سول ملٹری اختلافات کا خاتمہ وقت کی ضرورت

Founder Editor Tazeen Akhtar..

ڈاکٹر سید قلب نواز

موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظراس وقت پاکستان کو اندرونی و بیرونی طور پربے شمار چیلنجز کا سامنا ہے،ڈان لیکس کی تحقیقات رپورٹ کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے ٹویٹ کا جاری ہو نا او راس کو کاونٹر کر نے کیلئے حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بیانات کے بعد ملک میں الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا اور دیگرذرائع ابلاغ پر ایک نئی بحث اور تجزیوں کا آغاز عروج پر ہے ۔ اس نازک مرحلہ میں اگر کالم نگار،بلاگرزاور تجزیہ نگا رپارٹی بنے بغیر اپنے بے لاگ تبصروں اور تجزیوں میں اگر جمہوری و عسکری قوتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کے ساتھ سا تھ ریاستی اداروں کو انکے اختیارات سے تجاوز کرنے کا احساس دلاتے ہوئے اداروں کے مابین اختلافات اور آپس کے بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرنے میں اپنا مثبت کر دارادا کریں تویقیناًہمارے ملک کے ادارے بھی مضبوط ہو نگے اور ملک کو ترقی کی طرف گامزن کرنے سمیت ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑ ا کر نے سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔ ملک کی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ اس نازک مرحلہ پر جمہوری و عسکری اداروں کو قومی سلامتی جیسے امور پر سیاست بازی یا سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے اجتناب کر تے ہوئے برد باری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ آئین پاکستان میں تمام اداروں کے اختیارات اور کردار وضع ہیں اگر ہم آئین پاکستان کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ کہیں پر بھی کسی چھوٹی سی شق میں یہ تحریر نہیں ہے کہ اسلامی جمہویہ پاکستان کا آئین کسی ریاستی ادارہ کو اپنی من مرضی کرنے اور اختیارات سے تجاوز کر نے کاحق دیتا ہو،

یہ حقیقت ہے کہ روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی خبر نے ملکی سلامتی کو ٹھیس پہنچایا جس سے تاثر ملا کہ جمہوری اور عسکری قیادت ایک پیج پر نہیں اورعسکری قیادت کی جانب سے اس خبر پر سخت رد عمل کے بعد انکوائری بورڈ بنایا گیا اور اس کے فیصلہ آنے کے بعد30اپریل 2017کی دوپہر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد کی جانب سے ڈان لیکس انکوائری کے پیرا18 کی وزیر اعظم کی جانب سے منظوری بارے سیکریٹری داخلہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ،جب کہ اسٹیبلشمنٹ، کابینہ اور اطلاعات ونشریات کے سیکریٹریوں کو اس کی نقول بھجوائی گئیں خط میں کہا گیا کہ خبر کی اشاعت کے حوالے سے انضباطی کارروائی کے لئے روزنامہ ڈان کے ایڈیٹرظفر عباس اور رپورٹر سرل ایلمڈا کا معاملہ اے پی این ایس کے حوالے کر دیا جائے۔ خط میں اے پی این ایس کو قومی سلامتی سے متعلق امور سے متعلق خبروں کی اشاعت کے بارے میں ضابطہ اخلاق تیار کرنے کے لئے کہا گیا ہے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہا گیا کہ آئندہ ا ن معاملات پر کسی خبر کی اشاعت کے وقت صحافتی اقدار کو پیش نظر رکھا جائے خط میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین علی کے خلاف 1973ء کے قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کرنے کا کہا گیاہے

وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی سے ان کا منصب واپس لینے کا کہا گیا وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے متعلقہ سیکریٹریوں کو ڈائریکٹو کی روشنی میں ضروری ہدایت کی گئی۔جس کے رد عمل میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جلد بازی میں کئے جانے والا ٹویٹ کہ ’’ڈان لیکس پر نوٹیفیکیشن نامکمل ہے، انکوائری بورڈ کی سفارشات کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا لہذا یہ نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ عمل ریاستی ادارے کی جانب سے جمہوری قیادت پر بد اعتمادی ظاہر کرتا ہے۔اور عوام بھی جانا چاہتی ہے کہ ڈان لیکس پر انکوائری رپورٹ میں ایسی کون سی بات ہے جو وزیر اعظم کی جانب سے جاری کئے گئے ڈائریکٹو میں پوشیدہ رکھی گئی ہے جو فوج کی ’’ناراضی‘‘ کا باعث بنی ہے۔یہ بد اعتمادی ملک اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہے ۔مسلم لیگ کی دور حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہمیشہ حکومت اور فوج کے درمیان خوشگوار تعلقات پیدا کرنے میں ’’پل‘‘ کا کردار ادا کیا ہے اس موقع پر بھی ڈان لیکس پر سول ملٹری تعلقات خراب ہونے سے بچانے کے لئے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے دبنگ انٹری ڈالتے ہوئے اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیااور جرات مندانہ انداز میں وضاحت کی کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کا خط وزارت داخلہ کے لئے ایک مراسلہ سے زیادہ کچھ نہیں اور نہ ہی وزارت داخلہ کی طرف سے کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، نوٹیفکیشن جاری کرنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔

اس موقع پر ملک کے دو بڑے سٹیک ہو لڈر کی محاذ آرائی ملک کے جمہوری نظام کیلئے اچھاا شگون نہیں ۔ ملک کے سنجیدہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ڈان لیکس غلط ہے اور اس ایک خبر نے ملکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ بالکل اسی طرح آئی ایس پی آر کے ٹویٹ نے بھی منفی اثر دکھایا ہے۔ اس عمل سے پوری دنیا میں پاکستانی جمہوری نظام حکومت کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔پاکستانی عوام پاک فوج کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جس طرح عسکری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک و قوم کی حفاظت اور سلامتی کی بقا اور دہشتگردودں کے مکمل خاتمے کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں اسی طرح سیاستدانوں سے بھی اُمید رکھتے ہیں کہ وہ نان ایشوز کی بجائے اُن مسائل کو اجاگر کریں جو براہ راست عوام سے متعلق ہوں،اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ امن وامان، صحت کی سہولیات کا فقدان ، مہنگائی، بے روزگاری ،لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ سیاستدانوں کی ترجیحات میں شامل ہو نا چاہیے۔ افسوس قومی سلامتی جیسے امور بھی سیاست کی نذر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسے امور پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز کیا جائے حکومت اور ریاستی اداروں کو چاہئے کہ آپس میں رسہ کشی کے بجائے ملکی اور عوامی مفادات کا خاص خیال رکھتے ہوئے ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کی اشاعت اور عمل درآمد کے حوالے سے حکومت اور فوج کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا نہایت ضروری ہے ۔