منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

Founder Editor Tazeen Akhtar..

را ئے عا مہ ۔ ۔ ۔ تز ئین اختر

وفاقی وزارت اطلاعات اپنے مختلف مسائل کی وجہ سے گزشتہ دوہفتوں سے خبروں اورتبصروں کاموضوع بنی ہوئی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب کہ حکومت کواپنی ساکھ بچانے اورکامیابیاں اجاگرکرنے کے لیے ایک انتہائی منظم اورمتحرک وزارت اطلاعات کی ضرورت تھی یہاں ابہام ،مایوسی اوربے عملی کادوردورہ ہے ۔اس وزارت میں مکمل وفاقی وزیرنارکھناایک بات ہے مگراس سے ہٹ کربھی ایسے مسائل پیداہوچکے ہیں کہ جن کی وجہ سے مزیدخرابی نے جنم لے لیاہے۔دوہفتے قبل وزیراعظم نے سلیکشن بورڈکااجلاس کرکے گریڈ21سے 22میں ترقیاں دیں مگروزارت اطلاعات کے کسی افسرکوترقی نہیں ملی جن میں موجودہ پی آئی اوراؤتحسین علی خان ،ایڈیشنل سیکرٹری شیرازلطیف ،ڈی جی ریڈیوپاکستان صباء محسن اورڈی جی ایکسٹرنل پبلسٹی شفقت جلیل شامل ہیں ۔راؤتحسین علی خان اورشیرازلطیف ان میں سینئرترین ہیں ۔اصولی طورپران سب کوگریڈ22میں ترقی بھی ملنی چاہیے تھی اورانہی میں سے ایک افسرکووفاقی سیکرٹری اطلاعات بھی مقررکرناچاہیے تھامگرناتوترقی ملی اورنہ ہی تقرری ۔



پہلے مرحلے میں کامرس منسٹری سے انتظامی گروپ کے ڈاکٹرعامراحمدکوتعینات کردیاگیااوردوسرے مرحلے میں سابق کمشنرکراچی ڈی ایم جی کے شعیب احمدصدیقی کووفاقی سیکرٹری کی تقرری مل گئی۔اس ساری صورتحال کے بعدیہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان افسروں کے دلوں پرکیابیتی اوران کوکتنی مایوسی ہوئی یاان کی کتنی حوصلہ شکنی ہوئی ۔مگریہ باورکراناضروری ہے کہ اعلیٰ ترین سطح سے ہونے والے ان فیصلوں کانتیجہ مثبت نہیں نکل سکتااوراس کاالٹی میٹ نقصان خودحکومت کوہوگا۔انتظامی گروپ یاڈی ایم جی افسروں کولاکردیگروزارتوں میں توشائدمطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہوں مگروزارت اطلاعات جیسی حساس ترین وزارت میں ان افسروں کوسوائے ناکامی کے اورکچھ نہیں مل سکتا۔ان کی تربیت ہی یکسرمختلف ہوتی ہے۔وزارت اطلاعات نرم خوئی ،شگفتہ مزاجی،تعلق سازی اورملنساری سے عبارت ہے جب کہ انتظامی یاڈی ایم جی کی تربیت میں سردمہری،سختی،پروٹوکول،برتری اورتفاخرکوٹ کوٹ کربھراجاتاہے،یہاں تک کہ یہ ٹریننگ بھی دی جاتی ہے کہ عام آدمی کے ساتھ ’’آئی ٹوآئی‘‘کانٹیکٹ سے بھی گریزکیاجائے۔لہٰذاصاف ظاہرہے کہ دونوں کاکام بھی مختلف ہے اورتربیت بھی ایک دوسرے کے الٹ ہے۔اس سے ثابت ہوتاہے کہ ڈی ایم جی یاانتظامی افسران وزارت اطلاعات کومزیدخراب توکرسکتے ہیں ٹھیک بالکل نہیں کرسکتے۔



گزشتہ کچھ عرصے میں حکومت کومیڈیاکے محازپرانتہائی سخت چیلنجوں کاسامنارہاہے جن کی تفصیل یہاں مہیاکرناضروری نہیں کیونکہ بچہ بچہ جانتاہے ۔ان چیلنجوں سے عہدہ براہونے میں جن افسران نے حکومت کی مددکی ان میں پی آئی ڈی اوروزارت اطلاعات کے افسران کاکردارسب سے نمایاں رہالہٰذاسلیکشن بورڈکاوقت آیاتوان کوبڑی امیدتھی کہ وزیراعظم ان کویادرکھیں گے مگرناجانے کیوں وزیراعظم بھول گئے یاکسی نادان دوست نے ان کوغلط مشورہ دے دیاجس کی وجہ سے حکومت کاروشن چہرہ اورمثبت امیج اجاگرکرنے والے افسران میں بددلی کی لہردوڑگئی ۔

شعیب احمدصدیقی بلاشبہ انتہائی قابل ،ایمانداراورمتحرک آفیسرہیں مگران کواپنی کارکردگی دکھانے کیلئے ٹیم کی ضرورت ہوگی ۔یہ ٹیم ان کوکہاں سے میسرآئے گی ۔فطری بات ہے کہ وزارت اطلاعات کے تمام سینئرافسران جن کوترقی ملی نہ تقرری وہ کھل کریاپوری طرح ان کے



ساتھ چلنے سے قاصررہیں گے اورکچھ اس قسم کی صورتحال سامنے بھی آچکی ہے ۔کچھ افسراحتجاجاً چھٹی پرجاچکے ہیں ۔کمانڈرجتنابھی باصلاحیت ہووہ اکیلاکچھ نہیں کرسکتا۔لہٰذاوزیراعظم کواس معاملے کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ہماری معلومات کے مطابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اس حوالے سے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں صورتحال واضح کرچکی ہیں مناسب ہوگاکہ جلدازجلداصلاح کاآغازکیاجائے کیونکہ اسی ہفتے حکومت کونئے چیلنجوں کاسامناشروع ہوسکتاہے ۔اس میں پانامہ کیس کے ممکنہ فیصلے ہی کولے لیں تویہ بذات خودایک بڑامسئلہ ہے جبکہ فوجی عدالتوں اورمردم شماری سمیت کئی دیگرقومی ایشوزپربھی متحرک پریس افسروں کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔بہترہوگاکہ وزیراعظم اس مسئلے کوحل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پریس سیکرٹری کے طورپربھی وزارت اطلاعات ہی سے کسی افسرکولے لیں ۔اس میں جتنی بھی تاخیرکی جائے گی اس کانقصان کسی اورکونہیں صرف حکومت کوہوگا۔



بات یہاں پر ختم نہیں ہوجاتی کہ چند افسروں کو ترقی نہیں ملی ۔قابل غور بلکہ افسوس ناک ترین بات یہ ہے کہ جس سلیکشن بورڈ میں وزارت اطلاعات کے مستحق افسروں کو نظر انداز کردیا گیا اُس بورڈ میں بدترین بد انتظامی کی انکوائری بھگتنے والی ایک خاتون افسر کوبھی ترقی مل گئی جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سلیکشن بورڈ میں میرٹ اور استحقاق کا کتنا خیال رکھا گیاہے۔عشرت مسعود نامی یہ افسر وزارت کیڈ کے ایک افسر کی انکوائری کی زد میں ہے۔الزام یہ ہے کہ اس خاتون افسر کے زیر انتظام محکمے (سپیشل ایجوکیشن)میں دو خصوصی بچوں کو’’ اخلاق باختگی‘‘ کا نشانہ بنایا گیا ۔ایسے ایسوں کو ترقی مل گئی مگر نہیں ملی تو ان کو جو مستحق تھے۔گویا منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔ 

یہاں تک تو وزارت اطلاعات اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پر بات ہوئی ۔وزار ت اطلاعا ت کے دوسرے ادارے پاکستان ٹیلی وژن میں معاملات کی خرابی کا تذکرہ اور اصلاح کی تجویز اگلے کالم میں ۔انشاء اللہ