مردم شماری میں اقلیتوں کو نا انصافی کا سامنا ۔ اعدادوشمار کو شامل ہی نہیں کیا گیا ۔ اسفندیار بھنڈرا

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلا م آباد ۔رکن قومی اسمبلی اسفندیار بھنڈرا نے کہا ہے کہ جب پاکستان آزاد ہوا تو یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جائیں ، مساجد میں جائیں یا اپنی کسی عبادت گاہ میںآپ کا تعلق خواہ کسی مذہب ، ذات پات یا عقیدے سے ہو کاروبار مملکت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتوں کو برابر حقوق حاصل ہیں لیکن پچھلی کچھ دہائیوں سے پاکستان میں اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے ۔



1998 کی مردم شماری کے بعد حالیہ مردم شماری میں اقلیتوں کو نا انصافی کا سامنا کرنا پڑا جس کے لئے پاکستان مسلم لیگ )نواز( کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی اسفندیار بھنڈرا نے آواز اٹھائی انہوں نے کہا کہ حالیہ مردم شماری کے اعدادوشمار میں اقلیتی برادریوں کے اعدادوشمار کو شامل ہی نہیں کیا گیا بلکہ مردم شماری کرنے والے افسران بہت سی اقلیتی برادریوں سے واقف ہی نہ تھے اور نہ ہی اس امر میں انہیں کوئی تربیت دی گئی تھی لہذا انہوں نے ارباب اختیار سے یہ اپیل کی ہے کہ وطن عزیز کے طول و عرض میں بسنے والی اقلیتوں کے اعدادوشمار کا فوری اعلان کیا جائے۔

انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد پوری پاکستانی قوم کو حالیہ مردم شماری میں اقلیتوں کے اعدادوشمار سے آگاہ کریں تاکہ اقلیتوں میں اس حوالے سے پائی جانے والی مایوسی دور ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں جیسے ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی، بدھ مذہب اور دیگر اقلیتیں شامل ہیں ان کی تعداد کا الگ الگ اعلان کیا جائے تاکہ قومی سطع پر بھی اس حوالے سے پالیسی مرتب کرنے میں مدد مل سکے۔