سرگودھا یونیورسٹی، وائس چانسلر اور منظور نظر افراد کی غیر قانونی تقرریوں و ترقیوں کے کیس میں وائس چانسلر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے جواب داخل نہ کروانے پر عدالت برہم

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد۔ جمعرات کے روز لاہورہائیکورٹ میں وائس چانسلرسرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمدکی تقرری چیلنج کرنے کے اہم ترین کیس کی سماعت ہوئی جس میں فریقین کے وکلاء نے جسٹس شاہد کریم کے روبرو دلائل پیش کئے جبکہ فریقین کے وکلاء کو حتمی دلائل کیلئے پیر 19 مارچ تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی نیز میرٹ پامال کرتے ہوئے کی گئی منظور نظر افراد کی غیر قانونی تقرریوں و ترقیوں کا کیس بھی جمعرات کو جسٹس علی باقر نجفی کی عدالت میں سنا گیا جس میں جج موصوف نے وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جواب داخل نہ کروائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ 29 مارچ تک ہر صورت جواب داخل کروایا جائے بصورت دیگر وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد خود عدالت میں پیش ہوکر وضاحت کریں۔



تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وائس چانسلر کی تقرری چیلنج کرنے کے کیس کی سماعت کے موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد کی جانب سے جواب داخل کروائے جانے کے بعد فریقین کے وکلاء کے دلائل سنے اور انہیں پیر 19 مارچ کو حتمی دلائل پیش کرنے کا حکم دیا جس کے فوری بعد کیس کا فیصلہ متوقع ہے۔ عدالت کے روبرو پٹیشنر حسنین رضا باروی ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیاہے کہ وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد کو ایچ ای سی،ایچ ای ڈی اور خود سرگودھا یونیورسٹی کے قوانین، انتظامی تجربہ و دیگر شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرٹ کے برعکس بھرتی کیا گیا ہے لہٰذا عدالت ڈاکٹر اشتیاق احمدکو بطور وی سی تقرر کیلئے نا اہل قرار دیتے ہوئے انکی تقرری منسوخ کرنے کا حکم دے۔



دوسرے مقدمہ میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی کی عدالت میں سرگودھا یونیورسٹی میں میرٹ کو پامال کرتے ہوئے کی گئی منظور نظر افراد کی ناجائز و غیر قانونی تقرریوں و ترقیوں کے کیس کی سماعت بھی جمعرات کو ہوئی۔اس موقع پر جج موصوف نے وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جواب داخل نہ کروائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ 29 مارچ تک ہر صورت جواب داخل کروایا جائے بصورت دیگر وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی 29 مارچ کو خود عدالت میں پیش ہوکر وضاحت کریں۔انہوں نے غیر قانونی بھرتیوں کا دفاع کرنے پربھی وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد پر برہمی کا اظہار کیا۔



پٹیشنر محمدشفیق مرزا نے اپنی پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرگودھا یونیورسٹی میں ایڈیشنل رجسٹرار اظہار الحق ،ایڈیشنل ٹریژرمحمد مقصود ،اسسٹنٹ رجسٹرار محمد فاروق ،ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر محمد بشیر ،اسسٹنٹ رجسٹرار محمد شفیق الرحمان ،اسسٹنٹ رجسٹرار فارق احمد ،ڈپٹی ٹریژرفیاض الحق ،ڈپٹی کنٹرولر مقصود احمد ،اسسٹنٹ ٹریژرمحمد مقصود ،لیکچرار محمد طلال اور اسسٹنٹ پروفیسر اعجاز اصغر بھٹی وغیرہ کی تقرریاں خلاف قانون اور بلا اشتہار کی گئی ہیں جبکہ مذکورہ غیر قانونی بھرتیوں پر یونیورسٹی کے کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں۔



انہوں نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل پنجاب بھی سرگودھا یونیورسٹی میں 16افراد کی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے کر محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کو انہیں نکالنے کا حکم دے چکے ہیں مگر وائس چانسلرغیر قانونی بھرتیوں کے خلاف کارروائی نہیں کررہے۔