری تصویر بنائی تو تمھارے ہاتھوں میں جنبش ہوئی تمہارا ہاتھ میری جانب اُٹھا اور تمھاری سانسیں جیسے بہت تیزی سے چلیں اور گلے سے چند آخری گھٹی گھٹی آوازوں کے بعد تم ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئیں ۔ ڈاکٹرز نے تو ہماری تسلی کے لیے تمہیں انتہائی نگہداشت  یونٹ میں شفٹ کیا تھا۔  لیکن مجھے معلوم ہوگیا تھا تم ہمیشہ کے لیے ہمیں داغ مفارفت دے گئی ہو۔

لیکن ڈاکٹرز کا میں شکریہ  ادا کرنا چاھوں گی کہ انھوں نے اچھا کیا جو تمہیں ایک رات اور ایک دن کے لیے  مصنوعی سانسوں پر ہی سہی کچھ دیر زندہ تو رکھا  ہمارا  ایک دم حوصلہ تو نہیں توڑا۔ بھلا ہو ہمارے بے حس انتظامیہ  کا جن کا کتنے ہی گھنٹوں نہ آنا کوئی خبر نہ لینا اور خاموشی ایسی اختیار کی کہ جیسے ہوا ہی کچھ نہیں ۔ ہمارے حوصلوں کوپست کر ڈالا۔ فرزانہ میری جان تم اگر اجازت دو تو کیا میں یہاں چند سوالات رکھ سکتی ہوں :

1۔ ارباب اختیار اس بات کا انتظار کیو ں کرتے رہے کہ جب تک انھیں کنفرم نہیں ہوگیا کہ تم اب ہم میں نہی رہی تب وہ آئے؟

2۔ کیوں اللہ کی مرضی اور اللہ پر ساری چیزوں کو سونپ کہ وہ بری الذمہ ہوگئے ؟

3۔  جب قلم کار برادری نے بہت سا پریشر ڈالا تب کہیں جاکر اُن کی ٹانگوں میں جنبش پیدا ہوئی  وہ چند قدم چل کر ھسپتال آکر ایسا کیوں جتا رہے تھے  جیسا انہوں نے یہاں آکر ہم پر کوئی احسان کر ڈالا ہو؟

4۔ ڈاکٹڑ ناھید صاحبہ نے جب عرفان صدیقی سے سوال کیا کہ آپ کو پتہ تھا کہ یہ اُسی جگہ پر چھٹا حادثہ ہے تو آپ نے اُ س کا سدباب کیوں نہ کیا۔ تو انہوں نے کس ڈھٹائی سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا  کہ مجھے تو کچھ پتہ نہیں ؟

5۔ فرحین چودھری صاحبہ نے جب دُکھ سے بھرے لہجے میں انعام الحق جاوید سے سوالات کئے تو انہوں نے کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور حقارت بھری نظروں سے دیکھ کر ایک طرف ہوگئے؟

6۔ فرزانہ میری جان ہم اہل قلم برادری نے ھاسپیٹل کے بلوں کے لیے آپس میں اتنے پیسے تو جمع کر ہی لیتے پھر یہ پیسوں کے زعم پر آخر میں سب کو کیسے خریدنے پہنچ گئے؟

7۔  فرزانہ کیا تم اللہ میاں سے جا کر یہ پوچھو گی تمہیں کس گناہ کی پاداش میں بے گناہ بے یارومدد گار چھوڑا گیا؟

8۔ کاش فرزانہ تم بھی کسی بڑے باپ کی بیٹی ہوتی  یا پھر انہی کی لابی کا کوئی حصہ ہوتی  تو کیا مجال تھی تمھارے  لیے  اتنے بڑے کتاب میلے میں کوئی ایمبولینس نہ ہوتی؟

9۔ تم یوں تڑپ تڑپ کر نہ مرتی اگر تمھارے لنکس بھی وزیروں ،مشیروں سے ہوتےََ؟

فرزانہ خدا کے لیے اپنے بچوں کی فکر نہ کرنا اہل قلم برادری تُمھارے بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

میری دوست مجھے معاف کردینا کہ میں تمہیں بچا نہیں سکی اللہ میاں نے تمھیں ہمارے لیے بنایا ہی نہیں تھا۔

وہ تو کانچ کی گڑیا تھی

ہاتھوں سے یوں چھوٹ گئی

گرتے ہی وہ ٹوٹ گئی

رُخسانہ سحر

اسلام آباد