ملتان سرائے آذربائیجان پاکستان دوستی اور برادری کا قدیم نمونہ

Founder Editor Tazeen Akhtar..

تحریر:الدوست ابراہیموو

اردولیکچرر ،اورینٹل سٹڈیز،باکواسٹیٹ یونیورسٹی آذربائیجان



آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کی تاریخ پانچ صدی سے زیادہ ہے- مغلیہ عہد میں تاجروں نے آذربائیجان میں آ کر تجارتی تعلقات قائم کئے۔ قدیم تعلقات کے نمونے آج تک بعض علاقوں اور محلوں میں پائے جاتے ہیں جو شہر باکو کے مخصوص فن تعمیر کی یادگار ہیں -اس قسم کی عمارتوں میں سے ایک ملتان کاروان سرائے ہے۔



یہ سرائے بڑے تجارتی مقاصد کے لئے استعمال ہونیوالا قدیم سرائے ہے - ملتان، پاکستان کا ایک شہر ہے۔ملتانی تاجرسامان لے کر یہاں ٹھہرتے تھے اور اسی وجہ سے اس کا نام ملتان سرائے ہے۔ ملتان سرائے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو شہر میں چودہویں صدی میں بنا تھا اور اب تک اپنی قدیم شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے ۔ آذربائیجان حکومت کی طرف سے تاریخی یادگار کی طرح اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ملتان کاروان سرائے آذربائیجان میں کئی سو سراؤں میں سے ایک ہے - اپنے کردار کی وجہ سے کاروان سرائے ایک دوسرے سے کوئی بندھن ہونے والے کئی مہمانوں کو ایک ساتھ ٹھہراتا تھا - اسی وجہ سے حفاظی نقطہ نظر سے ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ایک ہی علاقے سے آنیوالے لوگ ایک ہی جگہ ٹھیرنے کی کوشش کرتے، بعض اوقات ان جگہوں میں اپنے سرمائے سے کاروان سرائے بناتے تھے۔اس دوران کاروان سرائے تجارتی مرکز ، سفارت خانہ اور تبادلے کی جگہ بھی ہوتی تھی ۔



باکو میں واقع ملتان کاروان سرائے بھی ایسے ہی قائم کیا گیا تھا تاہم یہ کاروان سرائے آبشیرون آتش گاہوں پر زیارت کے لئے آنیوالے ہندو تاجروں اور زائرین کے لئے پناہ گاہ کا کردار بھی ادا کرتی تھی۔سرائے کا یہ نام پڑنے کی وجہ ملتانی آتش پرست زائرین کی باکو کثرت سے آمد تھی۔اس لئے یہ کاروان سرائے بھی تجارتی مرکز، سفارت خانہ، رابطہ جوڑنے اور مبادلے کا مرکز سمجھتا تھا- ملتان سرائے باکو شہر کے مرکزی حصے میں (ایچیری شہر(یعنی اولڈ سٹی میں (گولا)یعنی منارسڑک پر ، بخارا کاروان سرائے کے سامنے واقع ہے۔ 



ملتان کاروان سرائے روس زار شاہی کے زمانے میں اور بیسویں صدی کے آغاز میں سوویت روس کے آذربائیجان پر قبضہ کے دوران کئی دفعہ تباہ ہو گیا۔اس یادگار سے صرف تجارتی سڑک اور بخارا کاروان سرائے کی طرف نکالنے والی مغربی دیوار ، جنوب مغربی کونے کے کمرے اور دہلیز باقی بچے ہیں - اس یادگار کو پہلی مرتبہ قومی لیڈر حیدر علی یوف کے اقتدار 1973- 1974 میں بحال کیا گیا تھا۔یادگار کی تعمیرات کی بنیاد چٹان کے پتھروں سے اور دیواروں کو بنانے میں شیروان۔آبشیرون کے پتھر استعمال کیے گئے ہیں۔ملتان کاروان سرائے روایتی اصولوں کے تحت بنا یا گیا تھا ۔تجارتی سڑک کی طرف سے35X35 میٹر کی دیوار سادہ ہے اور ایک منزلہ عمارت پر مشتمل رہائشی کمرے جو ایک دوسرے سے جدا ہیں، آٹھ پہلو والے صحن میں کھلتے ہیں۔



یہ عمات دس کمروں پر مشتمل ہے، اسے موسمی لحاظ کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے، جو گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم رہتے ہیں ۔اس میں 6 کمرے بیڈرومز کے طور پر استعمال ہو تے تھے ۔ہر کمرے کے سامنے برآمدہ ہے ۔باہر کی طرف ایک وسیع وعریض خوبصورت باغیچہ ہے۔ اس عمارت کے احاطے میں ایک حوض ہے - صحن کے گرداگرد دالان بنے ہوئے ہیں ہر دالان ایک خاص اونچائی پر واقع ہے، جس پر پہنچنے کے لئے چند سیڑھیوں کوعبور پڑتا ہے- ان دالانوں کے اردگرد پرانی عروسیوں اور بستوں والے کمرے ہیں۔ بیرونی دروازے سے داخل ہونے کے بعد بائیں طرف ایک کمرہ ہے - چند سیڑھیوں کو عبور کرکے اس میں داخل ہونا پڑتا ہے - بیرونی چند سڑھیوں پر چڑھنے کے بعد ایک بہت بڑا گیٹ سیاحوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ گیٹ کے اندر ایک کشادہ صحن ہے جس کے عین وسط میں ایک حوض ہے ۔صحن کے اردگرد دالان بنے ہوئے ہیں -ہر دالان ایک خاص اونچائی پر واقع ہے، جس پر پہنچنے کے لئے چند سیڑھیوں کو عبور پڑتا ہے۔ان دالانوں کے اوپر بھی گرداگرد پرانی عروسیوں اور بستوں والے کمرے ہیں۔ ملتان کاروان سرائے کا تہہ خانہ اس عمارت کی سب سے دلچسپ جگہ ہے ۔



حال ہی میں یہ تہہ خانہ کاروان سرائے کی پہلی منزل کی طرح استعمال کیا جاتارہا - تین بڑے ہالوں پر مشتمل اس منزل کے تین دروازے ہیں -جو دروازہ سمندر کی طرف کھلتا ہے ، تاجر اپنے گھوڑے صرف اس دروازے سے اندر داخل کر سکتے تھے دوسرا دروازہ "گیز گالاسی" یعنی لڑکی کا قلعہ(Maiden Tower)کو کھلتا ہے تیسرا دروازہ جس کا نام "سم سم" ہے، "سم سم" ہال کو کھلتا ہے، غیر معمولی متاثر کرتا ہے کیوں کہ دروازہ "علی بابا چالیس چور کہانی" میں مشہور "سم سم" داروازے کی طرح لگتا ہے دیواروں پر آذربائیجان کے قدیم قالین، سجاوٹی اشیا، قدیم باکو کی تصویریں ہیں -یہ سب کاروان سرائے کو آنے والے غیرملکی سیاحوں کو آذربائیجان کی قدیم تاریخ کے بارے میں معلومات دیتے ہیں- کاروان سرائے میں موجود میز، کرسیاں، صوفے اور آرام دہ کرسیاں ہالوں کو جدید منظر دیتی ہیں ۔

جب 2004 میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے آذربائیجان کا دورہ بھی کیا تھا تب وہ ملتان کاروان سرائے بھی گئے اوروہاں تحفے دیئے- یہ تحفے "سم سم" ہال کے داخلہ میں چھوٹے کوریڈور میں ایک الماری میں رکھے گئے ہیں جس کے اوپر "پاکستان کے ملتان شہر سے باورچی خانہ کے سامان" رکھا گیا ہے۔اس سامان میں دیگچی، چھوٹی کڑھائی، لیمپ، گلدان، چینی مٹی کی پلیٹ اورآئینہ وغیرہ شامل ہیں۔ملتان کاروان سرائے بیسویں صدی کے سترویں سال سے "ریسٹوران کاروان سرائے" کے نام سے کام کرتا ہے اور آذربائیجان جمہوریہ کے صدر کے فرمان کے مطابق آذبائیجان کی وزارت ثقافت اور سیاحت کی طرف سے اہم معماری اور تاریخی یادگار کی طرح محفوظ رکھا گیاہے ۔