قومی احتساب بیورو کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے عملی کاوشیں

Founder Editor Tazeen Akhtar..

تحر یر: ناصر عباس
پاکستان کو اس وقت جس بڑے چیلیج کا سامنا ہے وہ ہے بدعنوانی۔بدعنوانی ایک ناسور ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ بدعنوانی نہ صرف تمام برائیوں کی جڑہے بلکہ بدعنوانی ملک کی خوشحالی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ۔پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے صوبائی سظح پر انٹی کرپشن کے ادارے قائم ہیں مگربدعنوانی کے خاتمے کیلئے اتنی کامیابی حاصل نہ کر سکے جتنی ان سے توقع تھی ۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروایا جائے تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔

پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے جس کی ترقی کیلئے بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کا عزم ہے۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری ایک انتہائی ایماندار ار، فرض شناس ، قانون اور میرٹ پر اپنے فرائض سرانجام دینے والے پیشہ ور اور تجربہ کار بے داغ ماضی رکھنے والے اعلی افسر ہیں۔ انہوں نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد نیب میں بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائیں۔ پہلی نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائیَ جس کو بدعنوانی کے خلاف دنیا میں موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے۔قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے پھیلایا جس کی وجہ سے آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے۔ قومی احتساب بیورو ایک متحرک اور قابل اعتماد ادارہ بن گیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ 

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین کی تجویز پر پاکستان میں سارک انٹی کرپشن سیمینار منعقد ہوا جس میں بھارت سمیت سارک ممالک نے پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو سراہا اور قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن فورم کے قیام پر متفق ہو گئے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ مزید برآں پاکستان اور چین کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ سے متعلق امور میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت چین اور پاکستان سی پیک کے تحت منصوبوں کی شفافیت کے لئے مل کر کام کریں گے۔ قومی احتساب بیورو ملک کا سب سے بڑا بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والا ایک قومی ادارہ ہے جس کا مقصد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوان عناصر س عوام کی کرپشن کے زریعے لوٹی ہوئی رقم کو نہ صر ف واپس دلانا ہے بلکہ اس میں نیب کے افسران کوئی حصہ وصول نہیں کرتے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری نے اپنے موجودہ دور میں قوم کے لوٹے ہوئے تقریباََ 45 ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کروائے جس سے بہت سے متاثرین اور اداروں کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس ملی۔

قومی احتساب بیورونے پورے ملک میں عوام کو کرپشن کے مضر اثرات سے آگاہی کے لئے بھر پو مہم چلائی جس کے بڑے دور رس نتائجؓ برآمد ہورہے ہیں ۔ قومی احتساب بیورو نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات پر پہلے دن سے ہی unique identification number لگا یا جا رہا ہے ۔اب انکوائریوں، انوسٹی گیشن، احتساب عدالتوں میں ریفرنس، ایگزیکٹو بورڈ، ریجنل بورڈز کی تفصیل ، وقت اور تاریخ کے حساب سے ریکارڈ رکھنے کے علاوہ موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے ۔ نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ۔ اسکے علاوہ نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا ۔ ان کے کام کو مزید موئژ بنا نے کے لئے سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا گیا ۔ اس نظام کے تحت سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا گیا ہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔ 

قومی احتساب بیورو نے نیب میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی عمل میں لائی۔ اب نئے آپریشن ڈویژن کے تحت نئے تحقیقاتی افسروں اور پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی سے دونوں ڈویژن مزید متحرک ہو گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے تحقیقاتی افسروں اور نئے لا افسروں کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دئیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی گئی یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر 1999 سے اب تک Conviction Rate تقریباََ76 فیصد ہے۔

نوجوان کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے ایک (MoU) پر دستخط کئے۔قومی احتساب بیورو کی اس مہم کا مقصد ایک طرف نوجوان نسل کو بدعنوانی کے مضمر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔دوسری طرف نوجوانوں کی توجہ اس بات کی طرف بھی باور کروانا تھی کہ آپ ملک کا مستقبل ہیں اگر آپ کو بدعنوانی کے بارے میں آگاہی حا صل ہو گی تو مستقبل میں بدعنوانی پر قا بو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اس وقت تک تقریباً 45 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جبکہ نیب 2017 کے اختتام پر 50 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لانے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ اس کے مثبت اور حو صلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا ہے ۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے ایک تو وقت کی بچت ہوتی ہے دوسری کوالٹی اور سکریسی برقرار رہتی ہے۔ زرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو نے حدیبیہ پیپر مل کے کیس میں لاہو ر ہائی کورٹ کے دو معزز جج صاحبان نے متفقہ طور پر مقدمہ خارج کردیا اور دوبارہ تفتیش کیلئے کیس ریفری جج کو بجھوا دیا ۔معزز ریفری جج نے کہا کہ ریفرنس کا اخراج درست ہونے کے علاوہ دوبارہ تفتیش ممکن نہیں۔ نیب کے ایڈیشنل پراسیکوٹر جنرل اکائنٹبیلٹی نے بھی دوبارہ تفتیش نہ کرنے کی رائے دی جبکہ نیب کے اس وقت کے پراسیکوٹر جنرل اکائنٹبیلٹی کے۔کے۔ آغا نے کہا کہ کیس تقریباََ پندرہ سال پرانا ہے بڑے شریف صاحب انتقال کر گئے ہیں تاہم دوبارہ انوسٹی گیشن سے نہ صرف انتقام کا نشانہ بنانے کا تصور ابھرے گا جس سے نہ صر ف نیب بدنام ہو گا بلکہ اس کی ساخت کو بھی نقصان پہنچے گا۔ زرائع کے مطابق چئیرمین نیب نے پراسیکوشن ڈویژن کی رائے پر اس کیس میں دوبارہ انوسٹی گیشن نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے پوری قوم کو یک زبان ہو کر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی جس سے ملک خوشحال ہو گا اور بیروزگاری اور نا انصافی کا خاتمہ ہو گا ۔جہا ں تک نیب کا تعلق ہے قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئر مین قمرزمان چوہدری نے اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد جو عملی کاوشیں کی ہیں ان کے مثبت اور حو صلہ افزاء نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پلڈاٹ، ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل اور ورلڈ اکنامک فورم جیسے آذادانہ اداروں نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی میں کمی واقعہ ہوئی ہے جو کہ نہ صر ف پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے بلکہ قومی احتساب بیورو کی بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے عملی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔