سمندروں کو انسانوں سے لا حق خطرات ۔ نغمانہ ظفر

Founder Editor Tazeen Akhtar..

کراچی میں رہتے ہوئے کوئی بھی سمندر کے نظارے سے محروم نہیں رہ سکتا۔ سمندر تک رسائی شہر کو بے شمار معاشی نعمتوں سے نوازتی ہے اور معاشرتی ثقافتی زندگی کو نت نئے رحجانات سے ہمکنار کرتی ہے۔ پاکستان کا ساحلی علاقہ سر کریک سے گواتر بے تک 1001کلومیٹر پر محیط ہے لیکن کراچی ایک قابلِ ذکر ساحلی شہر ہے جس کو عالمی حیثیت حاصل ہے۔ کراچی کی دو بندر گاہوں سے ملک کی 99فیصد تجارت ہوتی ہے۔ ملک کا اکثر ساحلی علاقہ بمشکل آباد ہے اور تقریباً آلودگی سے پاک ہے۔ تاہم بحری آلودگی کی بڑی وجہ مقامی آبادی ہے اور یہ آلودگی کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ 



شہر ملکی آبادی کے تقریباً9فیصد اور ملکی صنعت کے تقریباً 60فیصدکے برابر ہے۔ کراچی کی ساحلی پٹی کے بحری ماحول کو آلودگی اور صنعتوں و شہری انتظامیہ کے فُضلے کے ذخائر کی وجہ سے شدیدخطرات کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد شمار کے مطابق 472ملین گیلن گندا پانی روزانہ سمندر میں پھینکا جاتا ہے۔ کراچی شہر میں اس وقت تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ہیں جو روزانہ زیا دہ سے زیادہ 150ملین گیلن پانی کو صاف کر سکتے ہیں لیکن یہ پلانٹ صرف 51ملین گیلن پانی صاف کر رہے ہیں۔ مقامی آبادی دیگر اداروں سے مل کر اس صورت سے نمٹنے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ ڈی ایچ اے فیزVIII، پاکستان نیول اکیڈمی منوہڑہ اور کار ساز میں واقع نیوی کی رہائشی کالونی میں چھوٹے درجے کے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب خوش آئند ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کی حوصلہ افزاء مثالیں ہیں ، تاہم کراچی شہر کو روزانہ322ملین گیلن پانی کی صفائی کا انتظام درکار ہے جو کہ عرصہ دراز سے تکمیل کے منتظر گریٹرکراچی سیورج پلان کی تکمیل سے ممکن ہے۔ 



سیوریج کے پانی کے علاوہ کراچی کی 10,000صنعتی یونٹس روزانہ80ملین گیلن مائع صنعتی فضلہ پیدا کرتی ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والا 18,000سے 20,000 ٹنٹھوس فضلہ اس کے علاوہ ہے ۔ بد قسمتی سے بیشتر ٹھوس فضلے کو سمندر بُرد کیا جاتا ہے کیونکہ اس فضلے کو ٹھکانے لگانے کی سہولیات کی کراچی میں کمی ہے۔ 



مزید تکلیف دہ صورت حال یہ ہے کہ کم درجے کے مدوجزر اور سمندری طوفان کی وجہ سے کئی جگہوں پر نا قابلِ برداشت بدبو اورتعفن پھیل جاتا ہے ۔ اور موسم کی تبدیلی کے وقت ساحلی مکین وبائی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ساحلی علاقوں سے دور دریا کے بالائی رُخ پر واقع کھیتوں میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات، نباتات کش ادویات اور کیمیائی کھادیں بھی سمندر کا حصہ بنتی ہیں ۔ کیمیائی کھادوں اور کیمیکل اسپرے کے اثرات مقامی ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے سمندر تک پہنچتے ہیں۔ یہ کیمیکلز عام طور پر نائٹروجن سے بھر پور ہوتے ہیں جو آبی پودوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور پانی سے آکسیجن کا خاتمہ کر دیتے ہیں ۔

اس طرح کے علاقوں میں بحری حیات کا وجود مشکل ہو جاتا ہے اوروہ بنجر اور مردار علاقہ(ڈیڈ زون) بن جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں اس طرز کے 500مردار علاقے دریافت ہو چکے ہیں ۔ سائنسدانوں نے حال ہی میں بحیرہ عرب میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیڈ زون کی دریافت کی ہے جو خلیج عمان میں ہے ۔ اس ڈیڈ زون میں آبی حیات کو شدید ماحولیاتی خطرات لاحق ہیں جس سے انسانوں پر معاشرتی اقتصادیات کے ضمن میں منفی اثرات بھی مرتب ہوں گے ۔ ماہی گیروں اور در آمد گان کی ایک کثیر تعداد بحیرہ عرب کے بحری وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ پاکستان کے میری ٹائم خطے ویران ہونے سے محفوظ ہیں اور ان میں آبی حیات جاوداں ہے لیکن خلیج عمان کے ڈیڈ زوون کے چھلکتے ہوئے اثرات ہمارے ساحلی علاقوں کے لئے باعث تکلیف ہو سکتے ہیں ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے میرین پروٹیکٹیڈ ایریا کی نشاندہی خطے میں جدید اوشن گورننس کی جانب ایک بنیادی اقدام ہے۔ استولا آئی لینڈ کے بعد دریائے سندھ کے مخصوص اقتصادی زون کی آبی حیات کے لئے محفوظ علاقے کے طور پر نشاندہی ہوئی ہے۔ دریا ئے سندھ کا مخصوص اقتصادی زوون جو آبی حیات کی مخصوص آماجگاہ ہے کا رقبہ27,607مربع کلومیٹر ہے جسکو بحیرہ عرب کا سب سے بڑا میرین پروٹیکٹیڈ ایریا کہا جاسکتا ہے۔



مقامی اور علاقائی خطرات کے مرکب نے ہماری ساحلی ایکو سسٹم، اُن کے فوائد اور ساحل پر آباد لوگوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ زائد از ضرورت ماہی گیری، گندے مادہ اور ٹھوس آلودگی کا سمندرمیں ذخیرہ کرنا، مینگرووز کی تلفی، مسکنی تغیر و تبدیلی، حیاتی ماحول کا تحفظ جیسے روایتی خطرات اور سب سے بڑھ کر میری ٹائم مسائل سے لا علمی ملک کے میری ٹائم خطوں کے انتظام و بندوبست کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہیں۔ مزید برآں آب و ہوا میں تبدیلی کے مسائل اور بحری تیزابیت روایتی ماحولیاتی خطرات کے اثرات کو مزید بڑھاتے ہیں۔ روایتی خطرات سے نمٹنے کے لئے قانون اور پالیسیوں پر سختی سے عمل در آمد نہایت ضروری ہے لیکن سمندروں کی افادیت کے بارے میں شعور و آگہی پھیلا کر بقائے حیات اور ماحول دوست زندگی کوفروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ خیال عام ہے کہ سمندراور دریا وسیع تر اور گہرے ہوتے ہیں اس لیے کوڑا کرکٹ، آئل ، گندا پانی ، کمیکلز، پلاسٹک اور دیگر ناکارہ اشیاء ان میں پھینکی جا سکتی ہیں ۔ اس خیال کے انتہائی مظہراثرات و نتائج ہیں ۔ یہ بے اعتنائی فیشن کے طور پر ایک ہی سوچ بن گئی ہے کہ’’ آلودگی کا حل پانی میں آمیزش ہے‘‘۔



سمندروں کے متعلق آگہی کے فروغ کے سلسلے میں عالمی برادری ہر سال 8جون کو سمندروں کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس دن کا آغاز 1992 میں اقوامِ متحدہ کی ارتھ سمٹ سے ہوا جس کا سہرا ڈال ہاؤس یونیورسٹی کے پروفیسر اور انٹر نیشنل اوشننز انسٹیٹیوٹ کے خالق الزبتھ مان بورگیز کے سر ہے۔ اس شمع کو روشن رکھنے کے لئے سمندروں کے تحفظ کے لئے آج تک یہ دن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ سمندروں اور بحری وسائل کی افادیت کو عیاں کرنے کے لئے تعلیمی اداروں میں وائس اور علمی مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 

ہر چند کہ ساحلوں اور سمندروں سے التفاف زمین پر بسنے والے ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ نمکین پانی کے یہ بڑے بڑے نیلے ذخائر آکسیجن کا 50فیصد پیدا کرتے ہیں اور موسم کو اعتدال پر رکھتے ہیں۔ آبی خوراک، جہاز رانی ،سیاحت، ساحلی علاقوں سے پیدا ہونے والی انرجی اور سائنس سے متعلقہ سر گرمیوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

سمندروں کی سیاسی اور دفاعی اہمیت کو کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتا۔ پس زمین پر زندگی کی بقاء کا انحصار سمندروں پر ہے ۔ صورت حال کو بہتر بنانے کے سلسلے میں پاکستان میں کئی ادارے مصروف عمل ہیں۔ اس ضمن میں انٹر نیشنل یونین فار کنز رویشن آف نیچرکا کردار، پاک بحریہ کی مینگرووز اُگاؤ مہمات ،ڈبلیو ڈبلیو ایف پی کی میرین پروٹیکیڈ ایریاز کے لئے کاوشیں اور خطرے میں گھرے جانداروں کی حفاظت، ساحل کی صفائی،غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے آگہی سر گرمیوں کا انعقاد، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشنو گرافی اور تعلیمی اداروں کی تحقیقات وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن سمندروں کو درپیش حالیہ چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر ایک فرد کی انفرادی کاوشیں انتہائی لازمی ہیں ۔

موجودہ چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا فوری بہترین طریقہ یہ ہے کہ پلاسٹک کے استعمال کا خاتمہ کیا جائے اور حلقہ احباب میں ماحول کو بر قرار رکھتے ہوئے سمندروں کے استعمال کے متعلق آگہی کو فروغ دیا جائے۔ سمندروں کے عالمی دن کو ہر سال منانا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سمندروں کی حفاظت کے ذریعے خوبصورت اور مختلف النوع سمندروں کو یقینی بنائیں۔ زندگی کے روزمرہ معاملات میں ڈسپوزیبل اشیاء کے استعمال کو کم سے کم کریں ۔ ضیاع اور ناکارہ پن سے بچنے کے لئے چیزوں کو دوبارہ استعمال کریں اور کوڑا کر کٹ کی مقدار کو کم کرنے کے لئے چیزوں کو ری سائیکل کریں۔ ہماری چھوٹی سی کوشش بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔