سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کی کشمیر بریفنگ،مسئلہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

Founder Editor Tazeen Akhtar..

-------------اطہر مسعود وانی-----------------
سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے چند دن قبل کشمیری رہنماؤں،نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کشمیر ایشو ہر فورم پر دوٹوک اور دلیرانہ موقف اپنایا،او آئی سی میں رابطہ گروپ کو فعال بنایا،اقوام متحدہ کی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر جس موثر طریقے سے کشمیر ایشو کو اجاگر کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر ایشو کے حوالے سے اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہو سکتا، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا،کشمیر کاز پر کوئی حکومت اپنی وابستگی کو کم نہیں کر سکتی ،اقوام متحدہ کی قراردادیں اپنی نوعیت کی واحد قرار دادیں ہیں جنہیں پاکستان ،بھارت سمیت پوری دنیا نے تسلیم کیا ،ان قرار دادوں پر عملدرآمد کے لئے دنیا کمیٹڈ ہے،دنیا کو اس بات کی آگاہی ہو چکی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے،عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آگاہی خوش آئند ہے۔

وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر جنرل مسز رفعت مسعود نے سیکرٹری خارجہ کی معاونت کی۔بریفنگ میں صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب،وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید،سینئر وزیر چودھری محمد یاسین،فرزانہ یعقوب،آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار محمد انور خان،جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا سعید یوسف،سیکرٹری اطلاعات صغیر چغتائی،قائم مقام امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود ،جمعیت علماء اسلام کے مولانا امتیاز صدیقی،ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی طاہر کھوکھر،مسلم لیگ ق کے رکن اسمبلی چودھری اکبر ابراہیم،امان اللہ خان ،عبدالمجید ملک،میر واعظ مولوی محمد احمد، مسز مشعال یاسین ملک ،چیف سیکرٹری علیم الدین بلو،سیکرٹری کشمیر لبریشن سیل ڈاکٹر محمود الحسن،حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر کے آزاد کشمیر میں نمائندے محمود احمد ساغر، غلام محمد صفی ،رفیق ڈار نے شرکت کی۔اخبارات میں شائع خبروں کے مطابق بریفنگ میں شامل کشمیری رہنماؤں نے کہا کہ پاکستانی قیادت مسئلہ کشمیر پر معذرت خواہانہ روئیہ اختیار نہ کرے اور نت نئے فارمولے پیش کرنے سے گریز کیا جائے اور اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہ لائی جائے۔پاکستان کی نئی منتخب قیادت کو بھی دفتر خارجہ مسئلہ کشمیر پر اسی نوعیت کی بریفنگ دے اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کرے،سابق پارلیمنٹ کی طرح نئی پارلیمنٹ سے بھی مسئلہ کشمیر پر قرارداد منظور کرائی جائے اور پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم رہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزارت خارجہ کے کشمیر سے متعلق روائیتی موقف کے مخصوص جملے وزارت خارجہ کی کتاب میں روائیتی طور پر درج ہیں۔مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان کے مسئلہ کشمیر سے متعلق روائتی موقف اور عملی پالیسی میں فرق نمایاں ہے۔اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کئی سینئر کشمیری یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ آخر حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی ہے کیا؟خدارا اس بارے میں کچھ بتا یا جائے کیونکہ کشمیر سے متعلق موقف اور عمل میں نمایاں تضاد اب بے نقاب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ حکومت پاکستان کا یہ روائتی موقف ’’انڈس واٹر ٹریٹی‘‘ کے وقت سے لیکر مشرقی پاکستان کے المئیے اور مقبوضہ کشمیر میں آزاد ی کی مسلح جدوجہد شروع ہونے سے ’’ رول بیک‘‘ ہونے تک روائیتی ہی رہا لیکن عملی صورتحال ’’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘‘کی صورت نااہلی پرمبنی مہلک نتائج پر منتج نظر آتی ہے ۔عملی صورتحال یہ ہے کہ حکومت پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر کی سیز فائر لائین کو لائین آف کنٹرول کانام دیتے ہوئے ایک ’’مقدس گائے ‘‘ کا درجہ دیتی ہے۔مسئلہ کشمیر کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے 1960ء میں بھارت سے مستقل بنیادوں والے ’’ سندھ طاس معاہدہ‘‘ کرتے ہوئے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر(جس کے مستقبل کا فیصلہ کیا جانا باقی ہے) کے آبی و دیگر وسائل کو مستقل طور پر بھارت کے ساتھ بانٹ لیا جاتا ہے۔کیا اس معاہدے کے ذریعے حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر کمپرومائیز نہیں کیا؟ کیا اس معاہدے کے ذریعے بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو سیز فائر لائین(کنٹرول لائین ) کی بنیاد پر تقسیم نہیں کر لیا گیا؟کیا اب بھی حکومت پاکستان سابق آمر حکومتوں کی بھارت کو کشمیر میں محض مصروف رکھنے کی پالیسی پہ قائم نہیں ؟اس طرح کے بہت سے سوالات حساس اور نہایت اہمیت و اثرات کے حامل ہیں۔اور اس طرح کے سوالات ملک کے ارباب اختیار سے کرنے کی ہمت و استطاعت ہمارے بیچارے تابعدار،پابند،مجبور اور مفاداتی رہنماؤں و نمائندوں میں کہاں۔

آئندہ چند روز میں تیسری بار پاکستان کے وزیر اعظم بننے والے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف میرے خیال میں کشمیر سے متعلق اس طرح کے اکثر اہم امور کا ادراک رکھتے ہیں اور ان کے تجربات،علم اور عزم کے حوالے سے پاکستانی عوام کے علاوہ متنازعہ ریاست کشمیر کے مظلوم،مجبور ،بے بس و عاجز باشندے وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف سے کشمیر کاز کے حوالے سے صورتحال میں نمایاں بہتری کی جائز توقع رکھتے ہیں۔

وزارت خارجہ کی اس بریفنگ میں کشمیریوں کی نمائندگی محدودا ور مخصوص نظر آئی۔کسی مکتبہ فکر کی نمائندگی نہ رکھنے والے سابق صدر سردار محمد انور خان کی شرکت بامعنی اور لبریشن فرنٹ کے سینئر رہنما امان اللہ خان اور یاسین ملک کے نمائندے رفیق ڈار کی شرکت کے باوجود یاسین ملک کی اہلیہ کی وزارت خارجہ کی بریفنگ میں شرکت باعث تعجب اور فکر انگیز ہے اور اس سے حکومت پاکستان کے کشمیریوں کی نمائندگی کا معیار بھی سامنے آ جاتا ہے۔کشمیری عوام کے جذبات کیا ہیں اور ان کی رائے کیا ہے ، یہ کہنے کا حوصلہ نہ اس طرح کی بریفنگز میں شامل ہونے والے رہنماؤں ،نمائندوں میں ہے اور نہ اتنا حوصلہ ارباب اختیار میں نظر آتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی حقیقی آواز کو سن سکیں اور اس کی روشنی میں اپنی ناکام و بدنام کر دینے والی پالیسیوں میں اصلاح لائیں۔پاکستان کو درپیش بہت سے سنگین ترین مسائل کے ہوتے ہوئے بھی حقیقیت میں مسئلہ کشمیر بنیادی اہمیت کا حامل ایسا مسئلہ ہے جو ہر عنوان سے پاکستان کو شدید متاثر کرتا ہے۔ لیکن میرے کہنے سے کیا ہوتا ہے پاکستان کے ’’تھنک ٹینک‘‘اور پالیسی ساز تو ایسا نہیں سمجھتے۔

30 May 2013