لیبیا میں غلاموں کی تجارت بارے سی این این کی رپورٹ بے بنیاد ہے،سفیر

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) لیبیا کے سفیرنضاراے نابیہ نے سی این این کی یہ رپورٹ غلط قرار دی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ میڈیا نے غلاموں کی تجارت ہورہی ہے اور تارکین وطن کو خریدااوربیچا جارہاہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ دراصل انسانی سمگلروں کے گروہ تارکین وطن کی منزل تک منتقلی کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ سودے بازی کررہے ہیں جس کو سی این این نے غلط طورپر غلاموں کی تجارت بنادیاہے۔

اگلے روز پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ لیبیا میں جنوبی افریقی ممالک سے تارکین وطن یورپ جانے کیلئے لائے جاتے ہیں اور یورپ یہ چاہتاہے کہ ہم ان کو لیبیا ہی میں روک کر رکھ لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیبیا کی مالی حالت ایسی نہیں ہے کہ سالانہ 6 سے 7 لاکھ تارکین وطن کو سنبھالے۔ اس وقت بھی15 لاکھ مہاجرین ہمارے ملک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے یورپی یونین اور افریقہ یونین سے مفاہمت ہوچکی ہے کہ وہ بھی ان کی ذمہ داری اٹھائیں اوراس غیرقانونی عمل کو روکوانے کے اقدامات کریں۔

سفیر نے کہاکہ ہم اپنی کمزور مالی حالت کے باوجود ان کے لئے شلٹر بنانے کیلئے تیار ہیں مگر اس مسئلے کے دواورفریق ہیں ان کوچاہیے کہ وہ بھی اپنے حصے کام کریں۔ ان دو فریقوں میں وہ ملک جہاں سے یہ آتے ہیں اور وہ ملک جہاں یہ جانا چاہتے ہیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لیبیا خود انٹرنشیل گینگز کاشکار ہے جو ہماری سیاسی صورتحال اورعدم استحکام کافائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر ہم بہت جلد دوست ملکوں کی مددسے اس مسئلے پرقابوپالیں گے۔ سفیرنے کہاکہ تارکین وطن کی بڑی تعدادسمندبردہوجاتی ہے لیبیا کے ساحلوں پرروزانہ دس بارہ لاشیں ملتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سی این این کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ ایک غلام کی قیمت نوسودیار ہے جوکہ لاعملی کا ثبوت ہے کیونکہ اتنی رقم میں لیبیا میں ایک موبائل بھی نہیں خریداجاسکتا۔ علاوہ ازیں ہمارا اسلامی معاشرہ غلام کی تجارت کی اجازت نہیں دیتا لیبیاانسانی حقوق کے کنونشن اور انسانی ٹریفکنگ کے یواین چارٹر کاپابند ہے۔

ا نہوں نے کہا کہ ہم نے رپورٹ میں عائد الزاما ت کی تحقیقات کیلئے کمیشن کافیصلہ کرلیا ہے۔ جوگینگز ایسے افعال کے مرتکب ہونگے انکوسزائیں دی جائیں گی۔سفیر نے کہاکہ لیبیار2006سے مسلسل متبادلہ کررہا ہے کہ تارکین وطن پرکنٹرول کیاجائے ہمارے ہاں زیادہ مہاجر وسطی افریقی مشرقی افریقہ سے آتے ہیں۔ ان میں پاکستانی شامل نہیں۔ 15تا20ہزار پاکستانی باقاعدہ رہائش پذیر ہیں اور کام کررہے ہیں۔انسانی سمگلروں کے گینگز کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ زیادہ گروہوں کاتعلق مالٹا، اٹلی اور تیونس سے ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ گروہ لیبیا سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔سفیر نے کہاکہ یورپی یونین نے 20ہزار مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لئے مدد دینے کاوعدہ کیاہے مگر جہاں 15لاکھ ہوں وہاں20ہزار کی کیاحیثیت ہے اور اس سے مسئلے کے حل میں کتنی مدد مل سکتی ہے 

18 Dec 2017