ملالہ آگئی۔عافیہ کو لاؤ۔نبیلہ کو ڈھونڈو تزئین اختر

Founder Editor Tazeen Akhtar..

تزئین اختر


5سال پہلے سوات میں طالبان کے ایک مبینہ حملے میں زخمی ہونے والی گل مکئی یعنی ملالہ یوسفزئی یورپ ،امریکہ ،کینیڈا سے نوبل انعام سمیت مختلف ایوارڈز حاصل کرنے کے بعد آج وطن میں واپس آئی ہیں ۔اہل وطن انہیں دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ جس طرح ملالہ یوسفزئی قوم کی بیٹی ہے اسی طرح نبیلہ اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی قوم کی بیٹی سمجھا جائے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کی قید سے نجات دلوا کر وطن واپس لایا جائے اور نبیلہ کو تلاش کیا جائے اور اس کو بے شک کوئی ایوارڈ نہ دیں مگر یہ تو دیکھیں کہ وہ کس حال میں ہے ۔ہے بھی یا کہیں غائب کردی گئی ہے؟۔




 اگر قوم کی ان تینوں بیٹیوں کی تاریخ اور ان کی آپ بیتی پر منصفانہ اور حقیقت پسندانہ نظر ڈالی جائے تو دنیا کی ناانصافی تو کھل کر سامنے آتی ہی ہے ساتھ ہی اپنوں کی بے حسی بھی ہمارا منہ چڑاتی ہے۔یہ بات طے ہے کہ ایک عام پاکستانی بچی اتنی جلدی اتنی کم عمری میں نوبل انعام تو دور کی بات کوئی چھوٹے سے چھوٹا عالمی ایوارڈ بھی حاصل نہیں کرسکتی جبکہ ملالہ اس وقت دنیا خصوصاً مغرب کی آنکھ کا تارہ بنی ہوئی ہے ۔




 نبیلہ رحمن ملالہ سے بھی کم عمر تھی ۔وہ بھی سوات کی طرح دہشتگردی سے متاثرہ شمالی وزیرستان کی رہائشی تھی۔وہ بھی امن اورسکون کے ساتھ پڑھنا چاہتی تھی مگرہوا کیا ؟2013میں جب وہ اپنی فریاد لے کر دنیا اور امریکہ کے سامنے گئی تو کسی نے اس کی طرف توجہ ہی نہ دی ۔ملالہ طالبان کے مبینہ حملے میں زخمی ہوئی ۔نبیلہ امریکہ کے ڈرون حملے سے متاثر ہوئی جب اس کی نظروں کے سامنے اس کی دادی شہید ہوگئی جبکہ اس کی بہنیں شدید زخمی ہوئیں۔ملالہ نے سوات میں بیٹھ کر ایک ڈائری لکھی اور عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ۔نبیلہ امریکہ ڈرون حملے کے بعد خود امریکہ پہنچی ۔وہاں کانگریس سمیت مختلف فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کیا ۔اس کی بنائی ہوئی ایک تصویر بھی سامنے آئی جس میں وہ دکھارہی ہے کہ کس طرح ڈرون طیارے آئے اور اس کا گھر تباہ کردیا ۔اس نے امریکہ میں صرف ایک سوال کیا کہ ہمارا کیا قصور تھا؟مگر نہ تو اس کو پذیرائی ملی اور نہ ہی سوال کا جواب ملا۔ اب یہ بچی کہاں ہے اور کس حال میں ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں۔




 ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکہ میں الزام لگایا گیا کہ ان کو افغانستان میں اس وقت گرفتارکیا گیا جب امریکی فوجی ان کی چیکنگ کے لئے پہنچے جہاں وہ روپوش تھیں تو انہوں نے ایک فوجی کی رائفل چھین کر فائرنگ کردی جس سے امریکی فوجی زخمی ہوگئے۔ایک نازک سی لڑکی اعلیٰ تربیت یافتہ لڑاکا فوجی سے رائفل چھین سکتی ہے؟اسی ایک بات میں ساری بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ایک جھوٹا الزام ہے۔امریکہ کا نظام انصاف ملاحظہ کیجئے کہ اس کمزور الزام پر 86برس قید سنادی ۔حقیقت یہ ہے کہ عافیہ کو جنرل پرویز مشرف کے حکم پر کراچی سے 3بچوں سمیت اٹھوا کرامریکہ کے حوالے کیا گیا اور امریکہ نے ماں بچوں کو بگرام افغانستان منتقل کردیا ۔

یہاں سوال یہ ہے کہ عافیہ امریکہ کو مطلوب کیوں ہوئی؟اس پر ہم برسوں پہلے ایک کالم ’’عافیہ کہانی کے گمنام کردار‘‘ میں دے چکے ہیں کہ اس میں عافیہ کے شوہر کا کردار مشکوک ہے ۔معلوم ہوا کہ عافیہ کا شوہر جوکہ کراچی کی ایک بڑی ادویات ساز کمپنی کا مالک ہے عافیہ کی بجائے اپنی ایک کزن میں دلچسپی رکھتا تھا جس سے اس شک کو تقویت ملتی ہے کہ اس نے عافیہ سے جان چھڑانے کے لئے امریکی ایجنسیوں کو اس کے خلاف غلط معلومات فراہم کیں جس کے بعد امریکی ایجنسیاں عافیہ کے پیچھے لگ گئیں ۔عافیہ امریکہ میں ہی مقیم تھی مگر ایجنسیوں کے تنگ کرنے پر کراچی واپس آگئیں مگر یہاں سے امریکہ کے دوست جنرل پرویز مشرف کے لوگوں نے اس کو اٹھالیا ۔اس کے بعد عافیہ لاپتہ ہوگئی اور اس کا کسی کوکوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں گئی۔

پھر اس قصے میں برطانیہ کی صحافی یووون ریڈلی سامنے آئیں وہ کچھ عرصہ طالبان کی قید میں رہی تھیں اور رہائی کے بعد انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طالبان کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا ہے اور ان کا اسلامی نام مریم ہے۔وہ پاکستان آئیں اور عمران خان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ افغانستان میں امریکی اڈے بگرام کے قید خانے میں انہوں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو انتہائی کمزور ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ عورت ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے جس کا قیدی نمبر 650ہے۔مریم ریڈلی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بگرام میں عافیہ صدیقی کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ عافیہ کا ایک کمسن بیٹا بعدازاں افغانستان سے پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔باقی 2بچیوں میں سے ایک کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ ان تکلیفوں کا شکار ہوکر اللہ کو پیاری ہوگئی جبکہ دوسری کا کچھ پتہ نہیں۔




یہ مختصر کہانی ہے قوم کی 3بیٹیوں کی۔سمجھنے والوں کیلئے اس میں سب کچھ ہے۔نہ سمجھنے والوں کا کوئی علاج نہیں۔اس میں ہماری قوم کی ایک بیٹی کو مغرب نے اعلیٰ مقام دیا ہے تو یہ بھی ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ ہماری دوسری دو بیٹیوں کے ساتھ مغرب کا برتاؤ کیا رہا ہے؟۔یہاں تک تو ایک بات ہے ۔اب آئیے ریمنڈ ڈیوس پر۔عافیہ نے اگر امریکیوں پر حملہ کیا تھا تو بھی کوئی مرا نہیں تھا ۔اس کے ساتھ جو ہوا وہ آپ اوپر پڑھ آئے ہیں ۔ریمنڈ ڈیوس نے سفارتی آڑ لے کر پاکستان میں داخل ہوکر یہاں بلیک واٹر جاسوسی کا جال بچھایا ہوا تھا ۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لاہور میں کھلے عام سڑک پر نشانہ لے کر دو پاکستانیوں کو قتل کردیا جو اس پر حملہ آور بھی نہیں تھے۔اس کے ساتھ کیا ہوا ؟چند روز پروٹوکول کے ساتھ تحویل میں رکھا گیا جو تفتیش نہیں تھی بلکہ حفاظت تھی ۔اس کے بعد ہمارے ذمہ داروں نے اس کی بریت کا راستہ دیت میں نکالا اور اس رقم کا انتظام بھی خود کیا۔یہ ریمنڈ ڈیوس آج کل امریکہ میں موج ماررہا ہے اور اس نے چند مہینے پہلے انہی ذمہ داروں کو اپنی کتاب کے ذریعے اپنا محسن ٹھہرانے کی بجائے ضمیر فروش او ر وطن فروش قرار دیدیا۔اس نے ان کا ذرا بھی لحاظ نہیں کیا۔یہ ساری صورت حا ل ہمارے سامنے ہے۔

ہمارا قومی ضمیر مرچکا ہے ۔

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے۔