معاشرے کو درپیش مسائل کےتجریدی اور تخلیقی حل ڈھونڈنے کے مقابلے

Founder Editor Tazeen Akhtar..

معاشرے کو درپیش مسائل کےتجریدی اور تخلیقی حل ڈھونڈنے کے مقابلے (FICS’17) کے دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ہوئی۔ پرو ریکٹر آرآئی سی رئیر ایڈمرل ڈاکٹر نصر اکرام تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔

FICSسماجی انٹرپرینیورشپ کو بڑھاوا دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔FICSکے تحرک کا آغاز 2013 میں SEECSمیں ہُوا۔ وہ وقت اور آج کا دن‘یہ کامیابیوں کا طویل سفر طے کرچُکا ہے۔ یہ انٹرا نسٹ پروگرام ہے نسٹ کے 6کیمپس اور 18ملحقہ ادارے اس میں شامل ہیں۔

FICSتین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے ایک پروگرام ’’دیرپا ترقیاتی منازل‘‘(SDGs) سے مربوط ہے۔ کارروائی کے لئے پیش کردہ ہر آئیڈیا کو SDGs کے حلقۂ اختیار کے مطابق مختلف کیٹگریز میں تقسیم  کیا جاتا ہے۔ اس سال نسٹ کے 13 سکولوں اور کالجوں نے 205 آئیڈیاز پیش کئے۔ دورانِ کار مقابلے میں شریک ذہانت و فطانت سے لبالب نسٹیئنز کی 138 ٹیموں نے‘جنہوں نے پہلی منزل کامیابی سےمکمل کی‘ اپنے آئیڈیاز ممتاز صنعت کاروں پر مشتمل ججوں کے ایک پینل کو پیش کئے۔

نسٹ چیف سٹریٹجی آفیسر(CTO)و سیکریٹری جنرل نسٹ کارپوریٹ ایڈوائزری کونسل(CAC) جناب عامر ہاشمی نے صنعتی دنیا سے متعلق مہمانوں اور جج صاحبان کا خیر مقدم کیااور مقابلے میں حصہ لینے والے ہونہاروں کو ایک منزل کامیابی سے عبور کر کے دوسری منزل کے مقابلے میں شامل کئے جانے پر مبارک باد پیش کی۔ بقول اُن کے یہ تصوّرات کو عملی صورت میں ڈھالنے کی جانب ایک فیصلہ کُن قدم ہے۔ انہوں نے 5ماہ کی جاں گُسل محنت ‘فیکلٹی سپروائزرز کی رہنمائی اور دنیائے صنعت کی بھر پور امداد و تعاون کے بل پر مقابلے میں شمولیت کا اعزاز پانے والے ہونہار طلبہ کو بھر پور مبارک باد دی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی پروریکٹر ریسرچ‘انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن(RIC) رئیر ایڈمرل ڈاکٹر نصر اکرام نے پاکستان کو درپیش انتہائی سنگین اور مختلف النوع مسائل کے حل کے لئے اپنے حصے کی تکنیکی عمل کاری میں خون پسینہ ایک کر دینے پر 2017مقابلے کے شرکا کو شاباش دی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شعبے میں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے مشترکہ مساعی بے حد کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔FICSکی بدولت ایک ایسا قابلِ عمل پروگرام سامنے آیا ہے جس میں طلبہ کے تکنیکی تصوّرات اور منصوبوں کی تکمیل ان کی کمرشلائزیشن پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ علمی و تحقیقی دنیا‘ایوانِ صنعت‘حکومت اور سول سائٹی کو مل جل کر اس جانب آگے بڑھنا ہے۔طلبہ معاشرے کے مختلف طبقوں کو بے حال کر دینے والے مسائل کے حل کو اپنی توجہ اور مساعی کا مرکز و محور بنائیں۔

ڈائریکٹر CACمس رابعہ نے قیمتی وقت عطاکرنے پر دنیائے صنعت کے مہمانانِ گرامی اور مقابلے کے جج صاحبان کو تبریکاتِ فراواں پیش کیں۔ FICSکواس مقام پر لے آنے کے لئے صنعتی دنیا اور حکومت کے اشتراک و تعاون کے لئے ممنونیت کا اظہار کیا۔ نسٹ المنائی کے گرانقدر تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔ نسٹ کے سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کرام اور سٹاف کو پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر اسٹوڈنٹ آرگنائزنگ کمیٹی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ریکٹر نسٹ لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان‘ہلالِ امتیاز‘(ملٹری)‘(ریٹائرڈ) نے سٹالوں کا معائنہ کیا۔ طلبہ نے اپنے پروگرام سے متعلق ریکٹر کو تفصیلات بتائیں۔ریکٹر نسٹ نے اپنا اپنا کام بہترین طریقے سے سرانجام دینے پر طلبہ‘فیکلٹی‘سپروائزر اور انصرامی شعبوں کی تحسین کی اورمعاشرے کے زیریں طبقہ کی مشکلات دُور کرنے کے لئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں کی تکنیکی معاونت کی اہمیت بھی اُجاگر کی۔  april 20 ,2017