مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے حد بندیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے: فافن

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویزکی گئے انتخابی حلقوں میں آبادی کے لحاظ سے مساوات کے قانونی تقاضوں سے انحراف کی نشاندہی کرتے ہوئے ان حلقوں کو قومی شرح اوسط کے قریب لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فافن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حلقہ بندیوں کے اس عمل کے دوران انتخابی حلقوں کی جغرافیائی وحدت اور موجودہ انتظامی اکائیوں کی حدود کے احترام کے اصولوں کو تو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے تا ہم قومی اسمبلی کے 81 حلقوں میں ووٹ کی برابری کے اصول کو نظر اندازکیا گیا ہے۔ ان حلقوں کی آبادی میں فی حلقہ آبادی کی قومی اوسط سے دس فیصد سے زائد کافرق پایا جاتا ہے۔ 

اگرچہ حلقہ بندیوں کے دوران الیکشن کمیشن نے الیکشن رولز 2017 کی پابندی کو یقینی بنایا گیا ہے لیکن اس دوران ووٹ کی برابری کا قانونی اصول متاثر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ بادی النظر میں الیکشنز رولز 2017 میں حلقہ بندیوں سے متعلقہ قواعد ووٹ کی برابری کے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ الیکشنز ایکٹ 2017 میں کسی بھی دو حلقوں کے درمیان مساوات کو یقینی بنانے کا اصول طے کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف الیکشنز رولز 2017 میں صوبوں اور اضلاع کے درمیان مساوات رکھنے پر زور ہے۔

فافن کی جانب سے جاری کی گئی حلقہ بندیوں کی تجاویز کے تفصیلی تکنیکی جائزے پر مبنی رپورٹ جاری گئی جس میں قومی اسمبلی کے حلقوں کے حجم میں آبادی اور رائے دہندگان میں پائے جانے والے فرق کا قومی‘ صوبائی اور ضلعی اوسط کے لحاظ سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق دو حلقوں کے مابین آبادی کے لحاظ سے دس فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہونا چاہیے مگر قومی اسمبلی کے 260حلقے حلقہ بندی کے عمل سے گزرے اور ان میں سے 81حلقے ایسے ہیں جہاں اس قانونی اصول کا احترام نہیں کیا گیا۔ اگرچہ قانون میں استثنائی صورتوں میں اس اصول سے انحراف کی اجازت دی گئی ہے اور الیکشن کمیشن کو پابند بنایا گیا ہے کہ انحراف کی صورت میں وجوہات کو تحریری طور پر قلمبند کرے۔تاہم قریباً ایک تہائی حلقوں میں مساوات کے اس اصول سے انحراف کا مطلب ہے کہ حلقہ بندیوں کی تجاویز میں استثنا کو بلادریغ استعمال کیا گیا ہے جو کہ انتخابی حلقوں میں مساوات کے قانون کی روح کے منافی ہے۔

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں فی حلقہ آبادی کی اوسط 779،785 نفوس ہے۔ قانونی اعتبار سے تمام حلقوں کی آبادی میں اس اوسط سے کم و بیش دس فیصدفرق روا رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم قومی اسمبلی کے 81 حلقوں کی آبادی کا قومی اوسط سے فرق دس فیصد سے زیادہ ہے۔ قومی اسمبلی کے 59 حلقوں کی آبادی قومی اوسط سے دس سے بیس فیصد تک زائد یا کم ہے جبکہ گیارہ حلقوں میں یہ فرق بیس سے تیس فیصد تک چلاجاتا ہے۔ اسی طرح چھ حلقوں کی آبادی قومی اوسط سے تیس سے چالیس فیصد زائد یا کم ہے اور پانچ حلقوں میں یہ فرق چالیس سے پچاس فیصد تک چلا گیا ہے۔ اسلا م آباد کے تین حلقوں کی اوسط آبادی قومی شرح سے 14 فیصد کم ہے۔ بلوچستان کے قومی اسمبلی کے حلقوں میں آبادی کی شرح قومی اوسط سے کم جبکہ باقی تینوں صوبوں میں زیادہ ہے۔ 

صوبوں کے اندر یہ فرق زیادہ گھمبیر صورتحال اختیار کرلیتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں چار لاکھ سے کم آبادی والے ضلع ٹانک کے ووٹر بھی قومی اسمبلی کے لیے ایک نمائندہ منتخب کریں گے جبکہ پونے بارہ لاکھ کے قریب آبادی والے ضلع بنوں کے ووٹر بھی ایک ہی نمائندہ منتخب کریں گے۔ پنجاب میں جہلم کے حلقہ این اے 67 کی ساڑھے پانچ لاکھ آبادی کو بھی قومی اسمبلی میں ایک نشست کا حقدار سمجھا گیا ہے جبکہ ضلع حافظ آباد کے این اے 87 میں ساڑھے گیارہ لاکھ سے زائد افراد کی نمائندگی کے لیے بھی ایک ہی نشست رکھی گئی ہے۔ سندھ میں شکار پور کے این اے 199 کی آبادی چھ لاکھ ہے جبکہ اس کے قریب ہی کشمور کے این اے 197 کی آبادی تقریباً گیارہ لاکھ ہے۔ بلوچستان میں کچھی اور جھل مگسی اضلاع کی مشترکہ نشست این اے 262 میں چار لاکھ سے بھی کم افراد بستے ہیں جبکہ اسی صوبے میں مستونگ، چاغی، قلات، شہید سکندرآباداور نوشکی اضلاع کے مشترکہ حلقے این اے 268 کی آبادی گیارہ لاکھ کے قریب ہے۔ آبادی کے لحاظ سے چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں سب سے چھوٹا حلقہ بلوچستان کا این اے 262 ہے جبکہ سب سے بڑا حلقہ خیبرپختونخوا کا این اے 65 بنوں ہے۔ 

اگر الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں کی تجاویز الیکشن کمیشن ہی کے جاری کردہ رائے دہندگان کے اعداد و شمار کے تناظر میں دیکھیں تو حلقوں کے درمیان یہ عدم مساوات مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔اکتوبر 2017 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ رائے دہندگان کے ضلعی اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو قومی اسمبلی میں ایک لاکھ تیس ہزار ووٹروں سے لے کر چھ لاکھ سے زائد ووٹروں والے حلقے بنائے گئے ہیں۔ ملک بھر میں قومی اسمبلی کے کم از کم دو حلقے اس طرح کے ہیں جن میں ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی کم ہوگی جبکہ تیرہ حلقوں میں ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ سے اڑھائی لاکھ کے درمیان، 78 حلقوں میں اڑھائی سے ساڑھے تین لاکھ کے درمیان، 138 حلقوں میں ساڑھے تین سے ساڑھے چار لاکھ کے درمیان، 15 حلقوں میں ساڑھے 4 سے ساڑحے پانچ لاکھ کے درمیان، جبکہ 4 حلقوں میں ساڑھے پانچ لاکھ سے بھی زائد ہو گی۔

اوسطًاقومی اسمبلی کے ہر حلقے میں تین لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد رائے دھندگان ہوں گے تاہم حلقوں کے درمیان رائے دھند گان کی تقسیم غیر متوازن اور غیر مساوی ہے مثلاً این اے 262 میں صرف ایک لاکھ اڑتیس ہزار کے قریب ووٹرز ایک ایم این اے کا انتخاب کریں گے جبکہ این اے 19ہری پور میں چھ لاکھ سترہ ہزار سے زائد ووٹرز ایک ایم این اے کا انتخاب کریں گے۔ قومی اسمبلی کے 73 حلقے اس طرح کے ہو سکتے ہیں جہاں ووٹرز کی تعداد قومی اوسط سے کم جبکہ 85 حلقے اس طرح کے ہوں گے جہاں یہ تعداد قومی اوسط سے زائد ہو گی۔ فافن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک قومی حلقے کیلئے آبادی کے کوٹے کے اس انحراف کو سنجیدہ لے اور ملک کے تمام علاقوں میں رہنے والے عوام کے بنیادی حقِ مساوی نمائندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے فی حلقہ آبادی کے کوٹے سیدس فیصد تک کے فرق پر عمل در آمد کو یقینی بنائے۔