مضبوط ،متحد پاکستان آزادی کشمیر کی ضمانت ہے،صدر آزاد کشمیر

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نمائند ہ خصوصی)صدر آزاد کشمیرسردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مضبوط اور متحد پاکستان آزادی کشمیر کی ضمانت ہے۔پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر ایک ہیں۔ان میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے۔علاوہ ازیں ہم نے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں جاکر بھی دیکھا ہے کہ پاکستان کے تمام وفاقی یونٹ کشمیریوں اور ان کی تحریک کے ساتھ ہیں ۔مسئلہ کشمیر کشمیر کمیٹی کمیٹی تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔الیکڑانک میڈیا مسئلہ کشمیر پر توجہ دے رہا ہے مگر ابھی مزید توجہ کی ضرورت ہے ۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قتل وغارت تیز کردی ہے یہاں تک کہ نو عمر لڑکوں کو بھی قتل کیا جارہا ہے جبکہ وہاں سے خبر باہر آنے سے روکنے کے لئے تما م ذرائع ابلاغ بشمول انٹرنیٹ پر پابندی لگادی ہے ۔ان حالات میں ہمارے میڈیا اور صحافیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نا صرف بھارتی مظالم بے نقاب کریں بلکہ انڈیا کے پروپیگنڈے کا جواب بھی دیں اور عالمی برداری کی توجہ بھی دلائیں ۔

صدر آزاد کشمیر گزشتہ روز کشمیر ہاؤس میں سینیئر صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے جن کو افطار کے موقع پر مدعو کیا گیا تھا۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ گزشتہ دنوں انہوں نے بلوچستان کا دورہ کیا اور کوئٹہ میں چیمبر آف کامرس کے ارکان سے ملاقات کی ۔تمام ارکان اور ان کے عہدیدار وں نے مسئلہ کشمیر پر اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔اسی طرح کے جذبات باقی صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دیکھنے کو ملے جوکہ انتہائی حوصلہ افزا بات ہے ۔سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والوں کو پاکستان کے پرچم میں دفن کیا جاتا ہے اور ان کے جنازوں کے اجتماع میں پاکستانی پرچم لہراتے ہیں ۔ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ان کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں جس کے لئے صحافی بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں ۔انہوں نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ پاکستان 70سال سے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کا ساتھ دے رہا ہے او ر آئندہ بھی دیتا رہے گا۔

سوال جواب کے دوران ایڈیٹر اذکار تزئین اختر نے سوال کیا کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کے اندر بھارتی مظالم کی مذمت کے لئے قرار داد لائی گئی تو پی ٹی آئی اجلاس میں شریک نہیں ہوئی ۔کشمیر کمیٹی کے بارے میں بھی شکوے ہوتے رہتے ہیں کہ وہ کشمیر پر ایکٹو نہیں ہے ۔الیکٹرانک میڈیا کا ایجنڈا بھی مختلف نظر آتا ہے ۔مقبوضہ کشمیر پر پروگرا م نہ ہونے کے برابر ہیں ۔کیا ان لوگوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا کہ وہ اس طرف توجہ دیں ۔اس پر صدر آزادکشمیر نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ اجلاس سے چند روز قبل منعقد آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوئی اور کشمیر پر اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ۔کشمیر کمیٹی کے سرگرم نہ ہونے پر میں پہلے بھی سوالوں کے جواب دے چکا ہوں ۔مسئلہ کشمیر کشمیر کمیٹی تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔الیکٹرانک میڈیا میں پی ٹی وی توجہ دے رہا ہے ۔گزشتہ دنوں میں نے کے ٹو ٹی وی کا دورہ کیا ان کے چار چینلوں پر کشمیر پر خصوصی پروگرام چلتے ہیں ۔باقی میڈیا بھی وقت دے رہا ہے مگر میں اس بات سے متفق ہوں کہ انہیں مزید وقت دینا چاہیے۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان کو مسئلہ کشمیر عالمی عدالت انصاف میں لے جانا چاہیے۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہم اپنا مقدمہ دنیا کے اعلیٰ ترین فورم سلامتی کونسل میں پیش کرچکے ہیں جہاں اس پر ایک فیصلہ ہوچکا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر رائے شماری کروائی جائے اس لئے ہمیں عالمی عدالت انصاف میں نہیں جانا چاہیے۔یہ ہمارے لئے نقصان دہ ہوسکتاہے۔سردار مسعود خان نے بتایا کہ وہ اگلے ماہ یورپ کے دورے پر جارہے ہیں جہاں بھار ت کے جاری مظالم پر عالمی ضمیر بیدار کرنے کی کوشش کریں گے ۔اس کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ کا ایک وفد الگ سے دورہ کر ے گا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہوں گے ۔

انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا شکریہ ادا کیا کہ وہ بین الپارلیمانی یونین میں بھی مسئلہ کشمیر اٹھارہے ہیں جس کی بدولت مختلف ممالک کی پارلیمنٹوں میں یہ مسئلہ اجاگر ہورہا ہے۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی بھی اپنی استعداد اور اثرورسوخ مسئلہ کشمیر کے لئے استعمال کررہے ہیں جس کے لئے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ہمیں میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر بھارت کو موثر جواب دینا ہے ۔ذرائع ابلاغ کا موثر استعمال کرنا ہے۔اس سوال پر کہ کشمیر پر گزشتہ برسوں میں مختلف حکومتوں نے مختلف آپشنز دیے کیا اس سے یہ سمجھا جائے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر سے دستبردار ہونا چاہ رہا ہے ۔اس پر صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے پاکستان 70سال میں دستبردار نہیں ہوا تو آئندہ بھی نہیں ہوگا ۔پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیری پاکستان کے ساتھ ہیں ۔پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔