نابینا افراد کے لئے تعلیمی تفریحی پروگرام ---- صائمہ عمار کی روشن کی ہوئی شمع معاشرے کے لئے مشعل راہ

Report---Tazeen Akhtar -08 July 2012-

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان میں سب سے بڑی نعمت آنکھیں ہیں جن کی مدد سے ہم اللہ کی بنائی ہوئی کائنات اور اپنی دنیا کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ نعمت کتنی عظیم ہے اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ صائمہ عمار مسعود بھی انہی لوگوں میں شامل تھیں۔ مشہور مزاحیہ شاعر انور مسعود کی بہو اور ابھرتے ہوئے شاعر ادیب عمار مسعود کی اہلیہ صائمہ عمار دیکھنے سے معذور تھیں۔ مگر آفرین ہے اس خاتون پر کہ اس نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ اس عظیم خاتون نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد دوسروں پر بوجھ بننے کے بجائے نہ صرف اپنا بوجھ خود اٹھایا بلکہ اپنے جیسے ہزاروں لوگوں کو مجبوری سے بچانے اور معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کا عزم کر لیا اور اس کو عملی شکل دے کر یہ بات ثابت کر دی کہ ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔ صائمہ عمار ڈھائی سال کی تھیں جب بخار کے باعث آپٹک نرو متاثر ہونے کی وجہ سے ان کی بینائی چلی گئی۔ بعدازاں انہوں نے ابتدائی تعلیم لندن سے حاصل کی۔ برطانیہ کے واسیئر کالج فار بلائنڈ سے اے لیول کرنے کے بعد پاکستان آ گئیں اور قائداعظم یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا۔ اوپن میرٹ داخلہ ٹیسٹ میں انہوں نے ہزار امیدواروں میں ٹاپ کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد صائمہ نے خود کو نابینا افراد کیلئے وقف کر دیا۔ آپ نے معذور افراد کے مسئلے پر امریکہ سمیت مختلف ممالک میں منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ پہلی پاکستانی نابینا فرد تھیں جس نے 14-12 مئی 2008ء میں انٹرنیشنل وزٹر پروگرام بیورو آف ایجوکیشن اینڈ کلچرل افیئرز میں شرکت کی۔ صائمہ عمار آڈیو ورلڈ کی بانی ہیں۔ یہ پروگرام نابینا افراد کو تعلیم اور تفریح کیلئے کیسٹیں فراہم کرتا ہے۔ نابینا افراد کیلئے تربیتی ورکشاپس، سول سوسائٹی اور ٹی وی چینلز پر لیکچرز بھی دیئے۔ فاطمہ جناح یونیورسٹی میں ایکسٹرنل ایگزامینر بھی رہیں۔

پاکستان فائونڈیشن فائٹنگ بلائنڈنس (PFFB) 1988

 کی بنیاد رکھی۔ یہ نان پرافٹ این جی او ہے جو ریٹنا انٹرنیشنل کی ممبر ہے اور جس کا مقصد نابینا افراد کیلئے طبی تحقیق، علاج اور فلاحی خدمات فراہم کرنا ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے سماجی ذمہ داری کے تحت فائونڈیشن کے دفتر واقع کراچی کمپنی کا دورہ کیا۔ پروگرام سپیشلسٹ عمارہ انور نے ہمارا استقبال کیا۔ عمارہ خود بھی نابینا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بینائی بچپن میں چلی گئی تھی۔ عمارہ انور ملک کی پہلی ایم بی اے جنہوں نے نظر کے بغیر ایم بی اے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم 1995ء سے (RP) متاثرہ خاندانوں کا اکٹھا کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس 12 ہزار سے زائد خاندانوں کا ڈیٹا ہے۔ فائونڈیشن آئرلینڈ، فرانس، امریکہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، جاپان، ہالینڈ، اٹلی اور دیگر ممالک میں منعقدہ کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکی ہے۔فائونڈیشن کے پاس 600 ایسی فیملیاں ہیں جن میں 3 افراد نابینا ہیں جبکہ 100 ایسے خاندان ہیں جن میں 5 یا زیادہ افراد نابینا ہیں۔ PR 53 فیملیاں فائونڈیشن کے پاس ہیں۔ فائونڈیشن چونکہ تعلیمی میدان میں بھی کام کر رہی ہے اس لئے آڈیو ورلڈ یا بولنے والی کتابوں کی لائبریری اس کی خاص چیز ہے۔ یہ ایک لائبریری ہے جس میں کتابوں کی جگہ آڈیو کیسٹیں رکھی گئی ہیں۔ عمارہ نے ہمیں یہاں کام کرنے والے لوگوں سے ملوایا۔ ان میں محمد منیب پروگرام منیجر اور ان کے ساتھی فیاض احمد، ظہور احمد اور محمد فیاض شامل تھے۔ آڈیو ورلڈ محمد منیب کی نگرانی میں چلتی ہے جبکہ ان کے باقی ساتھی کیسٹوں کی تیاری اور ڈسٹری بیوشن میں معاونت کرتے ہیں۔ یہاں دو طرح کی کیسٹیں تیار ہوتی ہیں۔ ایک نصابی کیسٹیں جن میں مختلف تعلیمی کورسز ریکارڈ ہوتے ہیں، دوسری تفریحی مواد پر مبنی ، مثلاً ڈرامے، موسیقی وغیرہ۔ تعلیمی کیسٹیں نابینا طلبہ کو امتحان کی تیاری میں مدد دیتی ہیں جبکہ تفریحی کیسٹیں فارغ وقت کیلئے ہیں۔ یہ کیسٹیں نابینا افراد کو مفت پوسٹ کی جاتی ہیں جو ان سے استفادہ کر کے واپس پوسٹ کر دیتے ہیں جس کیلئے ڈاک کا لفافہ ایڈریس سمیت ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی خدمت ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بینا افراد تو لائبریریوں سے کتابیں لے کر بہت کم واپس کرتے ہیں مگر نابینا افراد باقاعدگی سے کیسٹیں واپس بھیج دیتے ہیں جو بینا افراد کیلئے ایک سبق اور قابل تقلید مثال ہے۔

فائونڈیشن کے ہاں صوتی اثرات کیلئے سٹوڈیو بھی بنایا گیا ہے جس کے منیجر عارف بزمی ہیں جن کی معاونت مبشر علی کرتے ہیں۔ یہاں کیسٹوں کے اندر ماحول اور صورتحال کے مطابق صوتی اثرات ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔ تعلیمی اور تفریحی کیسٹوں کی ریکارڈنگ بھی یہی ہوتی ہے۔ اس کیلئے ایک اچھی آواز اور تلفظ والا فرد مائیک کے سامنے کتاب پڑھتا ہے۔ فائونڈیشن کتاب پڑھنے والے کو معاوضہ ادا کرتی ہے تاہم ساتھ ہی رضاکاروں کی بھی طلب گار ہے کیونکہ کورسز کی کتابیں بہت زیادہ ہیں اور فائونڈیشن کے وسائل محدود۔ یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کر کے نابینا افراد کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں۔ ان کیسٹوں کی تیاری کے دوران باقاعدہ ایڈیٹنگ ہوتی ہے۔ فرح علی یہ ذمہ داری سرانجام دیتی ہیں۔ یہ بہت اہم ذمہ داری ہے کیونکہ نابینا فرد نے جو کچھ بھی حاصل کرنا ہے وہ آواز سے کرنا ہے اس لئے ایڈیٹنگ میں اہتمام کیا جاتا ہے کہ سننے والے کو بالکل واضح اور ٹو دی پوائنٹ معلومات فراہم کی جائیں۔ انٹرنیٹ کیفے فائونڈیشن کی طرف سے فراہم کردہ ایک اور خاص سہولت ہے۔ یہاں نابینا افراد بلامعاوضہ انٹرنیٹ استعمال کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ فائونڈیشن کے پاس کمپیوٹر کے حوالے سے نابینا افراد کیلئے خاص سافٹ ویئر موجود ہے۔ انٹرنیٹ کیفے میں پروگرام کوآرڈی نیٹر طاہر علی کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں نابینا افراد کیلئے جدید کمپیوٹر رکھے گئے ہیں جن کے استعمال کیلئے نابینا افراد کی تربیت کا بھی انتظام موجود ہے اور خصوصی سافٹ ویئر کی بدولت وہ بھی بینا افراد کی طرح انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ لاہور اور ملتان میں بھی یہ سہولت دی گئی ہے اور آگے پشاور ودیگر شہروں میں بھی فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ طاہر علی نے بتایا کہ یہ ملک کا پہلا بلائنڈ انٹرنیٹ کیفے ہے۔ کیفے میں عمارہ انور اور سائیکالوجسٹ کونسلر ذیشان بھی موجود تھے۔ ذیشان جزوی طور پر نابینا ہیں اور کونسلنگ کرتے ہیں۔ یہاں عمارہ طاہر اور ذیشان سے نابینا افراد کی نفسیات اور والدین ومعاشرے کی ذمہ داریوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ شرکاء کا یہ کہنا تھا کہ نابینا افراد کو توجہ اور شفقت کی ضرورت تو ہے مگر بہت زیادہ اہتمام بھی ان کیلئے مناسب نہیں۔ والدین جب بہت زیادہ تحفظ اور دیکھ بھال کرنے لگتے ہیں تو نابینا افراد کو انحصار کی عادت پڑ جاتی ہے۔ شرکاء کا یہ ماننا تھا کہ ان کو چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار کرنا چاہیے۔ ان افراد کو جتنا بھی سوشل کیا جا سکے اتنا اچھا ہے۔ ہم معذور ہیں مگر مجبور نہیں۔ صائمہ عمار جنہوں نے یہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا، 22 دسمبر 2011ء کو نروس ڈس آرڈر کے باعث انتقال کر گئیں۔ قدرت کو یہی منظور تھا۔ وفات کے وقت ان کی عمر 41 سال تھی۔ ان کے خاوند عمار مسعود، والد بریگیڈیئر (ر) نیاز احمد کے مطابق صائمہ نے بیماری کا بھرپور مقابلہ کیا۔ ایک سال تک زندگی کی جنگ لڑی۔

صائمہ اس دنیا سے چلی گئیں مگر ان کی یادیں اب بھی موجود ہیں۔ وہ اپنی تنظیم اور اس کے ذمہ داران کیلئے اب بھی مشعل راہ ہیں جو انہیں آگے بڑھنے کا راستہ دکھا رہی ہیں۔ یہ اسی کی جدوجہد کا کمال ہے کہ نابینا افراد زندگی کے ہر شعبے میں آگے آ رہے ہیں۔ ارشد عباسی گارڈن کالج میں انگلش کے لیکچرر تھے۔ انہوں نے سی ایس ایس میں گیارہویں پوزیشن حاصل کی۔ صائمہ سلیم پہلی نابینا ہیں جنہوں نے سی ایس ایس میں چھٹی پوزیشن حاصل کی۔ نابینا افراد ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کیلئے ہماری معاشرتی ذمہ داری ہم پوری کر رہے ہیں یا نہیں! یہ وقت کا بڑا سوال ہے۔ ہمارے ہاں حکومتی سطح پر سماجی بہبود کی وزارتیں تو موجود ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نہ تو حکومت اکیلی سب تک پہنچ سکتی ہے اور نہ ہی اکیلی این جی اوز اس فریضے سے عہدہ برآ ہو سکتی ہیں۔ اس کیلئے پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کی تعلیم سے لے کر ملازمت، پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے، علاج معالجے، ان کے اعدادوشمار، ان کی مختلف اقسام پر تحقیق اور جو علاج کے قابل ہوں ان کے علاج کے اہتمام کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے صائمہ عمار مرحومہ نے اپنے حصہ کا فرض ادا کر دیا جو اب بھی جاری ہے۔ وہ اپنے حصے کی شمع روشن کر گئی ہیں۔ اب اس سے ہم نے اپنے اپنے حصہ کے چراغ روشن کرنا ہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو دنیا میں سب کیلئے روشنی ہو سکتی ہے۔

Image: