مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے بھارتی حکومت کے پاس کم وقت رہ گیا و گرنہ کشمیر میں ایک بار پھر مسلح جدوجہد کا آغاز ہو سکتا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق۔وزیراعظم آزاد کشمیر کے مشیر مرتضیٰ درانی سے خصوصی گفتگو

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد ۔۔چیئرمین حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے بھارتی حکومت کے پاس کم وقت رہ گیا و گرنہ کشمیر میں ایک بار پھر مسلح جدوجہد کا آغاز ہو سکتا ہے اور اسکی تمام تر ذمہ داری بھارتی سرکار پر عائد ہوگی وولر بیرواج پر مالکانہ حقوق کشمیری عوام کے ہیں اور اب تک پانی پر ہونیوالے بھارت کے تمام معاہدے منسوخ ہونے چاہیءں بھارت کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کشمیریوں کے ملکیتی پانی پر ڈیم بنائے

گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر روانگی سے قبل اسلام آباد ائیر پورٹ پر وزیراعظم آزاد کشمیر کے مشیر برائے اطلاعات و سیاسی امور مرتضیٰ درانی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بھارت کیساتھ مذاکرات کشمیری عوام کی شمولیت کے بغیر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتے آر پار کی کشمیری قیادت کو آپس میں ملنے کا موقع دیا جائے جس سے مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پیشرفت ہو سکتی ہے میر واعظ عمر فاروق نے آزاد کشمیر کے عوام اور حکومت کی جانب سے حریت کانفرنس کے وفد کا والہانہ استقبال کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کشمیر میں ہونیوالے تعمیر و ترقی دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کے دور حکومت میں میڈیکل کالجوں سمیت میگا پراجیکٹس شروع کرنے سے آزاد کشمیر کے اس پار بھی مثبت پیغام گیا ہے اور کشمیری عوام کو حوصلہ ملا ہے کہ آزاد خطہ میں بھی جدید دور کے مطابق عوام کو سہولیات میسر آ رہی ہیں

میرواعظ نے مظفر آباد میڈیکل کالج کو ان کے والد میر واعظ مولوی فاروق شہید کے نام سے منسوب کرنے پر وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے میر واعظ عمر فاروق نے آزاد کشمیر اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا حق خودارادیت کی تحریک کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بڑا سیاسی کردار دیا جائے دونوں ممالک کے آئین سے بالاتر ہوکر کشمیریوں کیساتھ سہ فریقی مذاکرات سے مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر باراک اوبامہ کے آئندہ چار سالہ دور میں مسئلہ کشمیر پر کوئی اہم پیشرفت ہو سکتی ہے ۔

میر واعظ نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ پاکستان کے بغیر حل نہیں ہو سکتا اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اپنی سفارتی پالیسی کو بہتر بنا کر مسئلہ کشمیر کو افغانستان کے مسئلہ کے حل سے مشروط کرے انہوں نے کہا کہ پاک بھارت اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکالا جاسکتا سہ فریقی مذاکرات میں حریت کانفرنس کی قیادت میں کشمیری عوام کی نمائندگی کریگی انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس میں غیر مسلموں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جموں اور لداخ کے غیر مسلموں کی قیادت سے بات چیت جاری ہے اور کشمیر میں موجود اقلیتوں کے اندر بھی یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ ہمارا مستقبل کشمیری مسلمانوں کیساتھ وابستہ ہے

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں ہندؤوں کے مقدس مقامات کیلئے سفری سہولیات فراہم کی جائیں خصوصی طور پر شاردہ میں ہندؤوں کے مندر کی یاترا کیلئے سرینگر شاردہ بس سروس شروع کی جانی چاہیئے انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس پرامن مذاکرات پر یقین رکھتی ہے لیکن بھارتی سرکار نے کشمیریوں کی گزشتہ چند سالوں سے جاری امن پالیسی سے فائدہ نہیں اٹھایا ہندوستان مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی بات کرتا ہے لیکن دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج سے ایک فوجی کی بھی کمی نہیں کی گئی کشمیر میں ٹورسٹ ہٹ دراصل فوجی بنکرز ہیں جب تک کشمیر میں نظر بندیوں اور کالے قوانین کاخاتمہ نہیں کیاجاتا تب تک کشمیر میں امن قائم نہیں ہوسکتا،حریت کانفرنس نہیں چاہتی کہ1990ء کی طرح مسلح تحریک دوبارہ شروع ہو اس لیے ہندوستان کو اپنی پالیسی اور سوچ تبدیل کرنا ہوگی،بھارتی افواج کے نہتے کشمیریوں پر مظالم کی ایشیاء واچ اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ واضح طور پر شائع ہوچکی ہے

انہوں نے کشمیری اور پاکستانی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خودارادیت کاحق ملنے تک تحریک آزادی جاری رہے گی کچھ قوموں کو آزادی جلدی اور کچھ کو دیر سے ملتی ہے ہمیں کسی قسم کی مایوسی نہیں ہے بلکہ خوشی ہے کہ پاکستان کی پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت ہمارے ساتھ ہے ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کے اندرونی مسائل جلدازجلد حل ہوں کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان کشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت کیلئے پہلے سے زیادہ موثر کرداراداکرسکے۔

26 DEC 2012